سیلف ہیلپ

مایوس حالات میں پریشان مت ہوں…… سید ثمر احمد

مجھے انگوٹھی پہ کوئی جملہ لکھوانا ہے۔ ایسا جملہ جو سخت وقت میں حوصلہ نہ ٹوٹنے دے اور اچھے میں تکبر سے دور رکھے، بادشاہ نے کہا۔ وزیر کچھ وقفہ کے بعد بولا ”یہ وقت بھی گزر جائے گا“۔ کتنی عجیب بات ہے، قدرت کیسے سکھاتی ہے۔ لائف لائن سکرین پہ اوپر نیچے چلتی رہے تو بندہ زندہ، اور اگر سیدھی ہو جائے تو مردہ۔ زندگی بھی ایسی ہی ہے۔ نشیب و فراز چلتے رہیں تو زندگی، ورنہ نہیں …… ایک پیر صاحب میرے پاس آئے، بھلے آدمی تھے۔ پریشانی میں مشاورت کرنا چاہتے تھے۔ والدین سے حصہ لے کے رینٹ اے کار بزنس شروع کیا۔ دو گاڑیاں لیں۔ ایک کوئی لے بھاگا، دوسری چوری ہو گئی۔ اب یہ بے چارگی کی حالت میں میرے پاس تشریف لائے۔ کہنے لگے سمجھ نہیں آ رہا کیا کروں۔ اللہ پہ اعتماد ہے۔ مایوس انداز میں کہا کہ ’میں مایوس نہیں ہوں‘۔ پر آپ کچھ مشورہ دیجیے۔ میں خاموشی سنتا رہا۔ جب سنا چکے تو پھر میں نے اپنی کہانی شروع کی۔ پوری بات سننے لینے کے بعد زیرِ لب مسکراتے ہوئے کہنے لگے کہ ”مجھے تو لگتا تھا کہ دنیا کا مظلوم ترین آدمی میں ہی ہوں۔ پر آپ کو سننے کے بعد تو………… آپ اب بھی بیٹھے مسکرا رہے ہیں۔ لگتا ہی نہیں اتنے بڑی مالی بحران سے گزر رہے ہیں۔“
جاننے والے دودھ کے ایک برانڈ کی ڈسٹریبیوشن ایجنسی چلاتے تھے۔ ایک رات ڈاکو آئے، چوکیدار باندھا۔ ٹرک ساتھ لائے۔ 20لاکھ کا سٹاک لوڈ کیا اور رفو چکر۔ سپلائی آتی جاتی رہتی تھی اس لیے ہمسایے بھی کاروباری سرگرمی سمجھے۔ صبح آئے تب پتا چلا۔ چوکیدار کو کھولا تو اس نے کہانی کہی…… یہ باڈی بلڈر تھے لیکن صدمہ سے نچلا دھڑ بے کار ہو گیا۔ انہیں صحت یاب ہوتے 6 ماہ لگ گئے۔ انہوں نے مالی نقصان کو اتنا ذہن پہ لیا گویا زندگی ختم ہو گئی اور سب کچھ لُٹ گیا ہو۔ این قیصر سٹئیرن نے کہا کہ ”بعض دفعہ آپ کا جسم وہ بھی ظاہر کر دیتا ہے جو آپ چھپا رہے ہوتے ہیں۔ ان کی نظر میں دولت کی اہمیت بہت زیادہ تھی یا شاید اپنی محنت کی۔ اگر وہ یوں سمجھتے کہ اونچ نیچ تو چلتی رہتی ہے تو ہو سکتا ہے اتنے خوفناک تجربہ سے نہ گزرتے جو یقینا مال و کاروبار کے نقصان سے زیادہ تھا۔ یوں سمجھتے کہ ٹھیک ہے گھاٹا ہو گیا ہے لیکن میں اسے دوبارہ حاصل کر سکتا ہوں۔ ایمرسن نے کہا کہ خود پہ بھروسہ کامیابی کا اوّلین راز ہے۔ ٹھیک ہے مکمل آمادگی میں کچھ عرصہ لگ جاتا پر وہ مفلوج نہ ہوتے۔ ہم یہ نہیں کہتے وہ دکھ محسوس نہ کرتے پر ویسا بھی نہ ہوتا جو ان کے ساتھ بعد میں ہوا۔ انسان خدا سے جتنا زیادہ فاصلہ پیدا کرتا چلا جاتا ہے اتنا ہی ذاتی طور پہ کمزور ہوتا چلا جاتا ہے، معمولی حادثے بھی اسے غیر معمولی طور پہ متاثر کرتے ہیں۔ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ آتی ہیں:
چیلنجز اور مشکلات کیوں؟
ہمارے دوست قاسم صاحب بتانے لگے کہ دیہات میں انڈے سے بچہ نکلتا ہے تو کمزور ہوتا ہے۔ وہ چونچ مار کے انڈے کو توڑتا ہے۔ پھر زور لگاتا ہے۔ پر وہ لاغر اور چھلکا مضبوط۔ کچھ خواتین کو چوزے کی اس ’مصیبت‘ پہ ترس آتا ہے۔ وہ اسے ختم کرنے کے لیے چھلکا خود اتارنے لگتی ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ جن چوزو ں کی ’مصیبت‘ کم کی گئی وہ مر گئے یا پھر پوری زندگی اچھی مرغی نہ بن سکے……
٭جسے ہم مصیبت سمجھ رہے تھے وہ تو اس کے اعصاب کو مضبوط بنانے کا نظام تھا۔ اگر قدرت اس چیلنج سے نہ گزارتی تو وہ کبھی زندگی کے نرم گرم کو جھیلنے کے قابل نہ ہو سکتا۔ ذہن نشین کر لیجیے خدا کا صلاحیتوں کی پہچان کروانے کا طریقہ یہی ہے۔ وہ بانٹتا نہیں ہے بلکہ اندر رکھ کے پہچان کروانے کے لیے چیلنج دیتا ہے۔ جب انسان پزل حل کرتا ہے تو اسے احساس ہوجاتا ہے کہ کون کون سی قابلیت اُس میں موجود ہے۔ یہ نقطہ نظر سیکھ لو تو کبھی مایوس نہ ہو گے بلکہ مزے لے لے سخت حالات بھی گزارو گے اور نئی نئی دریافتیں بھی اپنے میں پاؤ گے۔
٭ بعض دفعہ انسان کے شعوری نافرمانیوں کا عذاب بھی ملتا ہے۔ پر عذاب کی بڑی نشانی اس کے تکبر میں اضافہ ہوجانا ہوتا ہے نہ کہ پلٹنا۔
٭ بعض دفعہ جرائم کی سزا ملتی ہے جو آخرپلٹنے کے خیر پہ اختتام پزیر ہوتی ہے
٭ بعض دفعہ آزمائش کا مرحلہ ہوتا ہے پر بندہ مزید منکسر المزاج بن کے سراپا خیر بن جاتا ہے۔ حضورِ کریم ؐ نے فرمایا کہ انسان رنج و غم
یا بیماری میں مبتلا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ مال جیب میں رکھتا ہے وہ بھی گم ہو جاتا ہے۔ ایسی کیفیات کی وجہ سے اس کے گناہ دور کر دیے جاتے ہیں۔ یہ سلسہ جاری رہتاہے اور اس کی جرائم مٹتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ وہ بھٹی میں ڈل ڈل سونے اور چاندی کی طرح چمک جاتا ہے (مفہوم)…… لیکن خیال رہے یہ سب انفرادی معاملات ہیں۔ جب اجتماعی بگاڑ ظاہر ہو تو یہ یقینا ان لوگوں کے جرائم کا صلہ ہوتا ہے۔ جیسے محرمِ راز اقبال نے بتایا:
فطرت افراد سے اِغماص تو کر لیتی ہے
کبھی کرتی نہیں قوموں کے گناہوں کو معاف
رویے لوگوں کے……
مشکل حالات آجائیں تو لوگوں کی پہچان ظاہر ہوتی ہے۔ طرح طرح کے عقل مند سامنے آتے ہیں جو نصیحتوں کے انبار لگاتے اور ناکامی کے اسباب کھوج کھوج سامنے لاتے ہیں۔ ارے بھئی آگ تو بجھا لو بعد میں دیکھ لینا کہ کیوں لگی تھی، پر نہیں۔ انسان پہلے دباؤ میں ہوتا ہے اور یہ ’عقل مند‘ اپنا ذہنِ رسا لیے کیل کانٹے سے لیس اگلے کو ڈپریس کرنے پہنچ جاتے ہیں۔ ان کی پوری کوشش اخلاص کے ساتھ ہوتی ہے کہ اگلے کو مریض بنادیا جائے۔ ان کا ایک مشہور جملہ ہوتا ہے ’ہم نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ……‘۔ ایسے کم ظرفوں کی باتیں ایک کان سے سنیں دوسرے سے نکال دیں۔ ایسوں پہ نظر رکھیں، یہ آپ کا حوصلہ توڑ نہ پائیں خواہ کتنے ہی خیر خواہ بن کے نصیحتیں کرتے ہوں۔ بعض دفعہ ہوتے بھی ہیں بھلا چاہنے والے پر منفی سوچ والے ہی ہوتے ہیں۔ ہم سے ایک دفعہ عمیر ادریس نے کہا کہ کبھی ایسا ہو بھی جائے کہ آپ نے جو پہلے کہا ہو اور نتائج اس منفی پیش گوئی کے برعکس کسی کے ساتھ پیش آ جائیں تو یہ کسی ظرف والے کا کام نہیں کہ اپنی بات ایسے دہرائے۔ اینڈریو کارنیگی کہتے ہیں ”اپنے آپ کو خوابوں میں بتائیں کہ میں معاملات کو سنبھالنے کے لیے بنایا گیا ہوں“……چلیں اب دیکھتے ہیں:
بکھرے ہوئے حل……
ہماری کوشش ہوتی ہے کہ بے مقصد لکھا اور بولا نہ جائے۔ ہماری تحریر کچھ مثبت بدلاؤ زندگی میں پیدا کرے۔ کوئی دیا جلا جائے جس سے تاریکیوں کو ہرایا جا سکے۔ اس لیے محض مسئلہ کی نشاندھی Problem Identification پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ دانست بھر حل کی نشان دہی بھی کر دیتے ہیں۔ یہاں بھی زیرِبحث معاملہ کے حوالہ سے کچھ مہک پیش کرتے ہیں:
٭ مثبت لوگوں سے مشورہ کیجیے۔ یہ وہ ہوتے ہیں جو سکون سے ساری بات سنتے ہیں۔ آپ کی جگہ خود کو رکھ کے احساس کرتے ہیں۔ انسان کو انسان کے طور ٹریٹ کرتے ہیں۔ حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ بحران کو سانحہ نہیں بناتے۔ زندگی کی عروج و زوال نگاہ میں رکھتے ہوئے کسی کی کامیابی ناکامی کا فیصل نہیں کر ڈالتے۔آپ کو مسکراہٹ سے نوازتے ہیں۔ اور پھر مخلصانہ مشورہ گوش گزار کردیتے ہیں
٭ تنہائی اختیار کیجیے اور خود کا جائزہ لیجیے۔ اپنی خوبیوں اور خامیوں پہ نگاہ ڈالیے۔ مستقبل کی ترتیب مرتب کیجیے اور کوشش میں اتریں۔
٭ یہ دوکام کرنے کے بعد باقی زندگی انجام دیں ……
٭ ذہن آزاد رکھیں۔ نقصان اور حوصلہ شکن سوچ کو خود پہ سوار ہرگز نہ ہونے دیں۔ چہل قدمی کریں، ایکسر سائز اور یوگا کریں۔ آپ کی صورتِ حال سے متعلق یوگا کی مشقیں یو ٹیوب پر مل جائیں گی۔ پارک میں ہنستے کھیلتے لوگوں اور فطرت کو انجوائے کریں۔ گھر والوں، بچوں اور پالتو پرندوں کے ساتھ وقت گزاریں۔ رشتہ داروں اور دوستوں کو وزٹ کریں اور ہرگز ہر ایک کے سامنے اپنی مشکل نہ کھولیے۔ ہرایک اس قابل نہیں ہوتا کہ وہ سچ سن کے ہضم کر سکے۔
٭ بڑے لوگوں کی زندگیاں پڑھیں۔ آپ کو پتا چلے گا کہ ان کی زندگی بے شمار ناکامیوں اور بحرانوں کا مجموعہ رہی پر وہ ہمت نہ ہارے۔ ایک شان دار کامیابی کی تعریف یہ کی گئی کہ ”مسلسل ناکامیوں سے باحوصلہ گزرتے چلے جانا کامیابی ہے“۔
٭ مختلف موٹیویشنل ویڈیوز دیکھیے، کتب و اقوالِ زریں پڑھیے۔ یہ چیزیں مایوسی کی حالت کو لمحوں میں بدل دیں گی۔ ذہن کو وسیع کریں گی۔ نئے راستے سجھائیں گی اور امید و ہمت پیدا کریں گی۔ نیز فضول خیالات کو دور رکھیں گی۔
٭ تعلقِ خدا کا خاص خیال رکھیں۔ خدا وہ عظیم ترین طاقت ہے جس پر بھروسہ آپ کو کبھی رسوا نہ ہونے دے گا، کبھی گرنے نہ دے گا، کبھی مایوس نہ ہونے دے گا۔ اپنے مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے اسما کا کثرت سے ذکر کیجیے اور پھر اس کی یاد کو پوری زندگی کا حصہ بنا لیجیے، مطلبی تعلق نہ رکھیے۔ وہ سب سے بڑھ کے دوستی نبھائے گا اور کئی یقینی غم پہلے سے نبٹادے گا۔ درود کی کثرت کیجیے کہ غم کا مداوا ہے جیسا نبیِ مکرمؐ نے خود بتایا۔
٭ مراقبہِ ماضی کریں۔ شور سے دور تنہائی میں بیٹھیں۔ گہرے سانس لے کے پانچ سیکنڈز روکیں اور خارج کر دیں، اس سے اعصاب نارمل ہو جائیں گے۔ پھر آنکھیں بند کر کے حواس معطل کر دیں۔ پیچھے چلے جائیں۔ سوچیں ماضی میں میری کیسے مدد کی گئی۔ کیسی کیسی مشکل سیچویشنز سے باہر آگیا۔ ناکامی کیسے کامیابی میں بدل گئی۔ غرض پیش آنے والی رکاوٹوں اور ان کو عبور کرنے کو تفصیل سے یاد کریں اور پھر شعوری طور پہ خود کو پیغام دیں ’یہ وقت بھی گزر جائے گا‘۔ جیسے کہ خدا نے خود اپنے کلام میں تاکید کی۔
٭ خود ترغیبی اہم ترین ہے۔ کسی وقت تنہائی میں بیٹھ کے سانس کی مندرجہ بالا مشق کریں اور حواس معطل کردیں۔ کچھ نہ سوچیں اور ذہن آزاد چھوڑ دیں۔ یہ بات کچھ پریکٹس چاہتی ہے۔ جوعادی ہوجائیں پھر ان پہ جب وقت آتا ہے تو بغیر رکاوٹ کے وہ کرجاتے ہیں۔جب کچھ سکون ہوجائے تو اب ذہن کو تصویری صورت میں خود کو پر اعتماد طریقہ سے مسائل پہ فتح پاتے پرامید، کامیاب گفتگو کرتے اور نتیجہ لیتے ہوئے خوشی اور توانائی سے بھرپور دیکھیں۔یہ سیلف ہیپنوسسز کی مشق آپ کے لاشعوراور شعور میں فوری تبدیلیاں پیدا کرتے ہوئے حالات کو شکست دینے کے قابل بنائے گی۔ اب سنتے جائیے:
آخری بات ……
یاد رکھیے مسئلہ ایک ہو تو حل اردگرد ایک سے زیادہ ہوتے ہیں۔ انہیں ڈھونڈنا ہم نے ہے۔ پریشانی کے وقت میں پریشان ہوجانے سے پریشانی ختم کرنے کی صلاحیت چھن جاتی ہے۔ بحرانوں کا مردانہ وار مقابلہ کیجیے۔ دیکھیے آپ کو شیر کا دل اور عقاب کی نظر دے کے پیدا کیا گیا ہے۔ آپ اس سیارے کی سب اہم اورباصلاحیت مخلوق ہیں۔ زیب نہیں دیتا کہ یہ ہار جائے، ٹوٹ جائے اور بازی میں مات کھاجائے
اپنے انفرادی، نفسیاتی، روحانی، معاشرتی مسائل میں مشاورت کے لیے مندرجہ ذیل پتہ پر سوال لکھ کے بھیجیں یا ای میل کریں
syyed.writer@gmail.com

Leave a Reply

Back to top button