ادبمکالمہ

لوگ میری شادی کو’’ اپریل فول‘‘ سمجھتے رہے‘ڈاکٹر سلیم اختر

ڈاکٹر سلیم اختر ہمہ جہت شخصیت ہیں۔ وہ ایک اچھے استاد‘ نقاد‘ افسانہ نگار‘ ماہر نفسیات‘ سفرنامہ نگار اور ادبی تاریخ دان ہیں۔ ان کی ہر جہت مکمل ہے کہیں بھی ادھورا پن نظر نہیں آتا۔ اندرون و بیرون ملک ان کے دوستوں اور چاہنے والوں کا وسیع حلقہ ہے۔ وہ چالیس سال سے بھی زیادہ عرصے سے تخلیق و تالیف کے کام سے وابستہ ہیں۔ سرکاری ریٹائرمنٹ کے باوجود وہ اپنے آپ کو ریٹائرڈ نہیں سمجھتے۔ آج 78سال کی عمر میں بھی ہر حوالے سے مکمل مصروف نظر آتے ہیں۔ کل ان کی شادی کی پچاسویں سالگرہ منائی گئی جس میں قریبی دوستوں اور عزیزواقارب نے شرکت کی۔ اس موقع کی مناسبت سے ہم نے ان کے ساتھ مختصر سی نشست کا اہتمام کیا۔ اپنی شادی کی پچاسویں سالگرہ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ میں پہلے ایک لطیفہ سناتا جاؤں۔ 50سال قبل ہماری شادی یکم اپریل کو ہوئی تھی‘ تمام دوستوں کو دعوت نامے بھجوائے مگر شادی میں کسی نے شرکت نہ کی‘ جب اگلے روز میں نے دوستوں سے گلہ کیا تو کہنے لگے‘ یار ہم تو اسے اپریل فول سمجھتے رہے۔ شادی کے پچاس سال بظاہر طویل عرصہ ہے لیکن ایسا لگتا ہے پلک جھپکتے ہی گزر گیا۔ اس وقت ہمارے تین بچے ہیں۔ بیٹی سائیکی سلیم نے ایم ایس سی لائبریری سائنس اور ایم اے اردو کیا شادی شدہ ہے۔ دوسری بیٹی ارم سلیم نے ایم اے اردو کیا اور اس وقت وہ ڈنمارک میں اپنے شوہر کے ساتھ رہ رہی ہے۔ تیسرا بیٹا ہے جو دت سلیم۔۔۔ وہ ڈاکٹر ہے وہ بھی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ خوش و خرم ہے۔ گویا ہم مکمل طور پر ایک پڑھی لکھی فیملی ہیں۔ اس عمر میں والدین کیلئے اولاد کے مسائل بھی ایک مسئلہ ہوتا ہے۔ اس حوالے سے ہم میاں بیوی خوش قسمت ہیں کہ ہمارے لئے ایسا کوئی مسئلہ نہیں‘ اپنی اولاد‘ پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کے ساتھ خوش و خرم زندگی بسر کررہے ہیں۔ جب میری شادی ہوئی تو ملتان میں لیکچرر تھا۔ میری اہلیہ سعیدہ سلیم اختر نے صرف ایف اے پاس کیا تھا۔ شادی کے بعد اس نے بی اے بی ایڈ اور ایم اے ایم ایڈ کیا۔ ہم دونوں تعلیم کے شعبہ سے وابستہ رہے۔ زندگی میں گرم سرد مقامات بھی آئے مگر ہم ثابت قدم رہے۔ حالات امارت کے ہوں یا غربت کے میاں بیوی کے درمیان ذہنی ہم آہنگی ضروری ہے۔ افہام و تفہیم تمام الجھنوں کا حل ہے۔ ہماری شادی کا پلس پوائنٹ ہماری انڈرسٹینڈنگ تھی۔ میری اہلیہ بہادر خاتون ہیں۔ نامساعد حالات کو اس نے مجھ سے آگے بڑھ کر فیس کیا۔ مجھے پیسہ کمانے سے زیادہ دلچسپی نہیں ہے اور میری بیوی کو بھی پیسہ جمع کرنے کی زیادہ عادت نہیں ہے۔ ہم نے تمام عمر ایمانداری کے ساتھ گزاری۔ اپنی اولاد کو رزق حلال سے پروان چڑھایا۔ میں نے چالیس سال تک ملازمت کی مگر کبھی امتحانات کے دوران ایگزامنر کے طور پر ڈیوٹی نہیں لگوائی حالانکہ اس کا جو معاوضہ ملتا ہے وہ جائز آمدنی ہوتی ہے مگر اس دوران رشوت یا حرام کا چانس بھی ہوتا ہے۔ کبھی پیپر چیک کرنے کی ذمہ داری نہیں لی۔ صرف نوکری اور لکھنے پڑھنے کے کام کو ہی ذریعہ روزگار بنایا۔ ایمانداری کی زندگی گزارنے کیلئے جو قربانیاں دیں ان کا افسوس نہیں ہے۔ میرے شاگرد دنیا بھر میں پھیلے ہوئے وہ آج بھی اسی عزت و احترام سے ملتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں معاشرتی صورتحال کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں ہمارے معاشرے اور ملک میں کسی بھی سطح پر انصاف کا بول بالا نہیں رہا۔ سیاسی سرپرستی میں پی آئی اے اور سٹیل ملز جیسے بڑے اداروں کا بیڑا غرق کیا گیا۔ اس ملک میں انصاف اور میرٹ آجائے تو تمام مسائل حل ہوجائیں میں اس سے پہلے بھی کہہ چکا ہوں یہ صورتحال ہمارے لئے عذاب الٰہی کے مترادف ہے۔ جیسا کہ پہلی قوموں پر ان کے اعمال کے سبب ہوا۔ یہ وہ صورتحال ہے جو اجتماعی پاگل پن اور جنونیت کی نشاندہی کرتی ہے۔
اپنی شخصیت کی مختلف جہتوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں بنیادی طور پر اپنے آپ کو نثرنگار سمجھتا ہوں۔ افسانہ‘ سفرنامہ نگاری‘ ناول‘ تنقید‘ ادبی تاریخ نویسی یہ سب نثرنگاری کی مختلف اشکال ہیں۔ نثرنگاری کے حوالے سے میں نے ہر شعبے میں کام کیا ہے۔ میری اب تک 90سے زائد کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ جب میں افسانہ نگار ہوتا ہوں تو نقاد نہیں ہوتا اور جب نقاد ہوتا ہوں تو افسانہ یا ناول نگار نہیں ہوتا میں جو بھی کام کرتا ہوں اسے اس وقت پورے انہماک کے ساتھ کرتا ہوں۔ میری توجہ اسی جانب ہوتی ہے۔ ساری عمر رات کو بیٹھ کر کام کیا۔ 12بجے کے بعد رات ایک دو بجے تک سونا تو معمول کی بات رہی ہے۔ وہی عادت مستقل طور پر ساتھ چل رہی ہے۔ ایک کام ختم کروں گا تو دوسرا شروع کردوں گا۔ اگر نہیں کروں گا تو اندر بے چینی آجائے گی۔
اپنے سفر کی ابتداء کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ میرا بچپن انڈیا میں گزرا ہے۔ میں نے پونا اور انبالہ سے تعلیم حاصل کی۔ ابھی پانچویں جماعت کا طالب علم تھا کہ جب میں نے پہلی کہانی لکھی جو ہمارے مسلم ہائی سکول کے میگزین میں شائع ہوئی۔ والد صاحب نے میرا شوق دیکھا تو مجھے بچوں کی کہانیوں والے میگزین لا کر دینے شروع کردیئے۔ جب آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا تو میرے اور افسانے لاہور کے ادبی پرچے میں شائع ہوئے۔ گویا پڑھنا اور لکھنا میرے خون میں شامل ہوچکا تھا۔ محلے میں جوآنہ لائبریری ہوتی تھی میں دوپہر کا کھانا نہیں کھاتا تھا کرائے پر کتابیں لے آتا تھا۔ کوشش ہوتی تھی وہ کتاب جلد واپس کرکے دوسری لے آتا تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ پڑھ سکوں۔ ہم وہ بچے تھے جو وقت سے پہلے بڑے ہوجاتے ہیں۔
میری لکھی ہوئی کتاب اردو ادب کی مختصر تاریخ کا بہت زیادہ حوالہ دیا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں انڈیا گیا تو وہاں بھی یہی کتاب میری پہچان تھی۔ اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں کیپسول کی شکل میں ادب کی تاریخ اور ادبی معلومات مل جاتی ہیں۔ میری اس کتاب کا ہندی اور عربی میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ اس کتاب کے 29 ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں‘ اب 30واں ایڈیشن شائع کیا جارہا ہے۔
اکیسویں صدی کی تبدیلیوں کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ میری طبیعت میں اضطراب اور بے چینی ہے۔ اندر ایک طرح کا لاوا پکتا رہتا ہے جو ہر وقت متحرک رکھتا ہے۔ کچھ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ ہمیں آنے والی تبدیلیوں کو قبول کرنا ہے۔ یہ صدی خلاء کی تسخیر کی صدی ہے۔ ہمیں آنے والے وقت کیلئے تیار رہنا چاہئے۔
ہماری معاشرت کی صورت یہ ہے کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ کرپشن‘ سیاستدانوں کی جعلی ڈگریاں‘ قانون کا احترام نہ کرنا‘ یہ سب کچھ وہ طبقہ کررہا ہے جو سمجھتا ہے کوئی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ لوگ قانون پر عملدرآمد کیلئے سنجیدہ نہیں ہیں۔ ہمارا واحد ملک ہے جہاں سیاستدان ضرورت کے مطابق پارٹیاں بدلتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اب اردو انگریزی ادب تلے دبی جارہی ہے۔ ہمارے ہاں اب انگلش کا زیادہ استعمال ہورہا ہے۔ مجھے ڈر ہے مستقبل میں اردو زبان کی بجائے بولی بن کر نہ رہ جائے۔ یہ بڑی سیریس بات ہے۔

Back to top button