HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » خبریں » لڑکے بن کر نائی کی دُکان چلانے والی لڑکیاں

لڑکے بن کر نائی کی دُکان چلانے والی لڑکیاں

پڑھنے کا وقت: 2 منٹ

(ویب ڈیسک) مجبوری یا جذبہ، دو ایسی چیزیں ہیں جو انسان کو کوئی بھی کام سر انجام دینے پر تیار کر دیتی ہیں۔ ایسا ہی کچھ ہوا بھارت میں دو لڑکیوں کے ساتھ جنہوں نے باپ کی نائی کی دوکان چلانے کے لئے لڑکوں کا روپ دھار لیا۔
نیوز ویب سائٹ انڈیا ٹائمز کے مطابق بھارتی ریاست اتر پردیش کے دیہی علاقے سے تعلق رکھنے والی18سالہ جیوتی کمار اور اس کی بہن نیہا 2014ء سے دوکان چلا رہی ہیں جب ان کے والد کو فالج کا اٹیک ہوا اور وہ کام کرنے کے قابل نہ رہے۔ شروع شروع میں لوگوں نے جیوتی اور نیہا کے دوکان چلانے کے عمل کو پسند نہ کیا، اس کے ساتھ مردوں کا رویہ بھی ان کے ساتھ نامناسب تھا۔

اس کے بعد جوتی اور نیہا نے جن کی عمریں اُس وقت بالترتیب 13اور 11سال تھیں، لڑکوں کا روپ دھار کر اپنے باپ کی دوکان چلانا شروع کر دی،صرف یہی نہیں بلکہ انہوں نے اپنے نام بھی لڑکوں الے رکھ لیے۔ کیونکہ وہ یہ دوکان ضرور چلانا چاہتی تھیں کیونکہ دوکان ہی ان کے گھر اور اہل خانہ کی کفالت کا سہارا تھی ۔

ان دونوں بہنوں کے اس جذبے کو دیکھتے ہوئے اب اہل علاقہ ان پر اعتراض کرنے کے بجائے دونوں بہنوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ دونوں بہنیں روزانہ اپنی دوکان سے چار سو روپے کما لیتی ہیں جو ان کے باپ کے اعلاج اور گھریلو اخراجات کیلئے کافی ہوتے ہیں۔

اب دونوں بہنوں کا جذبہ اور لگن دیکھتے ہوئے حکومتی سطح پر ان کی مدد کی گئی ہے۔ جیوتی کمار نے اپنے بال دوبارہ بڑھانا شروع کر دئے ہیں۔ جیوتی اور نیہا کے والد کا کہنا ہے کہ وہ جب اپنی بیٹیوں کو ایسے کام کرتے دیکھتا ہے تو اسے بہت تکلیف ہوتی ہے مگر اسے ان پر فخر ہے کہ انہوں نے اپنے گھر اور خاندان کو اچانک آنے والی مصیبت سے باہر نکالا ہے۔

جواب دیجئے