HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » انٹرویوز » ماں کی دُعائیں ہر مقام پر کام آئیں: محسن عباس حیدر

ماں کی دُعائیں ہر مقام پر کام آئیں: محسن عباس حیدر

پڑھنے کا وقت: 5 منٹ

معروف اداکار و گلوکار کی ثاقب اسلم دہلوی سے گپ شپ

محنتی انسان کا کردار ہر شعبے میں مثالی اور دوسروں کے کے لئے مشعل راہ ہوتا ہے۔ وہ ان لوگوں کے لئے ایک ماڈل ہوتا ہے جو اُس جیسا بننے کے خواب آنکھوں میں سمائے زندگی کے سفر پر نکلتے ہیں۔ میں آج جس فنکار کا تعارف آپ سے کرانے جا رہا ہوں ان کی زندگی کے بہت سے پہلو ہیں مگر سب سے نمایاں اِن میں باادب ہونا اور اپنے کام کا ہو کر رہنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کے چاہنے والوں کا دائرہ کار صرف پاکستان ہی میں نہیں بلکہ بیرونِ ملک تک پھیل ہوا ہے۔ اس نوجوان، عظیم اور ہردلعزیز فنکار کا نام ہے محسن عباس حیدر۔ گزشتہ دنوں کراچی میں وہ ایک شوٹ کے سلسلے میں مصروف تھے، ہم نے موقع کو غنیمت جانا اور ان کے قیمتی وقت میں سے چند منٹ چُرا لئے اور ان کے ساتھ ایک مختصر نشست کی جس میں ہونے والی گفتگو قارئین کے لئے پیش ہے۔

سوال: محسن !آپ سب سے پہلے ہمارے قارئین کو یہ بتائیں کہ آپ پیداکب ہوئے؟
محسن عباس حیدر: میں 18 اگست کو پیدا ہو تھاا۔
سوال :آپ کراچی کب شفٹ ہوئے ؟
محسن عباس: میں 2005ء کے آس پاس کراچی شفٹ ہوا تھا اور نیشنل اکیڈمی آف پرفامنگ آرٹس ’’ناپا‘‘ سے باقاعدہ سیکھنے کا آغاز کیا۔ میں نے استاد سلامت علی خان سے موسیقی کے حوالے سے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران مجھے نجی چینل سے ایک پروگرام کی آفر بھی ہوئی، اس کے ساتھ ہی ’’بی این این‘‘ پروگرام بھی کیا، میں نے 10 سال تک ریڈیو پر بھی کام کیا ہے۔
سوال: اتنا زیادہ کام سننے میں تو آسان لگ رہا ہے، آپ کو یہ مقام حاصل کرنے کے لئے کس قدر محنت کرنا پڑی؟
محسن عباس: جی یہ سننے میں ضرور آسان لگ رہا ہے مگر اسٹرگل کیا ہوتی ہے، اس کی اہمیت وہی جانتا ہے جو اس راستے پر چلا ہو۔ اس پر چلتے ہوئے کوئی شارٹ کٹ نہیں ملتا اور نہ ہی شارٹ کٹ کی تلاش میں رہنے والے کبھی کامیاب ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں! فلم میں کام کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کروں گی: سحر خان

سوال: آپ کراچی سے لاہور کب گئے؟
محسن عباس : جب مجھے ’’مذاق رات‘‘ کی پیشکش ہوئی جس میں شائقین نے مجھے اور میرے کام کو بہت زیادہ پسند کیا، اسی پروگرام کے لئے میں کراچی سے لاہور شفٹ ہوا۔
سوال: لوگ سمجھتے ہیں کہ آپ ’’مذاق رات‘‘ پروگرام میں آئے اور تب آپ چھا گئے۔ آپ کیا کہیں گے؟
محسن عباس: ہاں کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں نے اس پروگرام سے آغاز کیا اور آتے ہی چھا گیا مگر ایسا نہیں ہے۔ مجھے اس فیلڈ سے منسلک ہوئے 13 سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے، یہ ایک مشکل شعبہ ہے، یہاں شناخت بنانے کے لئے سفارش نہیں چلتی، آپ کی اپنی صلاحیتیں اور آگے بڑھنے کا جذبہ ہی کام آتا ہے۔

سوال: کہتے ہیں کہ اس فیلڈ میں سفارش کے بغیر کام نہیں ملتا، آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟
محسن عباس: میں کسی اور کی مثال نہیں دوں گا بلکہ آپ میری مثال ہی لے لیں۔ میں جب لاہور سے یہاں 2005ء میں ’’ناپا‘‘ میں آیا تو میری کوئی سفارش نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اپنی محنت پر یقین تھا اور دیکھ لیں اس یقین کے سفر نے مجھے آج کہاں لاکھڑا کیا ہے۔ میری محنت اور یقین کے ساتھ میری ماں نے میرے لئے جو دُعائیں کیں وہ اب بھی میرے ساتھ ہیں۔
سوال: آپ نے اب ایک مقام حاصل کر لیا ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں آپ ایک مکمل فنکار گئے ہیں؟
محسن عباس: دیکھیں میں خود کو مکمل نہیں سمجھتا۔ آج بھی بہت کچھ سیکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔
سوال: سوشل میڈیا پر یقیناً آپ کو بھی میسجز آتے ہوں گے کام مانگنے والوں کے؟
محسن عباس: جو لوگ دوسرے فنکاروں کو میسجز کرتے ہیں کام مانگنے کے لئے تو میں ان سے یہی کہوں گا کہ بھائی ہمارا کام تو ہوائی روزی ہے۔ اداکار کبھی کام نہیں دلا سکتا، وہ تو خود کسی پروڈکشن ہاؤس سے کام کا منتظر ہوتا ہے۔ ہاں اگر آپ میں صلاحیتیں ہیں اور آپ محنت پر یقین رکھتے ہیں تو آپ کو خود ہی تلاش کر لیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں! کل بھی فلم انڈسٹری کے لئے حاضر تھا، آج بھی ہوں: شامل خان

سوال: فلم میں کام کرنے کا آپ کا تجربہ کیسا تجربہ رہا؟
محسن عباس: فلموں میں کام کرنے کا میرا تجربہ بہت زبر دست رہا۔ بلال میرے کام کو پسند کرتا تھا۔ اسی نے مجھ سے کہا کہ اگر میں نے کبھی فلم بنائی تو تجھے بھی لوں گا اور جب اس نے فلم پر کام شروع کیا تو مجھے موقع دیا اور میرے کام کو اللہ تعالیٰ نے عزت بخشی اور میرے کریکٹرز ہٹ ثابت ہوئے۔
سوال : جو ڈرامہ سیریل آپ اب کر رہے ہیں، یہ پروجیکٹ کیسا ہے؟
محسن عباس : اس پروڈکشن ہاؤس کی اور میری کافی دیر سے ایک ساتھ کام کرنے کی خواہش تھی مگر تاریخوں کے ایشو کی وجہ سے ہم اکھٹے نہیں ہو پا رہے تھے مگر پھر سبب بن گیا اور میں اب ان کے لئے اقبال حسین کی ہدایت کاری میں پروجیکٹ کر رہا ہوں۔ اس میں میرا کریکٹر بہت اچھا اور منفرد ہے۔
سوال:آپ فلموں سے ڈراموں کی طرف آئے، دونوں پلیٹ فارمز میں آپ کے نزدیک واضح فرق کیا ہے؟
محسن عباس: پرفامنس کا فرق ہے، دونوں الگ اسکرینز ہیں، دونوں کا مزاج الگ الگ ہے، جسے کیچ کرنے والا ہی کامیاب ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت کم فنکار فلم اور ٹی وی میں یکساں مقبولیت برقرار رکھ پاتے ہیں۔

سوال:آپ اب تک کتنی فلمیں کر چکے ہیں؟
محسن عباس: میں اب تک چار فلموں میں کام کر چکا ہوں اور ثاقب ملک کی فلم ’’باجی‘‘ تیاری کے مراحل میں ہے۔
سوال: آپ اتنا مقام حاصل کرنے کے باوجود اس قدر سادہ طبیعت کے مالک کیوں ہیں؟
محسن عباس: جی بالکل میں ایسا ہی ہوں کیونکہ انسان کو کبھی بھی تکبر کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ اسے ہر وقت یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ زوال ہر چیز کو ہے سوائے ذاتِ باری تعالیٰ کے۔ جب نہ آپ اور نہ ہی آپ کی زندگی مستقل ہے تو پھر یہ غرور کیسا؟ آپ آج ہو، کل پتہ نہیں ہوں گے یا نہیں؟ میں تو اکثر کہتا ہوں کہ آج ہم اسکرین پر ہیں اگر کل سکرین پر نہیں آئیں گے تو ہماری جگہ کسی اور کو مل جائے گی۔ یہ حقیقت ہے تو پھر اپنی شہرت اور مقام پر غرور کیسا؟

یہ بھی پڑھیں! ہمیں مزید اچھی فلمیں بنانا ہوں گی: اداکار سلیم معراج

سوال: آپ کو میوزک کا شوق کیسے ہوا؟
محسن عباس: مجھے میوزک کا شوق فیصل آباد میں اپنے کالج سے ہوا۔ وہاں شامِ غزل کے نام سے پروگرام ہوتا تھا جس میں پرفارم کرنے کے بعد میں اپنے کالج کا اسٹار بن گیا۔ اس کے بعد مجھے میوزک سوسائٹی کا صدر بنا دیا گیا مگر میں نے دیکھا کہ مجھ سے اچھا اور سیکھ کر گانے والے بھی موجود تھے۔ جب وہ میرے ساتھ ہوتے تو مجھے شرم محسو ہوتی تھی، اسی لئے میں نے باقاعدہ موسیقی سیکھنے کا فیصلہ کیا اور کراچی آ گیا۔
سوال: ’’کوک اسٹوڈیو‘‘ میں آپ کا تجربہ کیسا رہا؟
محسن عباس: سیزن 9 میں اچھی پرفارمنس رہی۔ ایک اچھی کاوش ہے انتظامیہ کی جس سے نئے لوگ سامنے آئے ہیں۔ ایسی سرگرمیاں زیادہ ہونی چاہیءں تا کہ مزید نئے لوگوں کو موقع مل سکے۔

جواب دیجئے