سیلف ہیلپ

مجمعے کے سامنے بولنے کا فن…… طاہر آفاقی

ہم میں سے اکثر لوگوں کیلئے مجمعے کے سامنے بولنا بہت مشکل امر بن جاتا ہے۔ اس صورتحال میں ہم خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں، جو بولنا ہوتا ہے وہ بول نہیں پاتے، زبان گنگ ہو جاتی ہے، الفاظ زبان پر نہیں آتے، سوچ جامد ہو جاتی ہے، ہاتھ پاؤں پھول جاتے اور ٹانگیں کانپنا شروع کر دیتی ہیں۔ اس لئے ہم لوگوں کے سامنے آنے سے بچنے کے لئے کسی دوسری بڑی سے بڑی مشکل کا سامنا کرنے کے لیے بھی تیار ہو جاتے ہیں۔
امریکہ میں فوبیاز پر ایک تحقیق ہوئی جس کے مطابق انسان کو دو قسم کے خوف کا سامنا رہتا ہے: لوگوں کے سامنے آکر بولنے اور موت کا خوف۔ تحقیق کے مطابق لوگوں کے سامنے بولنے کے خوف میں زیادہ لوگ مبتلا رہتے ہیں۔ حیرت ہے کہ وہ مرنا پسند کر لیں گے لیکن لوگوں کے سامنے بولنے سے گریز کریں گے۔ یہاں ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ خوف پر قابو پا کر دوسروں کے سامنے کس طرح مؤثر انداز میں بولا جا سکتا ہے۔
پہلا قدم اٹھائیں
بڑے سے بڑے کام کا آغاز پہلا قدم اٹھانے سے ہوتا ہے۔ ہمارے تجربے میں ہے کہ جب تک ہم کام کا آغاز نہ کریں تب تک ہمارا ذہن کام نہیں کرتا لیکن جیسے ہی ہم پہلا، دوسرا اور پھر تیسرا قدم اٹھاتے ہیں تو ذہن خود بخود کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اسی طرح لوگوں کے سامنے بولنے کے لیے سب سے زیادہ ضرورت خود میں جرأت پیدا کرنے کی ہوتی ہے۔ کسی بھی بڑے کام کے لیے یہ جرأت سٹارٹر کا کام دیتی ہے، جیسے موٹر سائیکل سٹارٹ کرنے کے لیے کِک لگانا ضروری ہے ویسے ہی کوئی دوسرا کام کرنے کے لیے ہمت کرنا ضروری ہے۔ لوگوں کے سامنے بولنے کے لیے بھی ہمیں ایک بار خود ہمت کرنی پڑے گی اور جب ایک دفعہ سٹارٹ ہو گئے تو یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہو جائے گا۔ پہلے ہم بولنے سے بھاگتے تھے لیکن اب بولنے کے لیے بھاگا کریں گے۔ بس پہلا قدم اٹھائیں اور منزل کی طرف گامزن ہو جائیں۔
جذباتی وابستگی والے موضوع کا انتخاب
اس فن پر عبور حاصل کرنے کا دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ جس ٹاپک کے ساتھ آپ کی جذباتی وابستگی ہے اس پر بولیں۔ اصل میں موضوع کا اثر الفاظ سے کم اور جذبات سے زیادہ ہوتا ہے۔ آپ نے مشاہدہ کیا ہو گا کہ ایک ہی موضوع پر دو یا بہت سے لوگ بول رہے ہوتے ہیں مگر اثر کسی ایک کے ہی الفاظ میں ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موضوع کے ساتھ جس کی جذباتی وابستگی زیادہ ہوتی ہے، اس کی بات میں اثر بھی زیادہ ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے تقریباً سو لوگوں کی کلاس میں ایک بچی کو روسٹرم پر بولنے کے لیے بلایا۔ وہ پہلی دفعہ اتنے بڑے مجمعے کے سامنے بول رہی تھی۔ آغاز میں اس کی آواز اور ٹانگیں کانپ رہیں تھیں لیکن کچھ دیر بعد اس میں اعتماد آگیا۔ اس اعتماد کی بڑی وجہ وہ موضوع تھا جس پر وہ بول رہی تھی۔ اس موضوع سے اس کی دلی وابستگی تھی۔ آپ حیران ہوں گے کہ پہلی بار اتنے زیادہ لوگوں سے مخاطب ہونے والی لڑکی کو سب سانس روک کر سن رہے تھے اور اکثر کی آنکھیں بھی نم تھیں۔ لڑکی کی آواز کو اس کے جذبات نے پُرسوز اور پُراعتماد بنا دیا تھا۔ اس لئے ضروری ہے کہ آپ جس موضوع پر بولیں اس کے ساتھ آپ کی جذباتی وابستگی ہو، تب ہی بات آپ کے دل سے نکلے گی اور سننے والوں کے دل پر اثر کرے گی: بقول شاعر:
بات جو دل سے نکلے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
باڈی لینگوئج پر توجہ دیں
آپ سن کر حیران ہوں گے کہ ہماری بات گفتگو اور تقریر میں الفاظ کا محض سات فیصدحصہ ہوتا ہے، باقی اڑتیس فیصد الفاظ کے اتار چڑھاؤ اور پچپن فیصد کردار باڈی لینگوئج کا ہوتا ہے۔ ہم بہتر الفاظ کے انتخاب میں تو وقت ضائع کرتے ہیں مگر الفاظ کے اتار چڑھاؤ اور باڈی لینگوئج کو نظر انداز کردیتے ہیں جو تقریر کا اہم ترین حصہ ہوتا ہے۔ یاد رکھیں! الفاظ کے اتار چڑھاؤکا سب سے آسان طریقہ موضوع کے ساتھ آپ کی جذباتی وابستگی ہے۔ ہم الفاظ کو کھینچ کر لمبا تو کر لیتے ہیں مگر ان میں اثر صرف جذبات ہی پیدا کرتے ہیں۔ اگرچہ باڈی لینگوئج جذبات کے تابع ہوتی ہے مگر اس کا سیکھنا بھی ضروری ہے۔ ایک اور پتے کی بات جس سے آپ بولنے کے فن پر آہستہ آہستہ عبور حاصل کر سکتے ہیں، یہ ہے کہ آپ جس موضوع پر بات کر رہے ہیں، یوں سمجھیں کہ آپ اسے دیکھ رہے ہیں۔ ایسا کرنے سے آپ اپنی باڈی کو آسانی سے اس کے مطابق ترتیب دے سکتے ہیں۔ جیسے آپ خیال میں کوئی ڈراونی شکل دیکھتے ہیں تو لاشعوری طور پر آپ کا جسم کانپ اٹھتا ہے یا کوئی انتہائی خوبصورت چیز دیکھتے ہیں تو آپ کے چہرے پر تحسین کے جذبات اُبھر آتے ہیں۔
تین لمبے سانس لیں، کچھ دیر رک کر بات کا آغاز کریں
جب آپ روسٹرم پر پہلی بار آئیں تو خوف کی وجہ سے آپ کے خیالات یکسو نہیں رہ پاتے۔ خیالات میں یکسوئی پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ لوگوں کی پرواہ کئے بغیر تین گہرے، لمبے سانس لیں، تھوڑی دیر کے لیے خاموشی اختیار کریں اور پھر بھرپور انہماک اور اعتماد کے ساتھ گفتگو کا آغاز کر دیں۔ آپ محسوس کریں گے کہ آپ کے خیالات پھر یکسو ہو چکے ہیں اور بہتر سے بہتر الفاظ آپ کی زبان پر آ رہے ہیں۔
چلتے پھرتے اچھا بولنے کی مشق کریں
بار بار بولنے کی مشق کی عادت اپنائیں۔ دنیا کے بہتریں مقررین میں یہ مشترک عادت ہوتی ہے۔ ابرہم لنکن سے لے کر باراک اباما تک سارے لیڈر تقریر کرنے سے پہلے کم ازکم تین دفعہ مشق ضرور کرتے تھے۔ اس سے نہ صرف آپ اپنے موضوع کی ترتیب درست بلکہ کئی غلطیوں کی اصلاح بھی کر لیتے ہیں۔ ان اصولوں پر عمل اور بار بار ان کی مشق کیجئے۔ یہ آپ کو بہترین اور با اعتماد مقرر بنا سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button