سپیشل

لیلیٰ مجنوں: قسط 2 داستانِ عشق، حقیقت یا فسانہ؟…… حافظ طارق عزیز

آج ہم لیلیٰ مجنوں کی عشق کہانی کے اس پہلو پر غور کریں گے کہ یہ ایک حقیقت ہے یا پھر کچھ دیگر عشقیہ داستانوں کی طرح محض شعرأ کی بلند پروازِ تخیل کا نتیجہ ہے؟ اس کے بارے میں حقیقت اور افسانہ دنوں کا گمان کیا جاتا ہے لیکن اسے حقیقت سمجھنے والے مکتبہئ فکر کے دلائل اور تاریخی شواہد میں بہرحال زیادہ وزن نظر آتا ہے۔
لیلیٰ مجنوں ’الف لیلیٰ‘ کہانیوں کا حصہ نہیں
لیلیٰ مجنوں کسی بھی طور فرضی کہانی نہیں بلکہ ایک سچا واقعہ ہے جو چھٹے اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان(جو685ء سے705ء تک برسراقتدار رہا) کے دور میں رونما ہوا۔ لیکن کچھ محققین کا کہنا ہے کہ داستان لیلیٰ مجنوں الف لیلہ و لیلہ یعنی ایک ہزار ایک راتوں کی کہانیوں کے مجموعے میں شامل ہے۔ الف لیلہ ایک ہزار ایک کہانیوں پر مشتمل کتاب کا نام ہے جسے725ء سے775ء کے دوران عرب کے چند ادیبوں اور شاعروں نے مرتب کیا تھا۔ ان میں سے بیشتر کہانیوں کا تعلق بابل، مصر، ترکی اور یونان کی داستانوں سے ہے۔ بعد ازاں دیگر کہانیاں ان میں شامل ہوئیں جن کا تعلق حضرت سلیمان، ایرانی سلاطین اور اموی و عباسی خلفا(خصوصاً ہارون الرشید) سے تھا۔
’رودکی‘ فارسی کا عظیم شاعر اور لیلیٰ مجنوں کی داستان
داستان لیلیٰ مجنوں چونکہ عرب کا واقعہ ہے اس لیے بنیادی طور پر یہ عربی ادب کا حصہ ہے اور سب سے پہلے یہ عربی ادب سے نکل کر فارسی زبان میں منتقل ہوا۔ فارسی ادب میں اس کہانی کو متعارف کرانے کا سہرا ’رودکی‘ کے سر ہے۔ فارسی زبان کے اس عظیم اور منفرد شاعر سے13لاکھ اشعار منسوب ہیں لیکن ان میں سے محض52 قصیدے غزلیں اور رباعیاں دستیاب ہیں۔ رود کی کا پورا نام ابو عبداللہ جعفر بن محمد ابن حکیم ابن عبدالرحمن ابن آدم رودکی سمرقندی تھا۔ رودکی کی جائے پیدائش رودک، خراسان ایران ہے لیکن اب یہ شہر پنجاکنٹ کے نام سے تاجکستان میں شامل ہے۔ رودکی914ء سے943ء تک بخارا پر حکومت کرنے والے حکمران سمانید نصر دوم ابن احمد کا درباری شاعر تھا لیکن بعد میں وہ کسی وجہ سے بادشاہ کی سرپرستی سے محروم ہو گیا۔ اس کی آخری عمر انتہائی غربت میں گزری۔
داستان ِ لیلیٰ مجنوں اور نظامی گنجوی
نظامی گنجوی1141ء میں سلجوق بادشاہت کے علاقے اتابکان(آذر بائیجان) کے ایک بڑے شہرگنج میں پیدا ہوا۔ رودکی کی روایت کو نظامی نے آگے بڑھایا لیکن اس دوران ڈھائی سو سال کا طویل عرصہ گزر چکا تھا۔ لیلیٰ مجنوں کی داستان کو عربی ادب کے حلقے سے نکالنے کا سہرا بے شک رودکی کے سر ہے لیکن اسے اصل شہرت نظامی گنجوی کی وجہ سے نصیب ہوئی کیونکہ نظامی نے مجنوں کے حوالے سے تمام آزاد اور افسانوی معلومات اکٹھی کیں، حقائق کا تجزیہ کیا اور پھر اپنے زور قلم سے اس رومانوی جورے کی ایسی تصویر کھینچی جو شہرہ آفاق کہلائی صرف یہی نہیں بلکہ شواہد سے ثابت ہے کہ اس کے بعد داستان لیلیٰ مجنوں جس زبان میں بھی لکھی گئی اس کا ماخذ نظامی گنجوی کا شاہکار ہی ٹھہرا۔ اس نے تین شادیاں کیں لیکن تینوں بیویاں اس کی زندگی میں ہی انتقال کر گئیں لیکن کہا جاتا ہے کہ ہر بیوی کے انتقال پر اس نے اپنی جو داستان مکمل کی اسے عالمگیر شہرت نصیب ہوئی۔ تینوں داستانوں میں ایک لیلیٰ مجنوں تھی جو اس نے تیسری بیوی کے انتقال پر لکھی تھی۔ نظامی کو مثنوی کا بادشاہ اور بارہویں صدی عیسوی کے چار عظیم فارسی شعراء میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔
مختلف زبانوں میں لیلیٰ مجنوں کی اصطلاح
عربی ثقافت میں لیلیٰ مجنوں کی محبت کو حب عذری یا Virgin Love کہا جاتا ہے کیونکہ اس قسم کی محبت میں رومانوی جوڑے آپس میں شادی کر پاتے ہیں اور نہ ہی ان کے مابین جسمانی تعلقات استوار ہوتے ہیں۔ عرب کی دیگر ورجن لو اسٹوریز میں قیس اور لبنیٰ، کتھیر اور عزا، مروا اور المجنوں الفارسی، انتارا اور آبلاخاصی شہرت کی حامل ہیں۔
انگریزی ز بان میں لیلیٰ مجنوں کوStar Crossed Lovers اسٹار کراسڈ لورز قرار دیا جاتا ہے۔ انگریزی میں یہ اصطلاح ان جوڑوں کے لئے استعمال کی جاتی ہے جو خلاف فطرت نہایت بچپن سے ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں یا ایک دوسرے کی قسمت میں لکھ دیئے جاتے ہیں لیکن ستارے کبھی انہیں جائز طریقے سے ایک دوسرے سے ملنے نہیں دیتے یا ان کا کبھی ملاپ نہیں ہونے دیتے۔ اس اصطلاح کا تعلق بنیادی طور پر علم نجوم سے ہے کیونکہ عام طور پر یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ ستاروں کی چال انسانی قسم پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اسٹار کراسڈ تعلق کو بیان کرنے کے لئے عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ ایک ستارے کو دوسرے ستارے سے تکلیف پہنچ رہی ہے یا پہنچائی جا رہی ہے اسے آڑا ترچھا کیا جا رہا ہے یا یوں کہہ لیں کہ ستارے تعلق کی مخالف سمت میں سفر کر رہے ہیں۔
عربی اور عبرانی زبان میں لیلیٰ کا لفظ رات کے لئے استعمال کیا جاتا ہے یا ایسے فرد کے لئے کہا جاتا ہے جو رات کے وقت کام کرتا ہے اور یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ سٹار کراسڈ لورز کی محبتوں کو عموماً چھپایا اور خفیہ رکھا جاتا ہے۔ اسی طرح فارسی اور عربی میں مجنوں کے معنی پاگل کے ہیں۔ قیس چونکہ لیلیٰ کا دیوانہ تھا اس لئے اسے مجنوں کہا گیا۔

Leave a Reply

Back to top button