تجزیہسیاسیات

’لگتا ہے کوئی قوت سینیٹ الیکشن سے قبل سسٹم کو لپیٹنا چاہتی ہے‘

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ ملک کی داخلی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایسا ایسا محسوس کیا جارہا ہے کہ کوئی قوت سینیٹ الیکشن سے پہلے موجودہ سسٹم کو لپیٹنا چاہتی ہے۔

ڈان نیوز کے پروگرام ’دوسرا رخ‘ میں سینیٹ کے انتخابات سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ’بدقسمتی سے ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کو کئی بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے ہم داخلی معاملات میں غلط سمت میں جارہے ہیں، ملک میں تصادم اور محاذ آرائی کی کوشش کے اشارے مل رہے ہیں۔‘

انہوں نے پیر حمید سیالوی اور ڈاکٹر طاہرالقادری سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ وقت دھرنوں کا نہیں، اس وقت ہمیں اتحاد کے دھرنے دینے چاہئیں، اس وقت ہمیں بیرونی دنیا اور بالخصوص ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ پیغام دینا چاہیے کہ پاکستانی قوم اور ادارے متحد ہیں، جبکہ عدم استحکام کا ایجنڈا تو ٹرمپ کے ایجنڈے کو پورا کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان کے اراکین صوبائی اسمبلی نے مجھے خود بتایا کہ ان پر استعفوں کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے جس پر وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک سامنے آنے کے بعد یقین ہوگیا، جبکہ جو بھی یہ دباؤ ڈال رہا ہے اس سے ملک مضبوط نہیں کمزور ہوگا۔‘

احسن اقبال نے کہا کہ ’اس وقت ایسا محسوس کیا جارہا ہے کہ کوئی قوت سینیٹ الیکشن سے پہلے موجودہ سسٹم کو لپیٹنا چاہتی ہے، لیکن ہم نے ملک کے معاملات کے حوالے سے پی ایچ ڈی کرلی ہے اور حکومت اپنی مدت پوری کرے گی یہ کوئی مذاق نہیں۔‘

’امریکا کبھی بھی پاکستان کا قابل بھروسہ اتحادی ثابت نہیں ہوا‘

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’پچھلے کچھ عرصے میں پاک۔ امریکا تعلقات جس طرف جارہے تھے اور اس میں جتنی سرد مہری آگئی تھی اس میں پاکستان نے اپنا موقف واضح کردیا تھا کہ آپریشن ’ضرب عضب‘ اور ’ردالفساد‘ کے بعد پاکستان میں دہشت گردوں کی کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں اور نہ ہی اس کی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے بلکہ افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی ہورہی ہے، امریکا کا موقف یہ تھا کہ افغانستان میں اس کی فورسز پر حملے کرنے والے پاکستان میں پناہ حاصل کرتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’امریکی وزرائے خارجہ اور دفاع کے دوروں میں ہم نے ان نکات پر ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹویٹ نے یکایک پاک ۔ امریکا تعلقات میں سنگینی کو نیا موڑ دیا جبکہ ان کا یہ بیان پاکستانی قوم کی توہین ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’سوویت یونین کی افغان جنگ میں امریکا نے پاکستان کی مدد سے فتح حاصل کی لیکن اس کے بعد امریکا خود تو ٹرافی لے کر چلا گیا اور 35 لاکھ مہاجرین، منشیات اور اسمگلنگ ہمارے لیے چھوڑ گیا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’تاریخ میں کبھی بھی امریکا پاکستان کا قابل بھروسہ اتحادی ثابت نہیں ہوا، ضرورت پڑنے پر امریکا ہم سے قریب ہوا اور ضرورت ختم ہونے پر دور ہوگیا، جبکہ امریکی انتظامیہ اور سینیٹر قسمیں کھا کر کہتے رہے کہ امریکا پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔‘

’امداد رکنے سے پاکستان کو کوئی فرق نہیں پڑے گا‘

امریکا کی جانب سے امداد روکے جانے پر احسن اقبال نے کہا کہ ’امریکا نے اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ہمیں اپنا اتحادی نہیں سمجھتا، جبکہ امداد روکے جانے سے پاکستان کو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اس وقت امریکا سے کوئی خاطر خواہ امداد نہیں لے رہا، ہمیں خود انحصاری پر چلنا چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ ہم اپنے پیروں پر کھڑے ہوں، لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ امریکا ہماری برآمدات کی سب سے بڑی منڈی ہے، ہم اگر اپنے تعلقات کو معمول پر نہیں لائیں گے تو اس کے بالواسطہ اثرات ہوں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں امریکا کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ وہ پاکستان پر اپنے اعتماد کو بحال کرے، امن کے لیے پاکستان کے کردار کا اعتراف کرے اور جنوبی ایشیا کو بھارت کی نظر سے نہ دیکھے۔‘

وزیر داخلہ نے کہا کہ ’امریکا پاکستان کو ناکام افغان پالیسی پر قربانی کا بکرا بنا رہا ہے، افغانستان میں طاقت کا بھرپور استعمال کے باوجود امریکا کو کامیابی نہیں ملی اور آج بھی افغانستان کا بڑا علاقہ امریکا کے کنٹرول سے باہر ہے، امریکا اگر اپنی حکمت عملی کو سیاسی حل کی طرف لے کر جائے تو شاید جلد نتائج نکل آئیں گے۔

امریکا کی طرف سے پاکستان میں یکطرفہ فوجی آپریشن سے متعلق احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کو ہر صورتحال کے لیے تیار رہنا چاہیے، یکطرفہ اقدام کی صورت میں مسلح افواج بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے تاہم امید ہے کہ امریکا ایسا اقدام نہیں اٹھائے گا جس سے خطے میں کشیدگی ہو۔‘

Leave a Reply

Back to top button