فن اور فنکار

’’ماں‘‘ ہونے کی بات راز رکھنے پر’’مس یوکرین‘‘ اعزاز سے محروم

ویب ڈیسک: جھوٹ بولنے اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر’’مس یوکرین‘‘ کا اعزاز حاصل کرنے والی 24 سالہ دوشیزہ سے اعزاز واپس لے لیا گیا۔ یورپی ملک یوکرین سے تعلق رکھنے والی ویرونیکا ددوسنکو 2018 میں یوکرین کی سب سے خوبسورت لڑکی قرار پائی تھیں۔
ویرونیکا ددوسنکو ’’مس یوکرین‘‘ منتخب ہونے کے بعد فلاحی منصوبوں میں مصروف ہوگئیں اور انہوں نے ملک بھر میں کافی شہرت بھی حاصل کی۔

ویرونیکا ددوسنکو کو مس یوکرین منتخب ہونے کے بعد عالمی سطح کے مقابلے حسن کے لیے بھیجا گیا، تاہم ’’مس ورلڈ‘‘ کا عالمی مقابلہ حسن شروع ہونے سے قبل ہی انتظامیہ کو علم ہوا کہ وہ ایک بچے کی والدہ ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق مس ورلڈ کا انعقاد کرنے والی انتطامیہ کو جب معلوم ہوا کہ 24 سالہ ویرونیکا ددوسنکو 5 سالہ بچے کی والدہ ہیں تو انہوں نے مس یوکرین منتظمین کو آگاہ کیا۔
مس یوکرین کا مقابلہ منعقد کرنے والے منتظمین نے تفتیش کے بعد ویرونیکا ددوسنکو کو ایک 5 سالہ بچے کی والدہ قرار دیا۔

بچے کی والدہ ہونے کی بات چھپانے کے جرم میں ’’مس یوکرین‘‘ کی انتظامیہ نے ویرونیکا ددوسنکو سے اعزاز واپس لے لیا، جس کے بعد انہیں ’’مس ورلڈ‘‘ کے مقابلے کے لیے بھی نااہل قرار دے دیا گیا۔
تنظیم کی جانب سے اعزاز واپس لیے جانے کے بعد ویرونیکا ددوسنکو نے تنظیم کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کردیا۔
واضح رہے کہ ’’مس ورلڈ‘‘ کے مقابلے میں صرف وہی دوشیزہ حصہ لے سکتی ہے جو اپنے ملک کی سب سے حسین لڑکی منتخب ہوئی ہے اور اس کا انٹری اس کے ملک میں حسن کے مقابلے کا انعقاد کرنے والی تنظیم بھیجتی ہے۔
’’مس ورلڈ‘‘ کے 1951 میں بنائے گئے ضوابط و اصولوں کے مطابق مقابلہ حسن میں حصہ لینے والی لڑکی کا غیر شادی شدہ ہونا اور کسی طرح بھی بچے کی والدہ ہونا ممنوع ہے۔
مس ورلڈ کی طرح مس یوکرین سمیت دیگر ممالک میں ہونے والے حسن کے مقابلوں کے بھی یہی ضوابط ہیں اور کسی بھی شادی شدہ یا بچے کو جنم دینے والی خاتون کو مقابلے کے لیے اہل قرار نہیں دیا جاتا۔

اگر کوئی خاتون شادی اور بچے کے جنم کو خفیہ رکھیں گی تو اس کا انکشاف ہونے پر ان سے اعزاز واپس لے لیا جاتا ہے، چاہے انہیں مقابلہ جیتے ہوئے کئی سال کیوں نہ گزر چکے ہوں۔
مس ورلڈ کی طرح مس یوکرین سمیت دیگر ممالک میں ہونے والے حسن کے مقابلوں کے بھی یہی ضوابط ہیں اور کسی بھی شادی شدہ یا بچے کو جنم دینے والی خاتون کو مقابلے کے لیے اہل قرار نہیں دیا جاتا۔

Leave a Reply

Back to top button