سپیشل

لیلیٰ مجنوں: قسط 4 ٹھہرے ہوئے پانی میں پہلا پتھر!…… حافظ طارق عزیز

جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ لیلیٰ مجنوں کی داستاں حقیقی ہے لیکن فرق کہانی کے درمیان میں آتا ہے۔ اس داستان پر بعض جگہ مصنفین اور شعراء کرام متفق ہیں لیکن بعض جگہ سخت اختلاف پایا جاتا ہے۔ مثلاََ مجنوں کے باپ کا نام کہیں سعید ہے اور کہیں شاہ عامری ہے لیکن زیادہ مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ مجنوں کے باپ کا نام شاہ عامری تھا۔
عرب سردار شاہ عامری کے گھر بیٹا پیدا ہوا تو اس کا نام قیس رکھا گیا۔ وقت کے رسم و رواج کے مطابق شاہ عامری نے علم نجوم کے ماہرین کو بلایا تا کہ اپنے اکلوتے بیٹے کے مستقبل کے حوالے سے کچھ جان سکے۔ ماہرین نے ہر زاویے سے قیس کے مستقبل کا حساب لگایا لیکن جواب یہی ملا کہ بارہ سال کی عمر میں وہ اپنے ہوش و حواس سے بیگا نہ ہو کر گھر چھوڑ دے گا۔ اس کا مقصد صرف صحراؤں کی ریت چھاننا ہو گا لیکن دنیا اسے اس کے پاگل پن کے باوجود محبت اور بے مثال چاہتوں کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھے گی۔ ماہرین جب اپنی پیش گوئی سے پوری طرح مطمئن اور متفق ہو گئے تو انہوں نے نہایت نپے تُلے الفاظ میں سب شاہ عامری کے گوش گزارا کر دیا۔
شاہ عامری چونکہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان تھا اور اس ناتے وہ جانتا تھا کہ صرف اللہ تعالیٰ کے حضور سربسجود ہو کر اور دُعا مانگ کر ہی کچھ حاصل ہو سکتا ہے چنانچہ اس نے یہی کیا۔ وہ نہایت متمول سردار تھا۔ اس نے اپنے بیٹے کے مستقبل کو محفوظ بنانے اور ماہرین علم نجوم کی پیش گوئی تبدیل کرنے کے لیے وہ سارے جتن کر ڈالے جو اس کے اختیار میں تھے۔ کہتے ہیں کہ شاہ عامری نے اپنے خزانوں کے منہ کھول دیے۔ بڑے پیمانے پر خیرات کی۔ ایک آخری کوشش کے طور پر اس نے قیس کو خود سے جدا کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ خود ایک بدو قبیلے کا سردار تھا جو اپنے خانہ بدوشوں کے ساتھ خیموں میں رہتا تھا۔ ان کی زندگی کے کچھ دن کہیں گزرتے اور کچھ دن کہیں۔ جب کسی علاقے میں پانی، خوراک اور کچھ سبزے کی کمی ہو جاتی تو شاہ عامری اپنے قبیلے کے ساتھ کسی اور جگہ ہجرت کر جاتا لیکن اس کے پاس سیکڑوں اونٹ اور بھیڑ بکریاں تھیں جن کی وجہ سے نہ صرف اس کی گزر بسر ہوتی بلکہ ہجرت کے باجود زندگی نہایت پر آسائش گزرتی تھی۔ قیس کی ماں کو جب علم ہوا کہ اس کے بیٹے کو کہی اور بھیجا جا رہا ہے تو اس نے آہ و بکا کے ساتھ احتجاج کیا لیکن جو شاہ عامری جانتا تھا وہ اس سے واقف نہ تھی۔ اس نے اپنے چند وفادار قبائلوں کو قیس کے ہمراہ کیا اور انہیں سختی سے ہدایت کی قیس کی ہر ممکنہ نگرانی کی جائے اور ایک لمحے کے لیے بھی اسے نظر وں سے اوجھل نہ ہونے دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں! لیلیٰ مجنوں: قسط 3 ”رومیو جیولیٹ“ لیلیٰ مجنوں کا چربہ…… حافظ طارق عزیز
قبائلیوں نے اپنے سردار کی ہدایات پر عمل کیا اور قیس کو شاہ کی خواہش کے مطابق دمشق میں مولوی شفیع اللہ کے مدرسے میں داخل کرا دیا۔ یہ مدرسہ تعلیم کے حوالے سے نہایت شہرت رکھتا تھا۔ اس لیے بچوں کے ساتھ ساتھ بچیاں بھی یہاں تعلیم حاصل کرتی تھیں۔ سب کے سب متمول گھرانوں کے بچے تھے اور تعلیم چونکہ مذہبی رنگ لیے ہوئے تھی اس لیے کسی کو اس مخلوط ذریعہ تعلیم پر کسی قسم کا اعتراض بھی نہیں تھا۔
قیس نے بھی اپنے دوسرے ہم مکتبوں کی طرح دل لگا کر تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی۔ وہ پڑھنے لکھنے میں بے حد ہوشیار اور سبق یاد کرنے میں نے تیز تھا اس لیے مولوی شفیع اللہ کو اپنے اس نئے شاگرد سے کسی قسم کی کوئی شکایت یا پریشانی نہیں تھی بلکہ جب انہوں نے قیس کا رجحان دیکھا تو انہوں نے اپنے دوسرے شاگردوں کی نسبت قیس پر زیادہ توجہ دینا شروع کر دی۔ جلد ہی پورے مکتب میں مشہور ہو گیا کہ قیس مولوی صاحب کا بے حد پیارا ہے۔ قیس کے ساتھ آنے والے قبائلیوں نے بھی اپنے سردارکو تما م تفصیل سے آگاہ رکھا چنانچہ شاہ عامری بھی قدرے مطمئن ہو گیا۔ لیکن بالآخر اس پیش گوئی کے درست ثابت ہونے کا وقت آپہنچا۔ تالاب کے پُرسکون پانی میں پہلا پتھر اس وقت گرا جب نجد کے ایک عرب سردار کی بیٹی لیلیٰ اس مدرسے میں داخل ہوئی۔ اسے بھی مدرسے کے تعلیمی معیار کی وجہ سے اس کے ماں باپ نے اتنی دور بھجوایا تھا۔ تب کسی کو بھی یہ علم نہ تھا کہ آنے والے دنوں میں کیا قیامت رونما ہونے جا رہی ہے۔
کہتے ہیں کہ عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے۔ یہی صورت حال قیس کے ساتھ بھی ہوئی۔ کچھ ہی دنوں میں یہ بات زبان زدِ عام ہو گئی کہ قیس کو لیلیٰ سے محبت ہو گئی ہے۔ مولوی شفیع اللہ کو علم ہوا تو انہوں نے پہلے نرمی سے قیس کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن جب اس کا نتیجہ کچھ نہ نکلا تو انہوں نے سختی شروع کر دی۔ جو قیس سبق یاد کرنے میں قابل رشک سمجھا جاتا تھا اب اتنا کند ذہن ہو گیا تھا کہ کچھ یاد ہونا تو درکنا، اسے یہ بھی ہوش نہ ہوتا تھا کہ استاد کیا پڑھا رہا ہے۔ جو بچے پہلے قیس کی ذہانت پر حسد کرتے تھے اب وہ اسے عجیب نگاہوں سے دیکھنے لگے۔ (جاری ہے)

Leave a Reply

Back to top button