تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

مدار ایک طبیب پودا جو متعدد امراض کا علاج کرتا ہے

مدار کی دنیا بھر میں دو سو سے زائد اقسام پائی جاتی ہے۔لیکن تین مشہور اقسام ہیں، جن میں ایک معروف قسم ہے جو عموماً ندی نالوں پر اگتا ہے،جس کے پھول سرخی مائل ہوتے ہیں دوسری قسم کے پھول سفید ہوتے ہیں اور اسکا پودا پہلی قسم سے بڑا ہو تاہے اور یہ کمیاب ہوتا ہے۔

مدار کا پودا ایک سے دومیٹر تک بلند ہو جاتا ہے لیکن عموماًایک یا نصف میٹر تک زیادہ پایا جاتا ہے، یہ شاخ در شاخ ہو کر بھی پھیلتا ہے لیکن زیادہ تر جڑ ہی سے شاخیں نکل کر پھیل جاتی ہے مدار کے جس حصہ کوبھی توڑا جائے تو اس میں سے سفید گاڑھا دودھ ٹپکنا شروع ہو جاتا ہے، جڑ کی شاخوں میں سے نسبت زیادہ دودھ نکلتا ہے۔

اس کے پتے برگد کے پتو ں سے مشابہ ہوتے ہیں لیکن ان کا رنگ سفید مائل ہوتا ہے۔ تنے اور شاخوں پر سفید رواں سا ہوتاہے۔ پک جانے پر زرد رنگ کے ہو جاتے ہیں۔ اس پر گچھوں کی شکل میں پھول لگتے ہو تے ہیں۔ جو باہر سے سفید اور اندر سے سر خی مائل ہوتے ہیں۔ پھول کے عین درمیان لونگ کے سر کی مانند ایک شے ہوتی ہے۔ جس کو قرنفل مدار یعنی آنکھ کی لونگ کہتے ہیں۔ اس کے پھل کی شکل عموماًلمبو تری اور درمیان سے خم کھائی ہوتی ہے۔ خشک ہونے پر جب پھٹتا ہے تو اس کے اندر سے سنھبل کی مانند روئی نکلتی ہے۔ جو نہاہت نرم وملائم اورچکنی ہوتی ہے۔اس کے بیج چٹپے،سیا ہی مائل اور وزن میں ہلکے حجم میں دال ارہرکے برابر ہوتے ہیں۔ بعض مدار کے پودوں پر ایک قسم کی رطوبت منجمد ہوتی ہے۔مدار کے پودے کے کسی بھی حصے کواگرتوڑاجائے تواس میں سے گاڑھا دودھ نکلتا ہے۔

مدار کو پنجابی میں اک، عربی میں عشر،فارسی میں خرک یا زہر ناک، تلیگو میں مند رامو، سنسکرت میں مندار، سندھی میں اک یاتلنگی،بنگالی میں آکنڈ ہ، گجراتی میں آکڈو اور انگریزی میں swallow wort calotropis کہتے ہیں۔

مدار کی اقسام:
مدار کی دنیا بھر میں دو سو سے زائد اقسام پائی جاتی ہے۔لیکن تین مشہور اقسام ہیں، جن میں ایک معروف قسم ہے جو عموماً ندی نالوں پر اگتا ہے،جس کے پھول سرخی مائل ہوتے ہیں دوسری قسم کے پھول سفید ہوتے ہیں اور اسکا پودا پہلی قسم سے بڑا ہو تاہے اور یہ کمیاب ہوتا ہے۔ جبکہ تیسری قسم کا مدار کا پودا پہلی دونوں اقسام سے چھوٹاہو تا ہے۔مدار ایک خود رو پودا ہے جو پاکستان، ہندوستان، سری لنکا، افغانستان، ایراناور افریقہ میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔ پاکستان کی بنجر زمینو ں اور ریگستان میں عموماً پایا جا تاہے۔یہ موسم گرما میں بکثرت اگتا ہے۔

مدار کا استعمال:
مدار کے پودے کا ہر جزو، تنا، پتے، پھول، شاخیں، بیج اور دودھ، انسان کے مختلف عوارض، زیبائش، قدرتی نکھار اور گھریلو ٹوٹکوں میں زمانہ قدیم ہی سے استعمال ہوتا رہا ہے۔ جس کے سبب اسے ”طبیب پودا“ اور جدید میڈیکل سائنس میں ”فطری معالج“ بھی کہا جاتا ہے۔ حالاں کہ یہ انتہائی زہریلا اور جان لیوا بھی ہوتا ہے۔ خصوصاً سفید پھول دینے والے مدار کو حکما اور اطباء زیادہ طبی فوائد کا حامل قرار دیتے ہیں۔ شاید اس کی بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ پودا عام طور پر کم ہی اگتا ہے۔

اس میں سے نکلنے والا دودھ ذائقے میں انتہائی کڑوا اور خاصیت میں زہر آلود ہوتا ہے۔ بعض طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی معمولی مقدار کسی بھی ذی روح کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔چنانچہ انسان ہی نہیں بلکہ چرند، پرند تک اس پودے سے قدرے دور ہی رہنا پسند کرتے ہیں۔ سندھ میں مدار کے دودھ کی بوتل دو ڈھائی ہزارروپے میں ملتی ہے۔

ہندوستان میں ہی نہیں پاکستان خصوصاً سندھ میں آج بھی ہندو سفید پھولوں والے مدار کے پرانے پودے کی جڑ کو اپنے گھروں میں رکھ کر اس کی پوجا کرتے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ اس طرح ان پر دھن دولت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ مصائب و آلام سے بھی ان کو نجات مل جاتی ہے۔

مدار کا دودھ داد چنبل کی بہت اچھی دوا ہے،جو داد چنبل پرانا ہوگیا ہو اور کسی دوا سے بھی اچھا نہ ہورہا ہو، اسے کپڑے سے کھجا کر یہ دودھ لگا دیا جائے۔ اس کے لگانے سے کچھ تکلیف ضرور ہوگی۔ لیکن داد اچھا ہوجائے گا۔

مدار کے پتے کواگر تلوں کے تیل سے چپڑ کر گرم کریں اور گنٹھیا میں جوڑوں پر باندھیں، توچند بار کے باندھنے سے ہی سوجن اور درد ختم ہوجائے گا۔

مدار کا پتہ جو پک کر زرد ہوگیا ہو‘ آگ پر سینکیں اور چٹکی سے مسل کر اس کا رس ہلکا گرم ایک قطرہ کان میں ٹپکائیں۔ کان کا درد دور ہوجائے گا۔

مدار کا پھول معدے کو طاقت دیتا ہے، بھوک لگاتا ہے اور بادی بلغم دور کرتا ہے۔ اس لیے مختلف چورن میں ڈالا جاتا ہے۔

مدار کا دودھ بواسیر ی مسو ں پر لگانے سے وہ ختم ہو جاتے ہیں۔

پرانے دمہ اور کھانسی کا بھی یہ موثر علاج ہے۔

سانپ یا بچھو کے کاٹے کی جگہ پر اگر اس کا دودھ لگایا جائے تو اس سے افاقہ ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ مدار کا پودہ دیگر ادویات میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ جبکہ اسے مچھر اور کیڑے مکوڑے اور حشرات الارض کو بھگانے والی ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ صرف یونانی ادویات میں ہی نہیں بلکہ ایلوپتھی اور ہیومیو پیتھی ادویات میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے ضرور مشورہ لیں۔

Leave a Reply

Back to top button