Uncategorized

لندن اور اسلام آباد

اطہرباجوہ۔۔۔
لندن دنیا میں ایک بہتر معاشی شہر کی اہمیت رکھتا ہے اور دنیا بھر سے لوگ یہاں روز گار کے لئے آتے ہیں اور اسی طرح پاکستانی بھی روزگار اور طلبا تعلیم کے لئے لندن کا رخ کرتے ہیں ،اسی لئے لندن میں ہر نسل رنگ نظر آئے گا ۔جہاں کسی کو کسی دوسرے سے غرض نہیں کہ وہ کیا کرتا ہے کہاں آتا کہاں جاتا ہے اور کیا پہنتا ہے ۔لندن میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے ،یہاں یہ بات بھی قابل امر ہے کہ پاکستان کی سیاست کا بھی ایک گہر ا تعلق برطانیہ اور دنیا کے مشہور شہر لندن سے رہا ہے ،پاکستانی سیاست کے علاوہ یہ شہر پاکستانی سیاست دانوں کا ہمیشہ سے مسکن رہا ہے اور کسی بھی سیاسی مہم جوئی لندن کا ہمیشہ سے اہم کردار رہا ہے ۔اسی سلسلہ کی ایک کڑی گزشتہ کچھ عرصے سے بھی خبروں کی زد میں ہے جب پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے اسلام آباد میں دھرنا دیا اور عمران خان اور طاہر القادری کی ملاقات کی تصدیق ہونے کے بعد حکومتی حلقوں کی جانب سے اس کو لندن پلان کا نام دیا گیا اور کہا گیا یہ سازش لندن میں تیار ہو ئی لیکن جب طاہر القادری نے دھرنا ختم کر دیا تو نہ جانے ان مقتدر حلقوں نے حکومت اور طاہر القادری کے درمیان مذاکرات کو اسلام آباد پلان کا نام کیوں نہیں دیا گیا ۔خیر اللہ بہتر جانتا ہے طاہر القادری کے دھرنے کا کیا نتیجہ نکلا اور عمران خان کے دھرنے کا نتیجہ کیا نکلے گا ۔اس وقت بھی وزیر اعظم نواز شریف گزشتہ دنوں لندن میں موجو د تھے اور سابق صدر زرداری اور چودھری شجاعت حسین بھی لندن میں موجود تھے تو کہا جاتا رہا کہ کچھ ہونے جا رہا ہے آخر ہم کب تک اس بات پر رہیں گے کہ کچھ ہونے جا رہاہے کیا حکومت رہی گی یا نہیں رہے گی ۔خیر پاکستان سیاست ،سیاست کی بجائے ایک بریکنگ نیوز زیادہ ہے جہاں ہر وقت کسی نہ کسی ایڈونچرزم کی ہر وقت آرزو رہتی ہے ۔خیر بات لندن اور پاکستانیوں کی ہو رہی تھی یہاں لندن میں مقیم پاکستانیوں کی اکثریت پاکستان کے مقابلے میں خوشحال ہیں اور قدرے بہتر زندگی گزار رہے ہیں ،یہاں ان کو تعلیم ،صحت اور دندگی کی بہتر سہو لیات میسر ہیں ۔ان پاکستانیوں میں اکثریت ایسی ہے جن کے خاندان کے اکثر افراد پاکستان میں آباد ہیں اور لندن سے کثیر سرمایہ پاکستان بجھوایا جاتا ہے جو پاکستان کی معشیت میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔یہاں برطانیہ میں رہنے والے پاکستانی جسمانی طور پر تو لندن میں موجود ہیں لیکن زہنی طور پر وہ پاکستان میں ہی موجود ہیں پاکستان سے آنے والی کسی بھی خبر کو لندن کی خبر سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور پاکستان کے لئے ایک درد ان کے سینوں میں موجود ہے ۔یہاں ہونے والی پاکستانیوں کی کسی بھی محفل میں اگر تذکرہ ہوتا ہے تو پاکستان کے حالات کا ہوتا ہے اور اسی بات کا ہوتا ہے کہ نہ جانے کب ہمارے حکمران اپنے کاروبار چھوڑ کر اپنے ملک کے شہریوں پر توجہ دیں گے اور کب پاکستان میں امن آئے گا ۔یہاں برطانیہ میں عام آدمی کی طاقت شاید وزیر اعظم سے بھی زیادہ ہے کہ ایک شہری بھی حکومتی پالیسیوں کے خلاف سڑک پر آئے جائے تو حکومت کی نیندیں حرام ہو جاتی ہیں ،جہاں تعلیم صحت اور بنیادی ضروریات اعلی درجے کے پیمانے پر موجود ہیں وہاں حکومت اور ادارے ہمہ وقت ان میں بہتری کے لئے جدو جہد کرتے ہیں ،اس کے برعکس ہماری عوام ہر روز موت کے منہ میں جاتی ہے لیکن ہمارے حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رییگتی ۔یہاں کے حکمران عوام کے ٹیکس کو عوام کی فلاح کے لئے خرچ کرتے ہیں اور حکومتی خزانے سے بھی مدد لینا پڑے تو لیتے ہیں اس کے برعکس اسلام آباد کے حکمران اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف ہیں ۔
یہاں پاکستان سے تعلق رکھنے والے اگر چہ یہاں خوشخال ہیں لیکن ان کے دلوں سے ایک ہی دعا نکلتی ہے کاش ارض پاک کے حالات ساز گارہوں اور روز گار کے مواقع میسر ہوں تو وہ اپنی سرزمین پر جا کر آبا د ہو سکیں اس کے لئے شائد ہمیں حقیقت میں ایک ایسے لیڈر کی ضرورت ہو جو عوامی ہو اور عوام کے درد کو جانتا ہو وگرنہ عوام کی رگوں سے خون کم ہو تا جائے گااور اس کا انجام ہر اہل عقل جانتا ہے ۔

Leave a Reply

Back to top button