تجزیہسیاسیات

مسلمان۔۔۔نشانہ بازی اور چاند ماری کا ہدف!

اسدمفتی
ایمسٹرڈیم(ہالینڈ)۔۔۔
حضرت محمدؐ کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر کے شدید احتجاج کے باوجود مغربی ذرائع ابلاغ نے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔ حضورؐ کے توہین آمیز کیری کیچر(کارٹون) کو دوبارہ شائع کرنے پر ہالینڈ کے سب سے زیادہ سنجیدہ مزاج اخبار کے مطابق اس کو بم سے اڑا دینے کی دھمکی موصول ہوئی ہے۔ اخبار کی انتظامیہ نے پولیس کو بتایا ہے کہ اخبار کو ایک ای میل موصول ہوئی ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اخبار کے دفتر کو بم سے اڑا دیا جائے گا۔ انتظامیہ نے یہ بھی بتایا کہ دھمکی موصول ہونے کے بعد اخبار کے دفتر کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور پولیس میں بھی واقعہ کی رپورٹ کردی گئی ہے۔
ادھر اخبار Jylland Posten کے ایڈیٹر نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارٹون کی اشاعت کا مطلب اور مقصد یہ بھی ہے کہ مسلمان کو باور کرایا جائے کہ وہ طنز سے بالاتر نہیں ہیں۔ فرانس کے اخبار ’’لی موندے‘‘ نے محمدؐ کے خاکے ساتھ لکھا ہے مذہب کا احترم کیا جانا چاہئے لیکن ان کا آزادانہ تجزیہ ہونا چاہئے‘ ان پر تنقید ہونی چاہئے حتیٰ کہ ان کا مضحکہ بھی اڑانا چاہئے۔ سویڈن کے ایک اخبار ’’ایس ڈی کوریئر‘‘ نے لکھا ہے کہ ’’ہم ایسے خاکے شائع کرکے اپنی آزادی برقراررکھنا چاہتے ہیں اور ہم ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ انسانی آزادی کے آگے کوئی مذہب نہیں‘ نہ اسلام اور نہ کوئی اور مذہب اور جو بات وہ کہنا چاہتا ہے پوری آزادی کے ساتھ وہ کہے خواہ اس کا تعلق کسی مذہب سے ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
جہاں تک توہین رسالت اور اہانت رسول کا تعلق ہے یہ واقعہ نہ تو پہلا ہے اور نہ آخری‘ ہر دور میں ایسے عناصر پیدا ہوتے رہے ہیں جو رسول خدا کی شان میں گستاخی کے ذریعے اپنی دنیا و آخرت خراب کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے غیض وغضب کا نسانہ بنتے رہے ہیں۔ ان نفرت انگیز سرگرمیوں کا محرک کوئی ایک اخبار‘ رسالہ‘ چینل‘ کتاب یا ویب سائٹ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے نائن الیون کا ردعمل اور مذہب دشمن تنظیمیں ہیں۔ میں یہ بات انتہائی دیانت داری سے کہہ رہا ہوں کہ آئے دن ان توہین آمیز کارٹون اور تحریر و تصاویر کی اشاعت کا مقصد دنیا بھر کے مسلمانوں کو مشتعل کرنا ہے اور ان کے اصل مسائل سے ان کی توجہ ہٹانا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بعض اوقات شر اور باطل کے بارے میں خاموش رہ جانا اور اس کے خلاف کوئی جوابی کارروائی نہ کرنا ہی اس کو ختم کرنے کیلئے کافی ہوتا ہے ایسے موقع پر اگر آپ ان کا جواب دیں گے تو آپ صرف اپنا وقت ضائع کریں گے۔ ایسی باتوں کا بہترین جواب یہ ہے کہ ان کا جواب نہ دیا جائے۔ قدیم مثل ہے کہ کتے بھونکتے رہتے ہیں‘ ہاتھی چلتا رہتا ہے۔ مسلمانوں کو ’’ہاتھی‘‘ والا کردار ادا کرنا چاہئے‘ شرپسندوں کے چھیڑے ہوئے فتنے اپنے آپ ختم ہوجائیں گے۔ یہاں مجھے حضرت عمرؓ کا ایک بہت بامعنی قول یاد آرہا ہے‘ آپ نے فرمایا: ’’باطل کو مارو اس کی طرف سے چپ رہ کر۔‘‘ حضرت عمرؓ نے اپنی بات ایک اور انداز سے کہی ہے جس کو قرآن نے اعراض کے لفظ سے تعبیر کیا ہے‘ اعراض کا مطلب ہے اوائیڈ کرنا‘ نظرانداز کرنا‘ اعراض محض ایک سلبی فعل نہیں ہے وہ ایک ایجابی کارروائی ہے‘ وہ خود ایک طاقت ورعمل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے مواقع ایسے ہیں جہاں نظرانداز کرنا دفع شر کی سب سے زیادہ موثر تدبیر ہوتی ہے‘ جہاں سب سے زیادہ کارروائی یہ ہوتی ہے کہ سرے سے کوئی کارروائی نہ کی جائے کہ اسلام مثبت حقیقتوں کا دین ہے‘ وہ ردعمل کے تحت بھڑک اٹھنے کا نام نہیں۔ میرے حساب سے اصل مسئلہ مسلمانوں کی یہی مشتعل مزاجی ہے نہ کہ اغیار کی اشتعال انگیزی‘ کیونکہ مقابلے کی اس دنیا میں اشتعال انگیزی کے واقعات تو بہرحال ہوں گے اور ایک آدھ ملک میں ہی نہیں بلکہ ہر جگہ ہوں گے حتیٰ کہ مسلم ملکوں میں بھی۔ ہم ان کے وجود کو ختم نہیں کرسکتے البتہ حکیمانہ تدبیر کے ذریعے اپنے آپ کو ان کے نقصانات سے بچا سکتے ہیں اور وہ تدبیر ہے اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہونا۔ مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ بے صبری اور اشتعال انگیزی ہے۔ فریق ثانی(مغربی ممالک) نے یہ بات پالی ہے اور اچھی طرح جان لیا ہے کہ کچھ چیزیں ہیں جن پر مسلمان بھڑک اٹھتے ہیں۔ ہر مسلمان کی کوئی نہ کوئی ’’اہانت‘‘ ہوتی ہے جب بھی مسلمانوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنا ہو فوراً ’’اہانت‘‘ کردو‘ اس کے بعد لازماً ایسا ہوگا کہ مسلمان بھڑک اٹھیں گے اور پھر ان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے کا موقع مل جائے گا۔ اس مسئلہ کا واحد حل یہ ہے کہ مسلمان بات بات پر بھڑکنا چھوڑ دیں اس کے بعد تمام فسادات بے زمین ہوکر اپنے آپ ختم ہوجائیں گے۔ اصل میں یہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے‘ مسابقت کی دنیا ہے‘ یہاں ہر ایک دوڑ رہا ہے‘ ہر ایک دوسرے کا پیچھا کرکے آگے بڑھ جانا چاہتا ہے۔ اس کے نتیجے میں لازماً ٹکراؤ کے مواقع پیش آتے ہیں کہ مقابلہ انسانی ترقیوں کا زینہ ہے۔ تاریخ کی تمام ترقیاں اس مقابلہ آرائی کے بطن سے ظاہر ہوئی ہیں۔ ٹکراؤ کے واقعات قانون فطرت کی بناء پر ہمیشہ اور ہر جگہ پیش آئیں گے خواہ وہ دسویں صدی ہو یا اکیسویں صدی‘ خواہ وہ مغربی ممالک ہوں یا برصغیر‘ غرض کہ کہیں بھی مقابلہ اور مسابقت کی یہ حالت ختم ہونے والی نہیں۔ ہم مقابلے کی حالت کو ختم نہیں کرسکتے البتہ ہم اپنے آپ کو اس کی زد سے بچاسکتے ہیں اور اپنے آپ کو اس سے بچانے کا واحد نسخہ اعراض ہے۔ مذہب کو ذاتی مسئلہ ماننے والوں نے نہایت ہوشیاری اور عقلمندی سے مسلمانوں کی ایک کمزوری دریافت کررکھی ہے‘ یہ کمزوری ہے ان کا اشتعمال کے موقع پر مشتعل ہوجانا۔ جن مواقع پر قرآنی حکم کے مطابق ’’اعراض‘‘ کرنا چاہئے وہاں دوسروں سے الجھ جانا۔ یہ گویا مسلمانوں کا کمزور مقام ہے‘ اس کمزور مقام سے فریق ثانی ان پر ’’حملہ آور‘‘ ہوتا ہے اور مسلمانوں کی بے شعوری کی بناء پر ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے۔
’’حرف آخر کے طور پر مجھے یہ کہنا ہے کہ اس دنیا میں ہر مسئلہ نادانی سے پیدا ہوتا ہے اور اس کو دانشمندی سے ختم کیا جاسکتا ہے۔ مذاہب کے جھگڑوں کے پیچھے کچھ نادانوں کی نادانیاں شامل رہتی ہیں۔ اگر دوسرے لوگ آگے بڑھ کر دانش مندی کا طریقہ اختیار کریں تو یقینی طور پر ہر جھگڑا اپنے آغاز ہی میں ختم ہوجائے‘ ورنہ۔۔۔!
تعلیم سے جاہل کی جہالت نہ گئی
نادان کو الٹا بھی تو نادان ہی رہا

Leave a Reply

Back to top button