سپیشل

لیلیٰ مجنوں: قسط 3 ”رومیو جیولیٹ“ لیلیٰ مجنوں کا چربہ…… حافظ طارق عزیز

’رومیو جیولیٹ‘ کے مصنف اور انگریزی ادب کے بادشاہ ولیم شیکسپئیر جنہوں نے رومیو اور جولیٹ پر ڈرامہ لکھا اور ان کرداروں کو امر کر دیا۔ لیکن بعض محققین اور نقادوں نے رومیو جیولیٹ کو لیلیٰ مجنوں داستان کا چر بہ قرار دیا ہے۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ رومیو جیولیٹ کی بنیاد ایک لحاظ سے لیلیٰ مجنوں کی داستان کے لاطینی ترجمے پر رکھی گئی تاہم شیکسپیئر کے محققین اس امر سے انکاری ہیں اور اس کے اصل ہونے پر بضد ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ رومیو جیولیٹ کے بہت سے واقعات میں لیلیٰ مجنوں کا عکس واضح نظر آتا ہے۔
پاک و ہند کی لیلیٰ مجنوں پر فلمیں
پاکستان اور ہندوستان میں لیلیٰ مجنوں پر کئی فلمیں بنائی گئیں۔ اس سلسلے کی پہلی فلم 1922ء اور دوسری1927 میں منظر عام پر آئی۔ یہ دونوں خاموش فلمیں تھیں۔1931ء میں لیلیٰ مجنوں پر پہلی بولتی فلم بنائی گئی۔ 1949ء میں ہدایت کار رام کرشن راؤ نے لیلیٰ مجنوں بنائی، اردو زبان کی اس فلم میں مجنوں کا کردار بھانومتی رام کرشن نے اور لیلیٰ کا کردار سیتا رام انجانیلو نے ادا کیا۔ اسی سال اس فلم کو تامل زبان میں بھی بنایا گیا اس کے بعد 1962ء میں پی بھاسکرن نے ملیالم زبان میں لیلیٰ مجنوں بنائی لیکن1976ء میں بننے والی لیلیٰ مجنوں نے سب سے زیادہ شہرت حاصل کی۔ ہرنام سنگھ راول کی اس فلم میں رشی کپور نے مجنوں اور ایک نئی اداکارہ رنجیتا کور نے لیلیٰ کا کردار ادا کیا۔ اس فلم کے گانے بے حد مشہور ہوئے۔ پاکستان میں 1957ء میں لیلیٰ مجنوں پر دو فلمیں بنائی گئیں۔ ان میں سے ایک کا نام عشق لیلیٰ اور دوسری کا نام لیلیٰ مجنوں تھا۔ عشق لیلیٰ میں سنتوش کمار نے مجنوں اور صبیحہ خانم نے لیلیٰ کا کردار ادا کیا۔ اس فلم کے گانے آج بھی زبان زد عام ہیں۔ لیلیٰ مجنوں میں اسلم پرویز نے مجنوں اور بہار بیگم نے لیلیٰ کا کردار نبھایا تھا۔ 1974ء میں لیلیٰ مجنوں کے نام سے ایک اور فلم بنائی گئی جس میں اداکارہ رانی نے لیلیٰ اور وحید مراد نے مجنوں کا کردار ادا کیا۔ اس کے گانے بھی بے حد مشہور ہوئے۔ 1980ء میں ہندوستانی فلم قربانی میں لیلیٰ کے نام سے ایک گانا فلم بند کیا گیا جب کہ2007ء میں اداکارہ مادھوری ڈکشٹ نے لیلیٰ مجنوں کی کہانی کو اپنی فلم ’آجانچ لے‘ کے لئے بھی استعمال کیا۔
لیلیٰ مجنوں کا مزارپاک و ہند بارڈر پر؟
پاکستان و ہندوستان میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جسے سو فیصد یقین ہے کہ لیلیٰ اور مجنوں نے اپنی زندگی کی آخری سانسیں سرزمین ہندوستان کی ریاست راجستھان کے ایک گاؤں میں گزاری تھیں۔ لیلیٰ اور مجنوں کی قبریں بھی ضلع سری گنگا نگر میں انوپ گڑھ کے قریب بجنور نامی گاؤں میں بتائی جاتی ہیں۔ وہاں کی دیہاتی روایتوں کے مطابق لیلیٰ اور مجنوں عرب کے صحراؤں سے فرار ہو کر یہاں پہنچے تھے۔ ان کی قبروں پر ہر سال جون کے مہینے میں دو روز میلا لگتا ہے جہاں رات گزارنے کا کوئی بندوبست نہ ہونے کے باوجود پاکستان اور ہندوستان کے سینکڑوں نوبیاہتا جوڑے اپنی آئندہ زندگی کی بہتری کے لئے حاضری دیتے اور اکثر رات کو قیام بھی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں! لیلیٰ مجنوں: قسط 2 داستانِ عشق، حقیقت یا فسانہ؟…… حافظ طارق عزیز

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button