Uncategorized

مرد خواتین کی نسبت جلد وزن کم کر سکتے ہیں: تحقیق

(ویب ڈیسک) عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ مرد خواتین کی نسبت وزن جلد کم کر سکتے ہیں۔ یہ بات حقیقت ہے یا محض ایک خیال؟۔ ایک تازہ تحقیق نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ سچ ہے کہ مرد خواتین کی نسبت ایک جیسی ورزش کرنے اور ایک جیسی خوراک کھانے کے باوجود جلد وزن کم کر سکتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے، آئیے دیکھتے ہیں۔
ایک تازہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خواتین مردوں کی نسبت کھانے کا بھوت سر پر زیادہ سوار رکھتی ہیں۔ 25 فیصد خواتین وزن کم کرنے کی منصوبہ بندی کے دوران بھی ہر آدھے گھنٹے بعد کھانے کے بارے میں سوچتی ہیں۔ دوسری وجہ خواتین کی کھانے کے ساتھ جذباتی وابستگی ہوتی ہے جب کہ مرد حضرات کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔
”ہارٹ اٹیک اور فالج پر فتح پانا“ (Conquering Heart Attack and Stroke) نامی کتاب میں برین سکین سٹڈی کے حوالے بتایا گیا ہے کہ تحقیق کاروں نے ایسے مرد و خواتین کے سامنے لذیذ کھانا رکھا جنہوں نے سارا دن کچھ نہ کھایا تھا۔ جب انہیں جی بھر کر کھانا کھانے کا کہا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ جذبانی تنظیم، یادداشت اور ترغیب کے حوالے سے خواتین کی نسبت مردوں کا رد عمل سست تھا۔ مردوں میں اپنے پسندیدہ کھانے کی خواہش کو روکنے کی طاقت زیادہ تھی۔ اس کے علاوہ مردوں کا میٹابولزم بھی زیادہ تیز تھا۔ ایک مرد کا میٹابولزم اُسی قد اور وزن والی عورت کی نسبت پانچ سے دس فیصد زیادہ تیز تھا۔ اس کا سبب تحقیق کاروں نے کیلریز جلانے والے مسلز کا باریک ہونا بتایا۔
تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ وزن کم کرنے کے دوران کھانے سے جذباتی وابستگی سے گریز کیا جانا چاہئے۔ اور اگر آپ کا دن کسی وجہ سے بُرا گزرا ہے تو ذہنی دباؤ دور کرنے کیلئے اپنا پسندیدہ کھانا مت کھائیے ورنہ آپ کی وزن کم کرنے کی منصوبہ بندی بے اثر ہو جائے گی۔

Leave a Reply

Back to top button