تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

مروڑ پھلی: آنتوں کی بیماریوں کا موثر علاج

مروڑ پھلی کی چھال میں کلو رو پلاسٹ، فانٹو سڑال،ہائڈراکسی کاربو ایگز ال ایسڈ،شکر،فلوبوٹامنس اوردیگر مرکبات پائے جاتے ہیں۔

یہ ایک چھوٹے قد کا جھاڑی نماپودا ہے۔ جوآٹھ نو فٹ تک بلندہوتاہے۔یہ پودا گھنا اور سایہ دار ہوتاہے۔اس کے پتے تین چار انچ لمبے اور دوتین انچ چوڑے ہوتے ہیں۔ پھول سرخ رنگ کے اور پھلیاں گچھوں میں لگتی ہیں۔جوایک دو انچ لمبی رسی کی طرح بل کھائی ہوئی ہوتی ہیں۔یہ ہرے رنگ کی ہوتی ہے۔ مگر سوکھنے پر کالی ہو جاتی ہے۔ پھلیاں سردی میں پک جاتی ہیں۔ یہ پودا ہندوستان میں جموں، کانگھڑہ، بہار، میواڑاوراودھ کے جنگلوں میں بکثرت ہوتاہے۔

اس پودے کو اردو اور ہندی میں مروڑ پھلی، بنگالی میں آنت مورا، سندھی میں بُر کٹی اور انگریزی میں انڈین سکریو ٹری(Indian Screw Tree)کہتے ہیں۔

مروڑ پھلی میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
مروڑ پھلی کی چھال میں کلو رو پلاسٹ، فانٹو سڑال،ہائڈراکسی کاربو ایگز ال ایسڈ،شکر،فلوبوٹامنس اوردیگر مرکبات پائے جاتے ہیں۔

مروڑ پھلی طبی خواص:
مروڑ پھلی کو زیادہ تر انتڑیوں کی بیماری میں استعمال کیاجاتاہے۔ ماہرین یونانی طب کا کہنا ہے کہ انتڑیوں کی کسی بھی قسم کے مرض کا اس میں شافی علاج ہے۔

ورم اور ریاح کو تحلیل کرے:
مروڑ پھلی ورم اور ریاح کو تحلیل کرتی ہے۔ بلغم غلیظ کو باہر نکالتی ہے۔ پیچش میں مفید ہے۔ اس کی جڑ کی چھال کا جوشاندہ ان امراض میں مفید ہے۔

پیچش کا علاج:
پیچش میں مروڑ پھلی 25گرام، سونٹھ 25گرام، چینی 25 گرام سفوف بنا لیں۔ 6-6 گرام صبح، دوپہر اور شام ہمراہ پانی دیں۔بچوں کے دستوں میں مروڑ پھلی ایک گرام سفوف بنا کر دہی میں دیں۔

کانوں کا بہنا:
مروڑ پھلی دس گرام، تلی کا تیل 100 گرام۔ پہلے مروڑ پھلی کو 100 گرام پانی میں بھگو کر چھ گھنٹہ بعد جوش دیں۔ پھر چھان کر تیل میں ڈال دیں جب پانی جل جائے تو چھان کر رکھ لیں اور دو سے چار بوند نیم گرم کان میں ڈالیں۔اس کے بیجوں کا سفوف کیسٹر آئیل میں ملاکرکان بہنے کے لئے مفیدہے۔

اسہال اطفال:
اس کی پھلیاں آنتوں کے درد کو روکنے والی اور بچوں کے دستوں میں مفید ہیں۔ پھلیوں سے دانے نکال کر پیس لیں اور ایک گرام دہی میں دیں۔

ماہرین طب کا کہنا ہے کہ قدیم زمانے سے ہی اس جڑی بوٹی مردانہ کمزریوں کو دور کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس کو سرکہ ہمراہ ملا کر طلاء بنایا جاتا تھا۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Leave a Reply

Back to top button