تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

لون پرانی کھانسی اور اعصابی کمزوری کو موثر علاج

لوبان میں ایسڈ ریسن 6فیصد پائی جاتی ہے، 30سے36فیصد گوند، 3فیصد ایسیٹل بیٹا (باسویلک ایسڈ)،بوسویلک ایسڈ، سوڈیم بینزویٹ، اینٹیسول ایسیٹیٹ، C21H34O3 اور فیلینڈرین پائے جاتے ہیں۔

خوشبو اور علاج کے طور پر چھ ہزار سال سے استعمال کیا جانے والا لوبان (قدیم فرانسیسی زبان ‘فرانک اینسینس’ سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے ‘خالص خوشبو’۔لوبان پرانے دور کی ایسپرین، پینسیلین اور ویاگرا بھی تھا، اس کو بواسیر سے لے کر ماہواری کی تکلیف اور میلانوما یعنی رسولی تک ہر چیز کا موثر علاج سمجھا جاتا تھا۔ یونانی فوج کے معالج پیڈینیئس ڈیوسورسائڈس نے لوبان کو ایک عجیب و غریب دوا قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ چپچپی گوند ‘السر کے کھوکھلے پن کو بھر سکتی ہے’ یا ‘خونی زخموں کو ایک ساتھ جوڑ سکتی ہے۔

لوبان کا درخت:
لوبان کا درخت حبس زدہ آب و ہوا والے علاقے میں اگتا ہے جو ہارن آف افریقہ سے انڈیا اور جنوبی چین تک واقع ہے۔یہ کانٹے دار بڑا درخت ہے۔جس کی شکل لگ بھگ بلوط کے درخت کی طرح ہوتی ہے۔اس کے کانٹے اور پتے جب پک جاتے ہیں تو سرخ ہوجاتے ہیں۔بعض اطباء کے نزدیک یہ درخت املی کے برابر ہوتاہے۔اس کا تناموٹا ہوتاہے۔اورپتے بھی املی کے پتوں کی طرح ہوتے ہیں۔اس کی لکڑی ہلکی اورجلد ٹوٹنے والی ہوتی ہے۔اس کا پھل گول اور سرخ رنگ کا ہوتاہے۔اس کی رال دار گوند کو لوبان کہتے ہیں۔جو درخت کی چھال میں شگاف دینے سے حاصل ہوتی ہے۔اور ہوا لگنے سے جم جاتی ہے۔اس کا رنگ باہر سے بھورا سرخی مائل یا زرد اور اندرسے دودھ کی طرح سفیدہوتاہے۔ایک اور قسم کے لوہان کا رنگ سفید اور سرخی مائل بھورا داغ داریا چتکبرا ہوتاہے۔یہ آپس میں مل کر ڈلے بن جاتے ہیں۔

صومالیہ، اریٹیریا اور یمن جیسے ممالک شورش نے لوبان کی پیداوار پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں لیکن پرامن عمان دنیا کا بہترین اور انتہائی مہنگا لوبان پیدا کرتا ہے جسے قدیم مصری باشندے ‘خداؤں کا پسینہ’ کہتے تھے۔

لوبان میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
لوبان میں ایسڈ ریسن 6فیصد پائی جاتی ہے، 30سے36فیصد گوند، 3فیصد ایسیٹل بیٹا (باسویلک ایسڈ)،بوسویلک ایسڈ، سوڈیم بینزویٹ، اینٹیسول ایسیٹیٹ، C21H34O3 اور فیلینڈرین پائے جاتے ہیں۔

لوبان کے طبی فوائد:
لوبان کے حکما ئے طب نے بہت فوائد بیان کیے ہیں۔ جبکہ اس کا استعمال روحانیات میں کیا جاتا ہے۔

جلد کی حفاظت:
خوبصورت، نرم، ملائم اور چمکدار جلد ہر عورت کا خواب ہوتی ہے۔ جلد کی تازگی اور خوبصورتی ہی چہرے کی خوبصورتی بڑھاتی ہے۔لوبان کے تیل میں قدرت نے یہ خصوصیت رکھی ہے کہ یہ جلد کو سدا جوان، تازہ اور چمکدار رکھتا ہے، جبکہ چہرے پر پڑنے والی جھریوں کو ختم کر دیتا ہے۔

دافع تعفن:
دافع تعفن ہونے کے باعث مرہموں میں شامل کیاجاتاہے۔اور یہ زخموں کو صاف کرنے میں استعمال کیا جاتا ہے۔جلد یا بدن کو صاف کرنے اور خوشبو دار بنانے کے علاوہ دیگر ادویہ کے ہمراہ ابٹن بناکر مالش کیاجاتاہے۔

پرانے زخم:
لوبان میں موجود سوڈیم بینزویٹ زخموں کیلئے بہت مفید ہے۔ ویسے بھی سوڈیم بینزویٹ اکثر مرہموں کا اہم جزو ہوتاہے۔ خاص طور پھپھوندی سے پیدا ہونیوالی سوزشوں‘ داد‘ چنبل اور پرانے ایگزیما میں اس کا استعمال انتہائی مفید ہے۔

1 2 3اگلا صفحہ

Leave a Reply

Back to top button