سپیشل

لیلیٰ مجنوں: قسط 5 ہے زوروں پہ آتشِ عشق کیا کیجئے…… حافظ طارق عزیز

جب مولوی شفیع اللہ نے دیکھا کہ قیس پر نرمی یا سختی کچھ بھی اثر نہیں کر رہی تو انہوں نے قیس کے سر پرستوں کو خبر کی۔ ایک قاصد شاہ عامری کے پاس بھجوایا گیا۔ صورت حال کی سنگینی اور حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے وہ افتاں و خیزاں دمشق پہنچا۔ اس نے بھی قیس کو نہایت شفقت و محبت سے سمجھایا کہ وہ باقی چیزوں کو چھوڑ کر صرف اور صرف پڑھائی پر توجہ دے لیکن قیس کے دل میں صرف لیلیٰ تھی۔ اسے درس کے الفاظ سمجھ نہ آتے تھے بلکہ یوں لگتا تھا کہ استاد صرف لیلیٰ کے نام کی تکرار کر رہا ہے۔ اور تو اور قیس کے ہم جماعتوں اور ہم مکتب ساتھیوں نے بھی اپنے اپنے انداز میں اسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن ہر کسی کا ”کلام نرم و نازک“ بے اثر ہی گیا۔ قیس سوائے لیلیٰ کے کچھ دیکھنے اور سننے کو تیار نہ ہوا۔
دوسری طرف لیلیٰ کی حالت بھی قیس سے کچھ زیادہ مختلف نہ تھی۔ قیس کی محبت نے اس پر مقناطیسی اثر کیا اور وہ خود بھی بے اختیار اس کی کھینچی چلی گئی۔ اگر قیس کو اسے بن دیکھے قرار نہ تھا تو لیلیٰ بھی اس کے بغیر نہ رہ پاتی تھی۔ اگر قیس بے چین تھا تو لیلیٰ کی بے قراری بھی دیدنی ہوتی۔ قیس سے ا س کی وابستگی کا عالم یہ تھا کہ بعض اوقات سزا قیس کو ملتی لیکن زخموں کے نشان لیلیٰ کے بدن پر پائے جاتے۔ وہ خود بھی بے تابی سے قیس کی منتظر رہتی۔ مدرسے میں ایک لمحے کے لیے بھی وہ قیس کو نظروں سے اوجھل نہ ہونے دیتی اور اگر کسی وجہ سے قیس سے اس کا سامنا نہ ہو پاتا تو وہ ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگتی۔کیونکہ لڑکی ہونے کی وجہ سے اس سارے قصبے میں زیادہ بدنامی اسی کی تھی لیکن اس کا ایک ہی جواب ہوتا کہ اسے خود پر اختیار ہے نہ دل پر۔ لیلیٰ کے والد کو بھی اس واقعے کی خبر کردی گئی۔ معاملہ بیٹی اور اس کی عزت کا تھا اس لیے وہ بھی طوفان کی طرح دمشق پہنچا۔ بدنامی کے خوف سے اس نے زیادہ واویلا تو نہ کیا لیکن تمام لوگوں کے سمجھانے اور یقین دہانیوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے اس نے انتہائی قدم اٹھانے میں ایک لمحے کی بھی تاخیر نہ کی۔ اس کی اپنی عزت اور نیک نامی داؤ پر لگ رہی تھی۔ اس لیے اس نے کسی اور کو الزام دینے کے بجائے لیلیٰ کا مدرسے جانا بند کر دیا۔ لیلیٰ نے شور مچایا لیکن والد کے سامنے اس کی ایک نہ چلی۔ چند دن دمشق میں رہ کر اس نے حالات سنبھلنے کا انتظار کیا لیکن اسے خوب اندازہ تھا کہ پانی سر سے گزر چکا ہے چنانچہ اس نے بیٹی کو ساتھ لیا اور واپس نجد روانہ ہو گیا جہاں اس وقت اس کا قبیلہ رہائش پذیر تھا۔ اس نے لیلیٰ کو خیمے میں قید کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں! لیلیٰ مجنوں: قسط 4 ٹھہرے ہوئے پانی میں پہلا پتھر!…… حافظ طارق عزیز
قیس کو کانوں کان خبر نہ ہوئی کہ اس کی محبوبہ کو اس سے جدا کر د یا گیا ہے۔ وہ چند دن اسی انتظار میں رہا کہ اب کہیں سے لیلیٰ چاند کی طرح اس کے سامنے آجائے گی لیکن ایسا نہ ہوا، بالآخر اسے علم ہوا کہ لیلیٰ کو اس کا باپ واپس نجد لے گیا ہے اور وہ اب کبھی دمشق نہیں لوٹے گی۔ بس اتنا سننا تھا کہ قیس کے ہوش و حواس نے اس کا دامن چھوڑ دیا اور اس پر دیوانگی کے دورے پڑنے لگے۔ وہ لیلیٰ کے بغیر ایک پل نہیں رہ سکتا تھا۔ اس کے اردگرد موجود لوگوں نے اسے تسلی دینے اور بہلانے کی کوشش کی تو اس نے ان سے دور جانے میں ہی عافیت جانی چنانچہ ایک روز لیلیٰ کا یہ دیوانہ چپ چاپ شہر چھوڑ کر صحراؤں کی جانب نکل گیا۔
دوسرے جانب لیلیٰ کی حالت بھی دگرگوں تھی۔ قیس نظروں سے اوجھل ہو ا تو اسے یوں محسوس ہوا جسم کا کوئی حصہ ہی کہیں ٹوٹ کر گر گیا ہو۔ وہ سخت پہرے میں تھی اس لیے خیمے سے نہ نکل سکی لیکن اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا اور بول چال بند کردی۔ اب قیس صحرا نور دی کرتا۔ اسے کپڑوں کا ہوش تھا نہ کھانے کا دھیان۔ لیلیٰ کے فراق نے اسے ہر قسم کی دنیاو ی ضرورت اور قید وبند سے آزاد کر دیا تھا۔ جسم پر کپڑوں کی جگہ چیتھڑے لٹکے تھے۔ کئی کئی روز بھوکا رہنے کی وجہ سے وہ انسان کے بجائے ہڈیوں کے پنجر میں تبدیل ہو گیا تھا۔کبھی وہ خود کلامی کرتا،کبھی محسوس ہوتا کہ وہ کچھ گنگنا رہا ہے۔
باقی الفاظ تو لوگوں کی سمجھ میں نہ آتے لیکن ”لیلیٰ۔۔۔۔لیلیٰ“ کی صدا وہ ضرور پہچان لیتے۔ اسی دیوانگی کو دیکھ کر لوگوں نے اسے قیس کی جگہ مجنوں یعنی دیوانہ اور پاگل کہنا شروع کر دیا۔ ابتدا میں تو یہ مجنوئے لیلیٰ تھا لیکن پھر یہ خالی مجنوں رہ گیا اور اب صورت حال یہ ہے کہ لوگ قیس کو صرف مجنوں کے نام سے ہی جانتے پہنچانتے ہی۔ ایک عرب سردار کا بیٹا اور قبیلے کا ولی عہد محبت، چاہت اور دیوانگی کی ایک ایسی علامت بن گیا جو انمول اور منفرد ہے۔
یہ بھی پڑھیں! لیلیٰ مجنوں: قسط 3 ”رومیو جیولیٹ“ لیلیٰ مجنوں کا چربہ…… حافظ طارق عزیز
بعض روایت میں ہے کہ نجد کے سردار کا ایک محل بھی تھا اور لیلیٰ کو اسی محل میں قید رکھا گیا تھا۔ مجنوں کو اس کا علم تھا لیکن اس کی وہاں تک رسائی نہیں تھی کیونکہ محل کے گرد کڑا پہرا تھا۔ لیلیٰ کو گھر سے نکلنے کی اجاز ت نہ تھی جبکہ پہرے داروں کو حکم تھا کہ وہ مجنوں کو محل کے قریب بھی نہ پھٹکنے دیں۔ لیکن ایک روز مجنوں اس کوچے میں جا نکلا جہاں لیلیٰ کا محل واقع تھا۔ اس کی ظاہری اور جسمانی حالت اس قدر خراب اور دگرگوں ہو چکی تھی کہ کوئی بھی اسے قیس کی حیثیت سے پہچان نہیں سکتا تھا۔ لیکن وہ لیلیٰ کا نام پکارتا تھا تو لوگوں کو علم ہوتا کہ یہی پاگل در حقیقت قیس ہے۔ مجنوں۔۔۔”آ ہ لیلیٰ۔۔۔آہ لیلیٰ۔۔۔“پکارتا اور آہ وبکا کرتا محل کے قریب سے گزر ا تو اس کی درد میں ڈوبی آواز لیلیٰ کے کانوں تک جا پہنچی جو اس وقت اپنے والد کے ساتھ گفتگو میں مصروف تھی۔
محبوب کی آواز کانوں میں پڑی تو لیلیٰ بے قرار ہو گئی۔ وہ اس کی ایک جھلک دیکھنا چاہتی تھی کیونکہ وہ ایک عرصے سے اپنے محبوب کے دیدار سے محروم تھی۔ اس نے اپنے والد سے کوئی بہانہ کیا جو اس تمام صورت حال سے بے خبر تھا اور اس طرف بھاگی جہاں سے آواز آ رہی تھی۔ لیلیٰ نے اپنے محل کی بالائی منزل کی کھڑکی کھولی تو اسے نیچے گلی میں ایک نہایت مفلوک الحال اور ہڈیوں کا پنجر نما شخص گزرتا نظر آیا جس کے ہونٹوں سے کراہ کی صور ت اسی کا نام نکل رہا تھا۔

Leave a Reply

Back to top button