تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحتٹیکنالوجی

لیونڈر ٹی: بے شمار طبی فوائد کی حامل

طب یونان میں لیونڈر کا پودا بطور دوا استعمال ہونے کی تاریخ بھی کئی صدیاں قبل مسیح سے پُرانی ہے اور اس پودے کو ہندو مت کے لوگ ہولی باسل کہتے ہیں

لیونڈر کے پودے کا شمار اُن پودوں میں ہوتا ہے جسکی افادیت سے انسان کو اپنی ابتدا کے ساتھ ہی آگاہ کر دیا گیا تھا ایک روایت میں ہے کہ مُوسی علیہ السلام بیمار ہُوئے تو اللہ نے اُن سے کہا کہ آپ ریحان کے پتے کھا لیں جو مُوسٰی علیہ السلام نے کھائے اور اُن کو شفا ہو گئی طب ایوردیک اور طب یونان میں لیونڈر کا پودا بطور دوا استعمال ہونے کی تاریخ بھی کئی صدیاں قبل مسیح سے پُرانی ہے اور اس پودے کو ہندو مت کے لوگ ہولی باسل کہتے ہیں اور کئی جگہ تو اس کی پُوجا بھی کرتے ہیں اور اس کی وجہ شائد یہی ہے کہ یہ پودا انسان کے لیے بیشمار طبی فوائد اپنے اندر رکھتا ہے جو اسے زمین پر اُگنے والے دوسرے پودوں سے ممتاز کرتا ہے

جاپان کے ماہرین صحت نے کہا ہے کہ لیونڈر کی خوشبو سونگھنے سے اعصاب کو سکون دے کر ذہنی تناو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔جاپانی ماہرین کی جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بنفشی رنگت کی اس جادوئی بوٹی کی خوشبو کو نیند کی گولیوں کی جگہ استعمال کرسکتے ہیں اور اس کے کوئی منفی اثرات بھی نہیں ہوتے۔ اسی بنا پر دن میں ایک سے دو مرتبہ لیونڈر سونگھنے سے موڈ بہتر رہتا ہے۔

ماہرین نے کا کہنا ہے کہ سرجری کے بعد درد سے کراہتے مریضوں کی تکلیف بھی اس کی خوشبو سونگھنے سے کم ہوجاتی ہے۔ دنیا بھر کے بیشتر ممالک میں ایک عرصے سے یہ خوشبو سکون آور تصور کی جاتی رہی ہے۔ماہرین نے کہا ہے کہ لیونڈر کا تیل ملنے کے مقابلے میں خوشبو سونگھنے سے بہت فائدہ ہوتا ہے اور کچھ دیر میں دماغ ہلکا ہوجاتا ہے۔ اسی لیے سوتے وقت بھی لیونڈر کی خوشبو سونگھنا بہت مفید ہوتا ہے جس سے بے چینی، الجھن اور ذہنی تناو رفع ہوتا ہے۔

بھارتی روزنامہ انڈین ایکسپریس میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق لیونڈرکو جڑی بوٹیوں کی ملکہ کہا جاتا ہے۔یہ ایک جراثیم کش پودا ہے چہرے پر اس کا استعمال کیل مہاسوں اور دانوں سے محفوظ رکھتا ہے دوران خون بہتر کرتا ہے اور چہرے پر نکھار لاتا ہے۔

سائنس کی بہت سی تحقیقات کے مطابق اس کا سارا پودا ہی یعنی پتے ٹہنیاں بیج پھول سب دافع امراض ہیں اور یہ پھیپھڑوں ملیریا ڈائریا متلی الٹی،جلد کی بیماریوں، معدے کے سرطان، آنکھوں کی بیماریوں اور جسم سے زہر ختم کرنے کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ جہاں اور کئی بیماریوں میں مُفید ہے وہاں بیشمار نیوٹریشن خوبیوں کا حامل ہے، جس میں وٹامن اے وٹامن سی کیلشیم زنک آئرن کلوروفیل جیسے اہم نیوٹریشنز شامل ہیں۔اس کے استعمال سے سے جسم پر دانے اور کیل مہاسے نکلنے کی شکایت باقی نہیں رہتی۔

ذہنی تناؤ اور اضطراب موجودہ دور میں تیزی سے پھیلنے والی بیماریاں ہیں جن کا شکار بڑوں کے ساتھ ساتھ بچے بھی ہو رہے ہیں اور سائنس کے مُطابق یہ اجزا سے بھرپور ہے کہ جو ذہنی تناؤ اور دماغ کے افعال کو درست رکھنے میں اکسیر کا درجہ رکھتے ہیں۔ طب ایوردیک کے مُطابق اس میں اینٹی ڈپریشن اور اینٹی انگزائٹی خوبیاں شامل ہیں جو دماغ کو مُشکلات سے لڑتے ہُوئے پریشان نہیں ہونے دیتی اور پریشانی میں دُرست فیصلہ کرنے کی قوت دیتی ہیں۔
یہ اینٹی آکسیڈینٹ خوبیوں سے بھر پور ہے اور جسم کو جہاں توانا رکھنے میں انتہائی مدد گار ہے وہاں یہ جسم کے اندر موجود فاضل اور نقصان دہ مادوں کو خارج کر کے خون کو صاف کرتا ہے اور جسم کو کینسر جیسے موذی مرض سے بچا کر رکھتا ہے

اس کا بہترین استعمال اس کی چائے بنا کر پینا ہے، جو دن ایک بار کافی ہوتی ہے۔ شہد میں ملا کر پینے سے گردے کی پتھری خارج ہو سکتی ہے۔

Leave a Reply

Back to top button