تازہ ترینفن اور فنکار

’مردانگی‘ کی تشریح عورت کے لباس سے شروع ہوتی ہے، میرا سیٹھی

’انڈیپینڈنٹ اردو‘ سے بات کرتے ہوئے میرا سیٹھی نے حال ہی میں ہونے والے لکس اسٹائل ایوارڈز کے بعد اپنے اور دیگر ساتھی خواتین کے لباس پر ہونے والی تنقید پر بات کی اور کہا کہ بعض لوگوں نے ان کی تصاویر پر نامناسب کمنٹس کیے۔

اداکارہ، لکھاری و میزبان میرا سیٹھی نے کہا ہے کہ حالیہ دور میں ’مردانگی‘ کی تشریح اتنی مختصر ہوچکی ہے کہ وہ عورت کے لباس سے شروع ہوکر وہیں پر ختم ہوتی ہے۔

میرا سیٹھی نے خواتین کے لباس پر تنقید کرنے والے افراد سے سوال کیا کہ وہ جاننا چاہتی ہیں کہ ’مردانگی‘ کے ہاتھوں مجبور ہونے کا ’آئیڈیا‘ کیا ہے۔

’انڈیپینڈنٹ اردو‘ سے بات کرتے ہوئے میرا سیٹھی نے حال ہی میں ہونے والے لکس اسٹائل ایوارڈز کے بعد اپنے اور دیگر ساتھی خواتین کے لباس پر ہونے والی تنقید پر بات کی اور کہا کہ بعض لوگوں نے ان کی تصاویر پر نامناسب کمنٹس کیے۔

میرا سیٹھی نے بتایا کہ ان کی اداکارہ اشنا شاہ کے ساتھ لکس اسٹائل ایوارڈز کی تصویر پر ایک شخص نے کمنٹ کیا کہ ’اب اگر وہ مردانگی کے ہاتھوں پر مجبور ہوکر کچھ کردیا یا کہ دیا تو پھر آپ بولیں گی‘

انہوں نے سوال کیا کہ ’مردانگی‘ کے ہاتھوں مجبور ہوکر کچھ کرنے کا ’آئیڈیا‘ کیا ہے؟ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اب ’مردانگی‘ کی تشریح اتنی مختصر ہو چکی ہے کہ ان کی ’غیرت‘ اور مردانگی عورت کے لباس سے شروع ہوکر وہیں پر ختم ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں مذکورہ آدمی کا کمنٹس نامناسب لگا، جس کی وجہ سے انہوں نے آواز اٹھائی۔

انہوں نے لکھا کہ پاکستانی معاشرے میں ایک خودمختار عورت اور روادار آدمی دونوں رہ سکتے ہیں مگر لوگوں نے مردانگی کو اتنا محدود کردیا ہے کہ عورت کے لباس میں اگر کسی کو شوخی نظر آتی ہے تو ’مردانگی‘ کو ٹھیس پہنچتی ہے۔

انہوں نے لوگوں کو تجویز دی کہ وہ ’مردانگی‘ کی تشریح کو بڑا کرنے سمیت اپنی سوچ کو بھی بڑھائیں۔

میرا سیٹھی نے دلیل دی کہ اگر کوئی مرد ان کے سامنے ’کسی ہوئی جینز پینٹ‘ پہن کر بیٹھا ہوگا تو وہ انہیں یہ نہیں کہیں گی کہ وہ انہیں ’گناہ‘ کی دعوت دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عورتیں ایسی باتیں نہیں کرتیں اور ساتھ ہی سوال کیا کہ خواتین ایسی باتیں کیوں نہیں کرتیں؟ پھر خود ہی جواب دیا کہ کیوں کہ ان کی سوچ وہاں نہیں جاتی اور یہ کہ معاشرے نے انہیں اتنا حق ہی نہیں دیا کہ وہ ’مرد‘ کو کچھ کہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ مرد حضرات کیوں خواتین کے سر پر ’داروغہ‘ بن کر کھڑے رہتے ہیں اور کیوں انہیں ہر وقت پولیس کی طرح ہدایات کرتے رہتے ہیں؟

میرا سیٹھی نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ ہم سب نے ایک دائرے کے اندر رہ کر زندگی گزارنی ہے اور یہ کہ انہیں ایسے دائروں کا علم ہے، کیوں کہ وہ بھی معاشرے میں رہتے ہیں۔

میرا سیٹھی نے یہ بھی کہا کہ خواتین کو کسی کی ماں اور بہن کہنے کے بجائے انہیں ذاتی طور پر بھی اہمیت دی جانی چاہیے، وہ یقیناً کسی نہ کسی کی ماں اور بہن ہوتی ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ان کی اپنی ذاتی اہمیت بھی ہے۔

دوران انٹرویو انہوں نے اپنی کہانیوں کی کتاب پر بھی بات کی اور کہا کہ ان کی کہانیاں بہت ہی زیادہ ’بولڈ‘ ہیں، جن سے یقیناً کچھ لوگوں کو مسائل ہوں گے۔

میرا سیٹھی نے خواہش ظاہر کی کہ کوئی ادارہ یا شخص ان کی کہانیوں کو اردو میں ترجمہ کرے اور وہ انہیں ترجمے کے حقوق دینے کو تیار ہیں۔

انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ کہانیوں کی کتاب شائع کرنے کے بعد ایک ڈراما پروڈیوسر نے انہیں ڈراما لکھنے کا کہا ہے اور وہ اس متعلق سوچ رہی ہیں، تاہم فی الحال کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔

میرا سیٹھی نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ معروف والدین کی بیٹی ہونے کے ناتے انہیں جہاں فوائد ملے، وہیں انہیں کچھ تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

ان کےمطابق جو لوگ ان کے والدین کی عزت کرتے ہیں، انہوں نے انہیں بھی عزت دی اور جو لوگ ان کے والدی کو ناپسند کرتے ہیں، انہوں نے ان پر بھی تنقید کی لیکن اب انہیں ایسی باتوں سے فرق نہیں پڑتا۔

Leave a Reply

Back to top button