سپیشل

لیلیٰ مجنوں (آخری قسط): عاشق و معشوق آغوشِ امر میں…… حافظ طارق عزیز

وہ بھلا اپنے محبوب کو کیسے نہ پہنچانتی، وہ قیس ہی تھا لیکن اس کی حالت دیکھ کر لیلیٰ ششدر رہ گئی۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اس کی محبت نے ایک جیتے جاگتے شخص کو مردوں سے بدتر کر دیا ہے۔ وہ زار و قطار رونے لگی۔ لیلیٰ کی ہچکیوں سے محل کا کمرا گونجنے لگا۔ وہ کسی خزاں رسیدہ پتے کی طرح کانپ رہی تھی۔ اس نے مجنوں کو پکارنا چاہا لیکن اس کے حلق سے آواز نہ نکل سکی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اپنے محبوب کو اس حالت میں دیکھ کر وہ قوت گویائی سے محروم ہو رہی ہے۔
مجنوں تک لیلیٰ کی سسکیاں اور ہچکیاں نہیں پہنچیں لیکن لیلیٰ کی خوشبو اسے ضرور محسوس ہو گئی۔ اس نے عین اس لمحے اوپر کی جانب دیکھا جب اس کی محبوبہ کھڑکی کاپٹ پکڑے اپنی ہچکیاں ضبط کر نے اور اسے پکارنے کی کوشش میں مصروف تھی۔
یہ بھی پڑھیں! لیلیٰ مجنوں: قسط 5 ہے زوروں پہ آتشِ عشق کیا کیجئے…… حافظ طارق عزیز
مجنوں کے لیے تو بس اس کا دیدار ہی کافی تھا۔ اس کی نگاہیں جیسے ہی لیلیٰ کے چہرے سے ٹکڑائیں وہ گرا اور بے ہوش ہو گیا۔ شاید وہ اتنے عرصے سے بچھڑی لیلیٰ کے جلووں کی تاب نہ لا سکا تھا۔ لیلیٰ کا دل دھک سے رہ گیا۔ اس نے کھڑکی سے چھلانگ لگانے کی کوشش کی لیکن اس کی خادماؤں نے مضبوطی سے پکڑ کر اسے کودنے سے باز رکھا چنانچہ لیلیٰ اوپر کھڑی آہیں بھرتی رہی اور مجنوں ریت پر بے حس و حرکت پڑا رہا۔ لیلیٰ اس وقت دل ہی دل میں اپنے محبوب کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہی تھی اور خود کو کوس بھی رہی تھی کہ وہ زمین پر پڑے بے یارو مددگار قیس کی مدد سے قاصر ہے۔کچھ دیر بعد مجنوں نے ایک جُھرجھری سی لی اور اٹھ کر بیٹھ گیا۔ حسرت ویاس میں ڈوبی اس کی نگاہیں اسی کھڑکی پر مرکوز تھیں جہاں اس کی محبوبہ سسکیاں لے رہی تھی۔
مجنوں کو کسی خزاں رسیدہ پتے کی طرح کانپتا لیلیٰ کا جسم صاف دکھائی دے رہا تھا۔ کچھ دیر بعد لیلیٰ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھی۔ وہ بُری طرح لڑکھڑائی۔ اس کی خادماؤں نے اسے پکڑنے کی کوشش کی لیکن ان کے ہاتھ میں لیلیٰ کے عباکا صرف دامن ہی آ سکا۔ لیلیٰ نے ایک جھٹکا دیا اور زور دار آواز کے ساتھ اپنے محبوب کے پہلو میں آ گری۔
خادماؤں کے شور سے محل میں جیسے زلزلہ برپا ہو گیا۔ لیلیٰ کا پاب جیسے ہی سامنے آیا خادماؤں کی سٹی گم ہو گئی۔ بمشکل تمام انہوں نے لیلیٰ کے گرنے کی بابت اسے بتایا لیکن شکر ہوا کہ سردار نے انہیں کچھ کہنے کے بجائے اپنی تلواز نیام سے نکالی اور اپنے ساتھیوں کو آوازیں دیتا باہر کو بھاگا۔ لیلیٰ کے قریب پہنچنے تک اسے علم نہیں تھا کہ مجنوں بھی وہاں موجود ہو گا چنانچہ جب اس نے اپنی بیٹی کو بے ہوش عاشق کے پہلو میں پڑے پایا تو وہ غصے سے پاگل ہو گیا۔ اس نے ہاتھ میں پکڑی ننگی تلوار سر سے اوپر اٹھائی۔ ارادہ یہی تھا کہ آج مجنوں کا سر تن سے جدا کر کے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بدنامی کے اس طوق کو گلے سے اتار پھینکے لیکن پھر کچھ سوچ کر اس نے تلوار نیچے کر لی۔ وہ جانتا تھا کہ قیس اس سے زیادہ طاقت ور سردار کا بیٹا ہے اور اگر وہ اس کے ہاتھوں قتل ہو گیا تو دونوں قبائل میں ایسی جنگ چھڑ جائے گی جو شاید سالوں ختم نہ ہو سکے۔ یہی سوچ کر وہ اپنے آدمیوں کی پلٹا اور انہیں حکم دیا کہ اندر سے خادماؤں کو بلائیں تاکہ وہ بے پوش لیلیٰ کو اٹھالے جائیں۔ حکم کی فوری تعمیل ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں! لیلیٰ مجنوں: قسط 4 ٹھہرے ہوئے پانی میں پہلا پتھر!…… حافظ طارق عزیز
مجنوں بہ دستور بے ہوش تھا، اسے علم بھی نہ تھاکہ اس کی محبوبہ کو ایک بار پھر اس سے جد ا کیا جا چکا ہے۔ سردار کے ساتھی بھی وہیں موجود تھے تاکہ سردار کے اگلے حکم کی تعمیل کر سکیں۔ ساری صورت حال ان کے علم میں تھی لیکن ان میں سے کوئی بھی خود سے کچھ کہنے کی جرأت نہیں کر پا رہا تھا۔ ”اسے اٹھاؤ“! بالآخر سردار نے بے ہوش مجنوں کی طر ف اشارہ کیا ”اور دوبار ہ صحرامیں پھینک آؤ“۔
اس ساری صورت حال سے قیس کے والد شاہ عامری کو مطلع کیا گیا لیکن وہ اس سلسلے میں کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے ٹھنڈی سانس لی اور ایک بار پھر اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو کیا تاکہ اپنے بیٹے کی صحت یابی کے لیے دُعا کر سکے۔ کچھ عرصے کے بعد شا ہ عامری کے دوستوں نے اسے مشور ہ دیا کہ وہ کم از کم ایک بار جا کر لیلیٰ کے باپ سے قیس اور لیلیٰ کی شادی کی با ت کرے کیونکہ تمام لوگوں کے خیال میں قیس کی دیوانگی کا واحد علاج یہی تھا۔ شاہ عامری خود بھی یہی چاہتا تھا کہ اس کا بیٹا کسی طرح ٹھیک ہو جائے چنانچہ وہ وقت ضائع کئے بغیر نجد پہنچا اور سردار سے ملاقات کی۔
لیلیٰ کا باپ شاہ عامری کے ساتھ نہایت ادب و احترام سے پیش آیا اور مہمان کی خاطر داری میں کوئی کمی نہ چھوڑی۔ اس خوش گوار ماحول میں شاہ عامری نے دست سوال دراز کیا اور خواہش ظاہر کی کہ وہ لیلیٰ کو اپنی بیٹی بنانا چاہتا ہے۔ لیلیٰ کے باپ نے نہایت معذرت خواہانہ انداز میں شاہ عامر ی کو آگاہ کیا کہ قیس پاگل ہو چکا ہے اور وہ اپنی بیٹی کی شادی کسی پاگل کے ساتھ نہیں کر سکتا۔ شاہ عامری کو بے حد دکھ ہوا۔ اس نے نہایت عاجزی کے ساتھ درخواست کی کہ اگر لیلیٰ قیس کو مل جائے گی تو اس کی ذہنی حالت ٹھیک ہو جائے گی لیکن لیلیٰ کے والد نے شاہ کوئی بھی دلیل یا درخواست کو ماننے سے انکار کر دیا۔ شاہ عامری وہاں سے خالی ہاتھ لوٹ آیا۔ اس نے لیلیٰ کے باپ سے یہ ضرور کہا کہ قیس لیلیٰ کی محبت میں دیوانہ ضرور ہے لیکن پاگل نہیں۔۔۔ لیکن حقیت یہ تھی کہ لیلیٰ کے باپ نے قیس کو پاگل قرار دے کر ٹھکرا دیا تھا۔
واپس آکر شاہ عامری نے دوبارہ مجنوں کی تلاش شروع کر دی، بلآخر مجنوں ریگستان میں ایک درخت کے نیچے نیم برہنہ حالت میں پایا گیا۔ شاہ عامری اپنے بیٹے کو اس حالت میں دیکھ کر زاروقطار روتا رہا، اس نے جب قیس کو ہوش دلایا تو قیس نے اپنے باپ کو پہچاننے سے انکار کر دیا۔ وہ صرف ایک ہی راگ الاپ رہا تھا۔۔۔ لیلیٰ۔۔۔ لیلیٰ۔۔۔ شاہ عامری نے اسے سمجھایا کہ اگر وہ دیوانگی چھوڑ کر ایک اچھا آدمی بنے تو لیلیٰ کا باپ اس سے اس کی شادی کرنے کو تیار ہوجائے گا۔
اس یقین دہانی پر قیس اپنے باپ کے ساتھ چل دیا۔ قیس کی گھر واپسی پر پورے علاقے میں جشن کا سماں تھا اور قیس کی ماں کی خوشی تو دیدنی تھی۔ شاہ عامری نے اپنے بیٹے کو اچھا لباس پہنایا اور کچھ دن اس کی خود تربیت کی۔ اس دوران قیس اپنے باپ کو اس سے کیا ہوا وعدہ یاد کراتا رہا۔ بالآخر ایک روز، جب شاہ عامری اپنے تئیں قیس سے مطمئن ہوگیا اور قیس سے وعدہ بھی لے لیا کہ وہ لیلیٰ کے باپ کے سامنے کوئی دیوانوں جیسی حرکت نہیں کرے گا۔ وہ اسے لیلیٰ کے باپ کے پاس لے گیا۔ لیلیٰ کا باپ قیس کو شہزادوں جیسی پوشاک میں دیکھ کر بہت حیران ہوا، شاہ عامری نے لیلیٰ کے باپ کو بتایا کہ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ قیس پاگل نہیں ہے، اسے صرف لیلیٰ کی محبت نے دیوانہ کر دیا ہے۔ شاہ عامر ی نے ایک بار بھر رسمی طور پر لیلیٰ کا رشتہ مانگا۔ لیلیٰ کے باپ نے بلا حیل وحجت اس پر آمادگی کا اظہار کر دیا۔ اس نے شاہ کو زبان دے دی کہ لیلیٰ آج سے آپ کی ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں! لیلیٰ مجنوں: قسط 3 ”رومیو جیولیٹ“ لیلیٰ مجنوں کا چربہ…… حافظ طارق عزیز
عربوں میں زبان دینے کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور اگر کوئی زبان سے پھر جائے تو اسے واجب القتل بھی قرار دیا جا سکتا ہے اور اگر کوئی قبیلہ ایسا کرے تو قبیلے کے خلاف اعلان جنگ کر دیا جاتا ہے۔ لیلیٰ مجنوں کا رشتہ طے ہونے پر پورے محل میں مٹھائی تقسیم کی گئی۔ اس رشتے کی خبر لیلیٰ کو ملی تو اس کی خوشی کا بھی کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ کچھ دیر بعد یہ خوشی غمی میں بدل گئی جب ایک چھوٹا کتا مہمان خانے کی طرف آنکلا اور کسی نے بتا دیا کہ یہ لیلیٰ کا کتا ہے اور اس نے اسے بہت ہی پیار سے رکھا ہوا ہے۔
یہ سنتے ہی مجنوں نے کتے کو پکڑا اور اسے دیوانہ وار چومنا شروع کر دیا یہ تمام ماجرا لیلیٰ کا باپ بھی دیکھ رہا تھا جو غصے میں آگ بگولا ہو گیا۔ اس نے کہا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک آدمی کسی جانور کو اس طرح سے پیار کرے، میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ یہ شخص پاگل ہے۔ یہ کہہ کر لیلیٰ کے باپ نے یہ رشتہ توڑ دیا۔ شاہ عامری نے بہت منتیں کی کہ اس کا بیٹا بالکل ٹھیک ہے۔ اس کی دیوانگی کو پاگل پن نہ کہیے وغیرہ۔۔۔۔ لیکن لیلیٰ کے باپ نے ایک نہ سنی۔۔۔ حتیٰ کہ زبان سے مکر کر اس نے کئی قبیلوں کو اپنا دشمن بنا لیا۔
اب مجنوں دوبارہ حواس باختہ ہوکر صحراؤں کی وسعتوں میں کھو گیا۔ لیلیٰ کے باپ نے لیلیٰ کا رشتہ کہیں اور کسی بخت نامی شخص سے کر دیا، لیلیٰ بھاگ کر صحرا میں مجنوں کی تلاش میں نکل گئی۔ کچھ دن تلاش کے بعد لیلیٰ نے مجنوں کو پا لیا اور وہیں دنوں جہان فانی سے کوچ کر گئے۔

Leave a Reply

Back to top button