تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

لیچی: وبائی امراض سے بچاؤ کا قدرتی معاون

لیچی میں وٹامن سی وافر مقدار میں ہوتا ہے، جبکہ وٹامن اے، بی اور ڈی کے علاوہ اس میں فائبر،تانبا، میگنیشیم، فاسفورس، آئرن، میگنیز سوڈیم اور پوٹاشیم کی بھی خاصی مقدار ہوتی ہے۔ جبکہ رائبو فلاوین، فلیوینول، امینو ایسڈ، انتھوساینڈنز اور لیچیٹینین اور دیگر مرکبات پائے جاتے ہیں۔

لیچی کا شمارگرمیوں کے خاص پھلوں میں ہوتا ہے۔یہ ایک لذیز پھل ہے جس کی چھال سرخ رنگ کی ہوتی ہے۔ اندر سفید گودا اور ایک گٹھلی ہوتی ہے۔ اس کا اصل وطن چین ہے۔ جہاں اسے11 ویں صدی سے کاشت کیا جا رہا ہے۔ تاہم اب دنیا کے اکثر علاقوں میں کاشت کیا جاتا ہے۔اسے خاص طور پر جنوبی ایشیا کے ممالک میں بہت پسند کیا جاتا ہے۔ اس کا درخت سدابہار ہوتا ہے اور عموماً 10 سے 15 فٹ کی اونچائی تک پہنچ سکتا ہے۔ بڑے پیداواری ممالک میں چین، تھائی لینڈ، ویتنام اور بھارت شامل ہیں۔ بھارت کی کل پیداوار کا 75فیصد صرف صوبہ بہار میں ہوتا ہے۔ جبکہ پاکستان میں بھی اس کی کاشت ہوتی ہے۔لیچی لذیز ہونے کے ساتھ ساتھ غذائی اعتبار سے بھی بہت عمدہ پھل ہے۔اس کی کاشت اکتوبر میں ہوتی ہے پاکستان کے تمام علاقوں میں کامیابی سے اگایا جا سکتا ہے۔ اس کا پودا نرسریوں میں باآسانی دستیاب ہیں۔

لیچی میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
لیچی میں وٹامن سی وافر مقدار میں ہوتا ہے، جبکہ وٹامن اے، بی اور ڈی کے علاوہ اس میں فائبر،تانبا، میگنیشیم، فاسفورس، آئرن، میگنیز سوڈیم اور پوٹاشیم کی بھی خاصی مقدار ہوتی ہے۔ جبکہ رائبو فلاوین، فلیوینول، امینو ایسڈ، انتھوساینڈنز اور لیچیٹینین اور دیگر مرکبات پائے جاتے ہیں۔

لیچی کے طبی فوائد:
لیچی مدافعتی طاقت اور خون کے دورانیے سے لے کر جلد کو بہتر بنانے میں مددگار ہے۔ غذائی ماہرین کے مطابق اس میں وٹامن سی کی کافی مقدار پائی جاتی ہے جب کہ یہ جسم میں پانی کی کمی کو بھی پورا کرتی ہے۔

مدافعتی قوت کو بڑھائے:
لیچی کے اندر وٹامن سی کی بھرپور مقدار پائی جاتی ہے اس کے ساتھ ہی یہ 100 فیصد روزانہ ایسکوربک ایسڈ اے بی اے بھی فراہم کرتی ہے جو قوت مدافعت کے لیے مفید ثابت ہے۔ وٹامن سی خون کے وائٹ سیلز کو بھی متحرک کرتے ہیں۔

ہاضمہ تیز کرے:
لیچی فائبر بھی فراہم کرتی ہے جو کہ ہاضمے کی قوت کو بڑھاتا ہے۔ اس کی وجہ سے قبض، پیشاب اور پیٹ میں تکالیف کی شکایت سے محفوظ رہا جاسکتا ہے جب کہ یہ گیسٹرک کی شکایت کو بھی دور کر دیتی ہے جس کی وجہ سے ہاضمے کا نظام بہتر طور پر کام کرتا ہے۔

وائرس سے بچائے:
لیچی میں پرانتھوساینڈنز اور لیچیٹینین ہوتا ہے جس کے اندر یہ خاصیت پائی جاتی ہے کہ وہ ہر قسم کے وائرس سے تحفط فراہم کرسکتا ہے اور اس طرح جسم میں وائرس کو پھیلنے سے روکتا ہے۔

خون کی گردش بہتر کرے:
لیچی میں کاپر کی مقدار بھی شامل ہوتی ہے جس کی مدد سے جسم میں خون کی گردش بہتر ہوتی ہے جب کہ آئرن اور کاپرجسم میں ریڈ بلڈ سیلز بنانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ریڈ بلڈ سیلز کی تعداد زیادہ سے زیادہ ہونا خون کی گردش، آرگنز اور سیلز کی آکسیجینیشن بڑھاتے ہیں۔

بلڈ پریشر کنٹرول کرے:
لیچی کھانے سے ہمارے بلڈ پریشر کی سطح برقرار رہتی ہے، اِس میں پوٹاشیم ہوتا ہے جو آپ کے بلڈ پریشر کو منظم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے اور ماہرین کہتے ہیں کہ اگر آپ کو اپنے بلڈ پریشر کی سطح برقرار رکھنی ہے تو آپ اپنی خوراک میں پوٹاشیم لازمی شامل کریں، لہٰذا اگر آپ کو بھی اپنے بلڈ پریشر کو منظم رکھنا ہے تو آپ روزانہ لیچی کھائیں اور صحت مند رہیں۔

جلد کے لیے مفید:
لیچی کے جِلد کی خوبصورتی کے حوالے سے بھی بہت سے فوائد ہیں، لیچی میں پائی جانے والی متعدد خصوصیات آپ کی جِلد کو بہت سے فائدے پہنچاسکتی ہیں۔لیچی میں موجود وٹامن سی آپ کی جِلد کو صحت اور حسین و جمیل بناتا ہے اور اِس کے علاوہ چہرے سے بڑھتی عُمر کے اثرات بھی ختم کرتا ہے۔ جلد کو جھائیوں، داغ اور دھبوں سے محفوظ رکھتی ہے۔ اِس میں موجود اینٹی آکسیڈینٹ ڈپریشن اور تناوؤ سے لڑنے میں بھی مدد کرتا ہے۔

وزن میں کمی:
لیچی میں قدرتی طور پر فائبر موجود ہوتا ہے جو آپ کے بڑھتے وزن کو کم کرنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے، لیچی میں پانی کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہماری بھوک میں کمی ہوتی ہے، لیچی ہمارے جسم میں موجود زائد کیلوریز کی تعداد بھی کم کرتی ہے، لہٰذا اگر آپ بڑھتے وزن کی وجہ سے پریشان ہیں تو موسم گرما میں لیچی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اپنے وزن کو کم کریں۔اسے وزن کم کرنے کے لیے آئیڈیل پھل بھی سمجھا جاتا ہے۔

سوزش سے بچاو:
لیچی فلیوینول سے بھرپور ہوتی ہے جو ٹشوز کو نقصان پہنچنے سے بچاتے ہیں اور اس کی مدد سے سوزش سے بھی محفوظ رہا جاسکتا ہے۔

ہڈیوں کی مضبوطی:
لیچی میں شامل میگنیشیم، فاسفورس، آئرن، میگنیز اور کاپر کیلشیم کو ہڈیوں میں جذب کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہڈیاں مضبوط اور طاقتور ہونے میں مدد ملتی ہے۔

احتیاط: ماہرین کے مطابق لیچی میں غیر معمولی مقدار میں امینو ایسڈ ہوتا ہے، جس کے زیادہ استعمال سے دماغ کو درکار گلوکوز شدید متاثر ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Leave a Reply

Back to top button