Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it   Click to listen highlighted text! Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it
تازہ ترینخبریںسیاسیات

لو جی ایک اور وڈیو آ گئی ……

پاکستان کی سیاست میں جس آڈیو ریکارڈنگ نے غالبا سب سے زیادہ ہلچل پیدا کی وہ لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج اور سابق اٹارنی جنرل ،ملک محمدقیوم کی تھی۔

اِن دنوں ملک کی سیاست میں خفیہ طور پر ریکارڈ کیے گئے آڈیو اور وڈیو کلپس کا کافی زور ہے جنہیں ایک کے بعد ایک کرکے منظرِ عام پر لایا جارہا ہے۔پہلے سابق چیف جسٹس ،ثاقب نثار کی اور پھر مریم نواز کی آڈیو ریکارڈنگز سامنے آئیں۔ اگلے مرحلے میں لاہور میں قومی اسمبلی کے حلقہ نمبر133میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں ووٹوں کی مبینہ خرید و فروخت کے بارے میں سامنے آنے والی وڈیوز نے سیاسی میدان کو گرمایا۔

اس سے قبل،نیب کے چیئرمین ، جاوید اقبال کی مبینہ طورپرایک نجی نوعیت کی آڈیو،وڈیو ریکارڈنگ منظرِ عام پر آئی تھی۔پھر میاں نواز شریف کو سزا سنانے والی احتساب کی عدالت کے منصف ،ارشد ملک کی مبینہ وڈیو نے سیاست میں کافی ہلچل پیدا کی تھی۔ یہ آڈیو،وڈیو ریکارڈنگز منظرِ عام پر لائی گئیں تو ہر محفل اور ہر ٹی وی چینل پر اس بارے میں گفتگو کی جانے لگی۔پھر اس بارے میں تحقیق کیے جانے کا شور اٹھا۔چیئرمین نیب سے متعلق مبینہ ریکارڈنگ منظرِ عام پر آنے کے فوری بعد حکومت کی ترجمان نے اس کا فورینزک ٹیسٹ کرانے کا عندیہ دیا، لیکن بعد میں یہ معاملہ عدلیہ پر چھوڑ دیا گیا تھا ۔ دیگر حلقے بھی اس ریکارڈنگ کا فورینزک ٹیسٹ کرانے کی باتیں کررہے تھے۔

آج بھی کچھ اسی قسم کی صورت حال ہے، لیکن اس مرتبہ حکومت اس ضمن میں بالکل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ ان حالات میں عام آدمی کے ذہن میں یہ سوال ابھرا ہے کہ فورینزک ٹیسٹ کس بلا کا نام ہے اور یہ کس طرح کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب بہت سے افراد فورینزک سائنس کے بارے میں تھوڑی بہت معلومات تو رکھتے ہیں، لیکن وہ جرائم کی تفتیش اور تحقیق کے لیےاستعمال ہونے والی اس جدید سائنس کے بارے میں مزید جاننے کے خواہش مندد کھائی دیتے ہیں ۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ سائنس کیا ہے،کس طرح کام کرتی ہے اور آڈیو وڈیو ریکارڈنگ کی فورینزک جانچ کس طرح کی جاتی ہے۔

ملک قیوم کی آڈیو ریکارڈنگز

پاکستان کی سیاست میں جس آڈیو ریکارڈنگ نے غالبا سب سے زیادہ ہلچل پیدا کی وہ لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج اور سابق اٹارنی جنرل ،ملک محمدقیوم کی تھی۔ جسٹس ملک محمد قیوم جو 1998میں لاہور ہائیکورٹ کی احتساب بینچ کے جج ہوا کرتے تھے اور پرویز مشرف کے دور میں اٹارنی جنرل بنائے گئے۔ملک قیوم نے سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی، لیکن سزا سنانے کے کچھ عرصے بعد پیپلز پارٹی نے ان کے آڈیو ٹیپس جاری کیے جن میں ان کی اس وقت کے وزیر قانون خالد انور، احتساب بیورو کے سربراہ سیف الرحمٰن اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے ساتھ گفتگو موجود تھی۔

اس گفتگو کے مطابق جسٹس ملک قیوم نے وزیراعظم نواز شریف کی خواہش اور دبائو پر محترمہ بےنظیر بھٹو کو سزا سنائی تھی۔27اپریل 1998کو ملک قیوم نے محترمہ بےنظیر بھٹو اور ان کے شوہر کو سزا سنا ئی تو شہباز شریف نے ان کا شکریہ ادا کیا اور یہ شکریہ بھی ریکارڈ ہو گیا۔کسی طرح یہ ٹیپس محترمہ بےنظیر بھٹو تک پہنچ گئے۔ ان میں وہ ٹیپ بھی تھا جن میں ملک قیوم کی اپنی اہلیہ کے ساتھ گفتگو ریکارڈڈ تھی اور وہ اہلیہ کو حکومت کے دبائو سے آگاہ کر رہے تھے۔ بعد ازاں ملک قیوم نے دو ہزار ایک میں استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس وقت ان پر پیشہ ورانہ بد دیانتی کا الزام لگایا گیا تھا۔

1 2 3 4 5 6اگلا صفحہ

Leave a Reply

Back to top button
Click to listen highlighted text!