کالم

مادر پدر آزاد معاشرہ

ہم جیسے لوگوں کی ڈھٹائی کا بھی جواب نہیں جو آئے روز مرتے اور پھر زندہ ہو جاتے ہیں۔ میرے سامنے ایک عجیب سی تصویر ہے جس میں سر برہنہ عبدالستار ایدھی پریشان بیٹھے ہیں کیونکہ ایدھی صاحب کو ان کے ہیڈ آفس میں یرغمال بنا کر 5کلو سونا اور کروڑوں روپے کیش لوٹ لئے گئے۔ ایدھی بابا جیسے درویش کے لٹنے پر مجھے اپنا اک اور درویش بابا یاد آتا ہے جو لاہور کی سڑکوں پر کسی آسیب زدہ سائے کی طرح منڈلایا کرتا تھا۔ اسی درویش نے ایک بار کہا تھا……..آﺅ اک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں اسی ہشیار مجذوب کا اک شعری قول ایسا بھی ہے جسے سونے کے حروف میں ڈھال کر قومی اسمبلی کے گلے میں ڈال دینا چاہئے۔جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہےاور یہ تو کمائی بھی نہیں امانتیں تھیں۔اس واردات پر بلاول بھٹو کا ردعمل اس کی حالیہ تقریر سے کہیں زیادہ موثر اور طاقتور ہے جب وہ حیران ہو کر کہتا ہے۔”کوئی پاکستانی اس حد تک بھی گرسکتا ہے “۔سچ یہ کہ ہم اجتماعی طور پر ایسے ہی بھیانک زوال کا شکار ہیں ورنہ میں بار بار تکرار کے ساتھ یہ کبھی نہ لکھتا کہ پاکستان کا مسئلہ تباہی سے دوچار اقتصادیات نہیں، اخلاقیات کا وہ جنازہ ہے جس کی نماز پڑھانے والا بھی کوئی نہیں اور یہی وہ معاشرہ ہے جس کے بارے میں مولانا فضل الرحمن کی یہ سطحی سی آبزرویشن پڑھ کر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے کہ ……..”دھرنوں کے ذریعہ مادر پدر آزاد معاشرہ تشکیل دینے کی سازش ہو رہی ہے “۔جہاں ”لیڈروں“ کی سوچ کا یہ لیول ہو، وہاں جتنی بھی بربادی مچے وہ کم ہے کہ یہ بیچارے جانتے ہی نہیں کہ اصل مسئلہ اور مرض کیا ہے ؟ اصل مسئلہ اور مرض سمجھنا تو زیادہ آسان نہیں، بریگیڈیئر(ر) اسلم گھمن کی کتاب پڑھ لیں جس کا عنوان ہے ……..”ہاں یہ سچ ہے “۔ بریگیڈیئر صاحب ”کے پی کے “ میں ”نیب “کے سربراہ رہے ہیں۔ لوٹ مار کی د یگر بیشمار داستانوں کے علاوہ گھمن صاحب یہ بھی لکھتے ہیں کہ ایک مذہبی رہنما کا بھائی قبرستانوں کی زمینوں پر بھی ہاتھ صاف کر رہا تھا۔ بریگیڈیئر صاحب نے نام نہیں لکھا، مولانا کو چاہئے انہیں اعتماد میں لیکر ”آف دی ریکارڈ“ اس مذہبی رہنما کا نام پوچھ لیں تو انہیں یہ سمجھنے میں آسانی رہے گی کہ ”مادر پدر آزادی“ نہیں حکمران طبقات کی بے غیرتی سے بھرپور لوٹ مار معاشروں کو برباد کرتی ہے کیونکہ ”خواص“ کی دیکھا دیکھی ”عوام “ بھی اسی رنگ میں رنگے جاتے ہیں۔اگر موسیقی، رخساروں پر پینٹ کئے گئے جھنڈے، ترانے، نغمے، گیت اور ان پر لڈی، بھنگڑا، دھمال ہی ”مادر پدر معاشرہ “ ہے تو سکینڈے نیویا سے زیادہ ”مدر پدر آزاد“تو دنیا بھر میں کوئی معاشرہ نہیں لیکن وہاں کے لیڈر قبرستانوں کی زمینوں پر قبضے نہیں کرتے، بادشاہ بھی قطار میں کھڑے ہو کر باری کا انتظار کرتے ہیں، رہنما پرمٹوں پر ضمیر نہیں بیچتے، نہ کوئی وی آئی پی نہ پروٹوکول نہ لوٹے نہ گھوڑے نہ مذہب کے شاپنگ مالز نہ نظریات کی گرینڈ سیل، لائ اینڈ آرڈر مضبوط ، معیشت منصفانہ، جان ومال سے لیکر عزت وآبرو تک کی حفاظت یقینی، جرائم سے پاک اور کبھی جرم ہو بھی تو کوئی غیر ملکی ہی ملوث پایا جاتا ہے۔ کوئی دکھاوا، ڈھونگ، بہروپ ڈھکوسلا نہیں لیکن معاشرے ایسے کہ آدمی اش اش (عش عش )کر اٹھے۔ میں نے مسلسل دیکھا کہ ان کی عبادت گاہیں خالی ہیں، طویل غوروفکر کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ یہ عبادت اس لئے نہیں کرتے کہ انہوں نے پوری زندگی کو ہی عبادت بنا لیا ہے نہ جھوٹ نہ خوشامد نہ رشوت نہ ملاوٹ نہ اسراف نہ نمودونمائش نہ غرور نہ تکبر نہ چوری نہ ڈاکہ نہ گندگی نہ غلاظت نہ منافقت نہ مصلحت نہ افراتفری نہ نفسانفسی، نہ جہالت نہ تعصب نہ حرام خوری نہ کام چوری نہ ناجائز منافع نہ ذخیرہ اندوزی نہ کمیشن نہ کک بیک نہ قبضہ گروپ نہ شوگر، پولٹری، پراپرٹی اور کوڈیٹی مافیاز اور نہ زمینی خداﺅں کی بھرمار۔پچھلے دنوں اوسلو کے مضافات میں اک دلچسپ حادثہ ہوا دومقامی کسانوں کی زمینیں ساتھ ساتھ تھیں۔ ایک کسان کے پالتو کتے نے دوسرے کے کھیت میں اوپر نیچے دو تین بار گڑبڑ کی تو اس نے پڑوسی سے شکایات کی۔ پڑوسی نے معذرت کے بعد حد درجہ احتیاط شروع کر دی کہ چند ہفتوں بعد شرارتی کتا کسی طرح نکل کر پھر مالک کے پڑوسی کی کھیتی خراب کرنے لگا جس پر اسے گولی مار دی گئی۔ چند روز کے اندر اندر یہ خبر قرب وجوار میں پھیلی تو عوام کتے کی ”قتل گاہ “پر پھول چڑھانے اور شمعیں جلانے میں مصروف ہوگئے کہ ”معصوم کتے “ کا قصور اتنا نہیں تھا جتنی اسے سزا دی گئی۔نوبت یہاں تک جا پہنچی ،سوشل پریشر اتنا بڑھ گیا کہ کتے کو گولی مارنے والے کسان نے احساس جرم میں مبتلا ہونے کے سبب خودکشی کی کوشش کی جسے ناکام بنا دینے کے بعد اسے سمجھایا گیا کہ اب تم دوسری انتہا پر جا رہے ہو۔میں ذاتی طور پر اوسلو کے ایسے بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں جو ٹین ایج میں کسی بھی جرم پر جیل بھیجے گئے اور وہاں سے بیرسٹرز اور چارٹرڈ اکاﺅنٹنٹس بن کر نکلے اور آج ان کے شمار کمیونٹی لیڈرز میں ہوتا ہے ……..یہ ہے وہ مادر پدر آزاد معاشرہ جو آج انسانیت کے ماتھے کا جھومر ہے۔ہو سکے تو ”مدر پدر آزاد معاشرہ “ جیسی اصطلاح پر ازسرنو غور کرکے اسے REDEFINE کرنے کی کوشش کرو۔ مادر پدر آزاد معاشرہ وہ نہیں جس کی طرف مولانا فضل الرحمن اشارہ فرما رہے ہیں اور جو ان کیلئے کسی ”بوسئہ مرگ“سے کم نہیں ہو گا بلکہ ”مادر پدر آزاد معاشرہ“ تو یہ ہے جسے تبدیل کرنے کیلئے ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان دھرنے دے رہے اور جلسے کر رہے ہیں۔مادر پ
در آزاد معاشرہ صرف وہ ہوتا ہے جہاں حکمران طبقات ”آزاد“ اور انصاف ”قید“ میں ہو۔ شاید وہ وقت دور نہیں جب مادر پدر آزاد بہروپئے قید اور انصاف آزاد ہو گا۔ عمران کے ”ڈنڈے“ اور ڈاکٹر طاہر القادری کے ”ایجنڈے“ نے بہت سے سیاسی و مذہبی اجارہ داروں کے حواس چھین لئے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button