تازہ ترینسپیشل

لیلیٰ مجنوں:قسط 1 یک جان دو قالب…… حافظ طارق عزیز

لیلیٰ مجنوں پر تحقیق سے ایک بات تو عیاں ہو چکی ہے کہ دوسری رومانوی داستانوں کی طرح بعض محققین نے لیلیٰ مجنوں کے بارے میں بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے لیکن ان میں کوئی صداقت نہیں کیونکہ لیلیٰ مجنوں نہ صرف ایک سچی اور حقیقی داستان ہے بلکہ اس کا باقاعدہ تاریخی پس منظر بھی موجود ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ تاریخ میں اسے اس قدر ردو بدل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے کہ ایسے لگتا ہے جیسے کہانی کا تھیم ایک ہے لیکن مختلف مصنفین نے اسے اپنا انداز دینے کے لیے اس کو ایک دوسرے سے مختلف کردیا ہے۔

کسی نے اس کہانی کو طول دینے کے لیے ایسا کیا۔۔۔ تو کسی نے اس میں تجسس پیدا کرنے کے لیے کچھ باتیں خود سے بھی لکھ دیں۔۔۔کسی نے طوالت کی خاطر یوں بھی کیا۔۔۔ مثلاََ معروف فارسی شاعر گنجوی نظامی نے اس کہانی کو قریباََ 5 ہزار شعری بندوں میں لکھا۔ لیکن اکثریت کی کہانی کا آغاز اور اختتام ایک جیسا ہی ہے۔

تاریخ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ لیلیٰ اور مجنوں (اصل نام قیس)کا تعلق ایک خانہ بدوش قبیلے بنو عامر سے تھا جس کا شمار وسطی اور جنوب مغربی عرب کے بڑے اور قدیم قبائل میں ہوتا تھا لیکن اسلام کی روشنی پھیلنے کے بعد صدیوں سے یہ جزیرہ نما ئے عرب کے شمالی حصے میں آباد تھا۔ اس قبیلے کا شجرہ نصب ہوازن کے حوالے سے عدنان سے جا ملتا ہے جو سرکار دو عالم ؐ کے اجداد میں سے تھے۔ بنو عامر کا آبائی وطن نجد اور حجاز کا درمیانی علاقہ تھا۔ اسلام سے پہلے بنو عامر اور قبیلہ قریش(جو آپس میں قریبی رشتے دار بھی تھے) کے درمیان خوں ریز جنگیں لڑی گئیں لیکن حضرت محمدؐ کو نبوت ملنے کے فوری بعد بنو عامر نے ناصرف اسلام قبول کر لیا بلکہ آپؐ کا مکمل ساتھ بھی دیا۔

دیکھا پرکھا جائے تو محبت پر کسی کا زور نہیں، محبت ایک فطری جذبہ ہے جو کسی کوشش و محنت کے بغیر ہی پروان چڑھتا ہے، اپنی شناخت کراتا ہے اور پھر خود کسی کی شناخت بن جاتا ہے۔ محبت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہوتی بلکہ یہ تو اپنا تعارف آپ ہوتی ہیں۔ اگر جذبات کو دیکھاجائے تو تمام محبت کرنے والے اس کی معراج تک پہنچے لیکن ان کا شرفِ محبت مختلف تھا۔ رانجھے نے اپنی محبوبہ کے لئے بارہ سال مویشی چرائے اور بالآخر ہیر کے فراق میں جوگی بننے پر مجبور ہوگیا۔ مہینوال اپنی ران کا گوشت سوہنی کو کھلاتا رہا اور سوہنی یہ جانتے ہوئے بھی کہ پانی، کچے گڑھے کو کھا جائے گا، اپنے محبوب سے ملنے کے لئے دیوانہ وار دریائے چناب کی شدید منہ زور لہروں میں کود گئی۔ پنوں، سسی کے لئے شہزاد گی چھوڑ کر دھوبی بن بیٹھا اور سسی اس کی تلاش میں صحراؤں کو چھانتی خود صحرا ہو گئی۔ شیریں فرہاد کی داستان گو افسانہ ہی سہی لیکن جذبات کے اظہار کے اس طریقے کو کوئی خراج تحسین پیش کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ شیریں کی موت کا سن کر فرہاد نے سر میں تیشہ مار لیا اور شیریں یہ خبر سن کے محل کی چھت سے کود کر زندگی کی بازی ہار گئی۔

لیلیٰ مجنوں کے بغیر محبتوں کا تذکرہ چھیڑنا، محبت کرنے والوں کے ساتھ زیادتی ہو گی کیونکہ یہ دونوں صرف محبت کی آبرو ہی نہیں بلکہ مجسم اور جیتی جاگتی محبت تھے۔ ان کے جذبات کو کیا کہئے کہ زخم مجنوں کو لگتا اور درد لیلیٰ محسوس کرتی۔ مار مجنوں کو پڑتی اور ہتھیلیاں لیلیٰ کی زخمی ہوتیں۔ یہ محبت ہی تو تھی کہ جس کی وجہ سے ایک بااثر اور باعزت عرب قبیلے کے سردار کا بیٹا اور ولی عہد، اپنا اصل نام اور شناخت تک گنوا بیٹھا اور دنیا آج اسے صرف اور صرف مجنوں یعنی پاگل کے نام سے جانتی ہے۔ اور لیلیٰ عیش و عشرت کی زندگی چھوڑ کر مجنوں کی ہو کر رہ گئی اور جہان فانی سے کوچ کر گئی۔(جاری ہے)

Leave a Reply

Back to top button