تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

لونگ صدیوں سے صرف کھانوں کی مہک ہی نہیں، دوائی بھی ہے

ماہرین غذائیت کے مطابق لونگ میں وٹامن سی، فائبر، مینگنیز، اینٹی آکسیڈنٹ ایجنٹ بھرپور مقدار میں پایا جاتا ہے۔ جبکہ ماہرین کے مطابق لونگ ایک زبردست اینٹی آکسیڈنٹس چیز ہے۔لونگ کے تیل میں یوجینول 72–90 فیصد ہوتا ہے جسے جسمانی امراض کے لیے بہترین تصور کیا جاتا ہے۔

پاکستان کا کوئی گھر ایسا نہیں ہو گا کہ جہاں پر لونگ کا استعمال نہ ہوتا ہو۔ لونگ نہ صرف کھانوں میں مہک اور ذائقے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے بلکہ یہ ادویات میں استعمال کی جاتی ہے۔ ماہرین نے اس چھوٹی سی شے کے کئی اہم خواص دریافت کیے ہیں جو انسانوں میں شفا کی وجہ بن سکتے ہیں۔

لونگ کی تاریخ:
لونگ (انگریزی: Clove) لونگ ایک درخت کے خوشبودار پھولوں کی کلیاں ہیں۔ یہ جزائر ملوک، انڈونیشیا کا مقامی پودا ہے اور عام طور پر ایک مصالحے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ لونگ تجارتی طور پر انڈونیشیا، بھارت، مڈغاسکر، زنجبار، پاکستان، سری لنکا اور تنزانیہ میں کاشت کیا جاتا ہے۔لونگ برصغیر میں پکوان میں شامل کے جانے والے مصالحوں کا خاص جزو ہے۔

اِس کا درخت چھوٹے قد کا ہوتا ہے۔اِس کے پتے لمبے، نوکیلے اور خوشبودار ہوتے ہیں۔ درخت کو نو سال کی عمر کے بعد پھول آنے لگتے ہیں اور اِنہی پھولوں کی کلیوں کو کِھلنے سے پہلے ہی توڑ کر خشک کر لیا جاتا ہے اور پھر خشک حالت میں یہ لونگ کہلاتے ہیں۔ لونگ کا پھول آدھ اِنچ کے قریب لمبا اور خوشبودار ہوتا ہے۔

لونگ کی تاریخ کا قدیمی ثبوت 1721 قبل مسیح سے ملتا ہے جب شام کے کھنڈروں میں سے ایک جار کے اندر محفوظ شدہ لونگ دریافت ہوئے۔ چین میں تیسری صدی قبل مسیح میں ہان سلطنت کے دور میں لونگ کا تذکرہ ملتا ہے جب عوام میں لونگ چبانے اور منہ کی تازگی کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔

قرون وسطی کے زمانہ میں مسلم تاجروں نے بحیرہ ہند کی تجارت کے راستے سے بھی لونگ کی فراہمی وسطی ایشیائی ممالک اور افریقی ممالک تک ممکن بنائے رکھی۔ ابن بطوطہ نے بھی لونگ کی تجارت کا ذِکر کیا ہے۔ عربی کے ادبی شاہکار الف لیلہ میں بھی مذکور سندباد جہازی کے واقعے میں پتا چلتا ہے کہ وہ ہندوستان سے عرب ممالک میں لونگ کی تجارت کیا کرتا تھا۔

ماہرین نباتات کا خیال ہے کہ لونگ کا درخت دنیا میں آباد قدیمی درختوں میں سے ایک ہے اور اِس کی موجودگی کے آثار 2000 قبل مسیح سے بھی ملتے ہیں۔ 1770ء میں فرانسیسی ماہر نباتات پیئرے پوئیور نے لونگ کا ایک درخت جو اُس نے بڑی احتیاط سے چرا لیا تھا، جزائر ملوک سے آئل دی فرانس (ماریشس) پہنچایا جہاں سے وہ درخت زنجبار پہنچا دیا گیا اور زنجبار میں اِس درخت کی موجودگی اٹھارہویں صدی کے ساتویں عشرے سے قبل نہیں ملتی اور اِسی نایاب درخت کے باوجود زنجبار لونگ کی تجارت کرنے والا بڑا ملک بنا۔1602ء سے 1799ء تک ولندیزی ایسٹ انڈیا کمپنی بھی جزائر ملوک، انڈونیشیا، ملائیشیا سے لونگ کی تجارت یورپ اور ہالینڈ سمیت یورپی ممالک میں کرتی رہی۔ولندیزی ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور میں جزائر ملوک کے تمام علاقوں میں لونگ کی کاشت کے لیے ہر علاقے میں لونگ کے درخت بکثرت لگائے گئے۔

لانگ میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
ماہرین غذائیت کے مطابق لونگ میں وٹامن سی، فائبر، مینگنیز، اینٹی آکسیڈنٹ ایجنٹ بھرپور مقدار میں پایا جاتا ہے۔ جبکہ ماہرین کے مطابق لونگ ایک زبردست اینٹی آکسیڈنٹس چیز ہے۔لونگ کے تیل میں یوجینول 72–90 فیصد ہوتا ہے جسے جسمانی امراض کے لیے بہترین تصور کیا جاتا ہے۔

1 2 3 4اگلا صفحہ

Leave a Reply

Back to top button