روشنی

لذتِ ذکر کی وجد آفرینی…… مفتی محمد وقاص رفیع

اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اُس کی یاد میں منہمک اور لگے رہنا بندہِ مومن کی شان اور اُس کا جزوِ ایمان ہے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اُس کی یاد سے غافل اور لاپرواہ رہنا بڑی ہی بدنصیبی اور شقاوت قلب کی علامت ہے۔ ہم لوگ ہر آن، ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی کتنی ہی نعمتوں اور اُس کے کتنے ہی احسانات سے لطف اندوز ہوتے ہیں، لیکن اِس دوران کبھی بھولے سے بھی ہم نے یہ بات نہیں سوچی یا کم از کم کبھی ہم نے اس بات پر غوروفکر نہیں کیا کہ ہم لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اُس کے احسانات کا کتنا شکر ادا یا اُس کریم و رحیم ذات کو کتنا یاد کرتے ہیں؟
قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”تم مجھے یاد کیا کرو میں تمہیں یاد کیا کروں گا۔“(البقرہ)۔ ایک دوسری جگہ ارشاد ہے:”تم اپنے رب کو صبح و شام خوب کثرت کے ساتھ یاد کیا کرو!۔“ (آلِ عمران)
مفسرین نے لکھا ہے کہ ذکر کے اصل معنی مطلق کسی کو یادکرنے کے ہیں جس کا تعلق قلب سے ہے اور زبان سے کسی کے یاد کرنے کو ذکر اس لئے کہا جاتا ہے کہ زبان قلب کی ترجمان ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ زبانی ذکر وہی معتبر ہوتا ہے جس کے ساتھ قلب بھی اللہ تعالیٰ کی یاد میں ہو۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی یاد رکھنے ولی ہے کہ اگر کوئی شخص زبان سے ذکروتسبیح میں مشغول ہو مگر اُس کا دل حاضر نہ ہو اور ذکر میں نہ لگے تو وہ بھی فائدہ سے خالی نہیں۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ مولانا رومؒ کا شعر قدرے ترمیم وتغییر کے ساتھ اس طرح ذکر فرماتے ہیں:
بر زباں تسبیح و در دل گاؤ خر
ایں چنیں تسبیح ہم دارد اثر
ترجمہ: یعنی اگر آدمی زبان سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے اور اُس کے دل میں گاؤ خر (دُنیا وی چیزوں) کے خیالات ہوں تو تب بھی اُس کا ذکر اپنا اثر رکھتا ہے۔
حضرت ابو عثمان نہدیؒ سے کسی نے ایسی ہی حالت کی شکایت کی کہ ہم زبان سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں مگر قلوب میں اِس کی کوئی حلاوت محسوس نہیں کرتے، آپؒ نے فرمایا کہ: ”اس پر بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو کہ اُس نے تمہارے ایک عضو یعنی زبان کو تو اپنی طاعت میں لگایا ہوا ہے۔(تفسیر قرطبی)
اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے اور اُس کو یاد کرنے کے قرآن و حدیث میں بے شمار فضائل وارد ہوئے ہیں، منجملہ اُن کے یہی ایک فضیلت کچھ کم نہیں کہ جب بندہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اُسے یاد فرماتے ہیں۔ چنانچہ حضورِ اقدس ؐ کا ارشاد ہے: ”حق تعالیٰ شانہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ”میں بندہ کے ساتھ ویسا ہی معاملہ فرماتا ہوں جیساکہ وہ میرے ساتھ گمان رکھتا ہے، اور جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اُس کے ساتھ ہوتا ہوں، پس اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اُس کو اپنے دل میں یاد کرتا ہوں، اور اگر وہ میرا مجمع میں ذکر کرتا ہے تو میں اُس مجمع سے بہتر یعنی فرشتوں کے مجمع میں تذکرہ کرتا ہوں، اور اگر بندہ میری طرف ایک بالشت متوجہ ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اُس کی طرف متوجہ ہوتا ہوں، اور اگر وہ ایک ہاتھ بڑھتا ہے تو میں دو ہاتھ اُدھر متوجہ ہوتا ہوں، اور اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اُس کی طرف دوڑ کر چلتا ہوں۔ (بخاری و مسلم)
امام ابو عثمان نہدیؒ یہ بھی فرماتے ہیں کہ: ”میں اُس وقت کو جانتا ہوں کہ جس وقت اللہ تعالیٰ ہمیں یاد فرماتے ہیں، لوگوں نے پوچھا کہ آپ ؒ کو اس کی خبر کیسے ہو جاتی ہے؟ آپؒ نے فرمایا کہ: ”قرآنِ مجید کے وعدہ کے مطابق جب کوئی بندہِ مومن اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اُسے یاد فرماتے ہیں، اس لئے سب کو یہ سمجھ لینا آسان ہے کہ جس وقت ہم اللہ تعالیٰ کی یاد میں مشغول ہوں گے تو اللہ تعالیٰ بھی ہمیں یاد فرمائیں گے۔“
ایک حدیث میں آتا ہے ایک صحابیؓ نے عرض کیا: ”یارسول اللہ ؐ! احکام تو شریعت کے بہت سے ہیں ہی، مجھے ایک چیز کوئی ایسی بتا دیجئے جس کو میں اپنا دستور اور اپنا مشغلہ بنالوں“ حضور ؐ نے ارشاد فرمایاک: ”اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تم ہر وقت رطبُ اللّسان رہا کرو۔“(ترمذی، ابن ماجہ)
حضرت ابودرداء ؓ فرماتے ہیں کہ جن لوگوں کی زبان اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تروتازہ رہتی ہے وہ جنت میں ہنستے ہوئے داخل ہوں گے۔ (فضائل ذکر)
ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ چار چیزیں ایسی ہیں کہ جس شخص کو یہ مل جائیں اُس کو دین و دُنیا کی بھلائی مل جائے (1) وہ زبان جو اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہنے والی ہو (2) وہ دل جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اُس کے احسانات کے شکر میں مصروف ہو (3) وہ بدن جو اللہ تعالیٰ کی عبادات میں مشقت برداشت کرنے کا عادی ہو (4) وہ بیوی جو اپنے نفس میں اور خاوند کے مال میں خیانت نہ کرے۔
حکیم ترمذیؒ فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ کا ذکر دل کو تر کرتا ہے اور اُس میں نرمی پیدا کرتا ہے اور جب دل اللہ تعالیٰ کے ذکر سے خالی ہوتا ہے تو نفس کی گرمی اور شہوت کی آگ سے خشک ہو کر سخت ہو جاتا ہے، سارے اعضاء بھی سخت ہو جاتے ہیں اور طاعت سے رُک جاتے ہیں، اگر اِن اعضاء کو کھینچو تو ٹوٹ جائیں گے جیسے کہ خشک لکڑی کہ جھکانے سے نہیں جھکتی بلکہ صرف کاٹ کر جلادینے کے کام کی رہ جاتی ہے۔
ایک حدیث قدسی ہے، حضرت ابو ہریرۃؓ فرماتے ہیں: ”حق تعالیٰ شانہ ارشاد فرماتے ہیں ”میں اُس وقت تک اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں جب تک وہ مجھے یاد کرتا رہتا ہے اور اُس کے ہونٹ میرے ذکر اور میری یاد میں ہلتے رہتے ہیں۔“
حضرت معاذ بن جبلؓ فرماتے ہیں: ”انسان کا کوئی عمل اُس کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلانے میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے برابر نہیں۔“
حضرت ذوالنون مصریؒ فرماتے ہیں: ”جو شخص حقیقی طور پر اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے تو وہ اُس کے مقابلہ میں ساری چیزوں کو بھول جاتا ہے اور اُس کے بدلہ میں حق تعالیٰ شانہ خود اُس کے لئے ساری چیزوں کی حفاظت کرتے ہیں اور تمام چیزوں کا عوض اُس کو عطا فرمادیتے ہیں۔ (معارف القرآن)
ایک حدیث میں آتا ہے حضور نبی پاک ؐ نے ارشاد فرمایا: ”جو تم میں راتوں کو محنت کرنے سے عاجز ہو اور بخل کی وجہ سے (نفلی صدقات وغیرہ میں) اپنا مال بھی نہ خرچ کر سکتا ہو اور بزدلی کی وجہ سے جہاد میں بھی شرکت نہ کر سکتا ہو تو اُسے چاہیے کہ وہ کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرے۔“ (طبرانی، بیہقی)
الغرض بندہِ مومن کو چاہیے کہ وہ ہمہ وقت اللہ تعالیٰ کی یاد میں مشغول رہے اور غیر اللہ کو اپنے دل سے نکال دے کہ دلوں کے سکون و قرار کا راز اسی میں مضمر ہے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اُس کی یاد ہی بندہِ مومن کے دل کے سکون و اطمینان کا اصلی ذریعہ ہے۔

Leave a Reply

Back to top button