منتخب کالم

مشرف فیصلہ: ہنگامہ ہے کیوں برپا!…… علی احمد ڈھلوں

میں نے پی آئی سی واقعہ پر گزشتہ کالم بعنوان ”تعلیم میں پیچھے، مطلب شدت پسندی میں آگے“ میں پورا کالم اسی موضوع پر لکھا ہے کہ ہمارے مجموعی رویوں کی وجہ سے آج پاکستان ”جتھوں والا پاکستان“ بن کر رہ گیا ہے، ایسا پاکستان جس میں ایک دوسرے کے وجود کو برداشت کرنا ممکن نہیں رہا، ایسا پاکستان جس میں ہر طبقہ دوسرے پراور ہر ادارہ دوسرے ادارے پر سبقت لے جانے کی تگ و دو میں ایک دوسرے کے ”روند“ رہا ہے۔ انہی ہنگاموں کے دوران سابق آرمی چیف و سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ آگیا ہے، فیصلہ، جو کافی عرصہ پہلے لکھا جا چکا تھا،کے چندپیراگراف یہ کہتے ہیں کہ جنرل پرویزمشرف نے دو مرتبہ آئین توڑا۔ یہ الزام درست ہے، لیکن پہلی مرتبہ جب انہوں نے نواز حکومت کو بر طرف کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کیا تو ان کے اس عمل کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے جائز قرار دیتے ہوئے فیصلے میں لکھا:”ملک کو لوٹ مار کا قلعہ بنا دیا گیا تھا، اس لئے جنرل پرویزمشرف کا فیصلہ درست ہے، اس لئے ہم انہیں تین سال تک موقع دیتے ہیں، پھر وہ انتخابات کروائیں گے“۔ آگے چلئے، اسی عدلیہ نے انہیں 31 دسمبر2007ء تک وردی میں رہنے کی اجا زت دے دی۔ اور پھر پیپلز پارٹی کی حکومت آئی اور انہوں نے پرویز مشرف کو عزت سے رخصت کیا۔ ن لیگ کے دور میں اُن پر مقدمہ قائم ہوا، لیکن کچھ عرصہ بعد ہی نواز شریف نے مشرف غداری کیس سے ”توبہ“ کر لی، مگر کیس چونکہ چل چکا تھا، اس لیے اس کا فیصلہ بھی آنا تھا جو گزشتہ روز آیا، جسے پاکستان کے بعض طبقات نے خوش آئند قرار دیا اور بعض طبقات کی جانب سے اس حوالے سخت ردعمل بھی سامنے آیا۔ جسکی بادی النظر میں شاید ضرورت بھی نہیں تھی!
مجھے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سے ہمدردی نہیں، نہ ہی کسی دوسرے فریق سے ہمدردی ہے۔ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عدالتی فعالیت کا میں ہمیشہ سے پرجوش حامی رہا ہوں ہوں، لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ کیا ہمارے ”انصاف کے اداروں“ سے کوئی خوش بھی ہے؟اس جدید دور میں جب سارا نظام ہی آئین پر کھڑا ہوتا ہے تو ہم آئین کا کس قدر احترام کررہے ہیں؟ حالانکہ ہمارے لیے تو سب سے مقدم پاکستان کا آئین ہونا چاہیے۔چلیں!اگر مان لیا جائے کہ خصوصی عدالت نے فیصلہ غلط کیا ہے تو اس پر”ہنگامہ ہے کیوں برپا“کیا مشرف پاکستان میں ہیں؟ وہ ملک میں پہلے بھی نہیں آرہے تھے، اب تو شاید مزید نہ آئیں۔دوسرا ایک ماہ کے اندرسپریم کورٹ میں اپیل کا حق موجود ہے، ہمیں اسے استعمال کرلینا چاہیے اور میرے خیال میں یقینا اس حوالے سے ”ریلیف“ بھی مل جائے گا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے ہاں قانون کی پاسداری کسی نے بھی نہیں کرنی؟اگر فیصلہ وکلاء کے خلاف آتا ہے تو وہ جتھہ بنا لیتے ہیں، اگر سیاستدانوں کے خلاف آتا ہے تو وہ ملک چلنے نہیں دیتے، اگر کسی تاجر کے خلاف آتا ہے تو تاجر برادری اکٹھا ہوجاتی ہے، اگر ڈاکٹرز کے خلاف فیصلہ آجاتا ہے تو وہ علاج کرنا چھوڑ کر سڑکوں پر آجاتے ہیں، اگر فورسز کے خلاف فیصلہ آتا ہے تو ملک میں ہنگامے کی سی کیفیت برپا کر دی جاتی ہے۔پیپلزپارٹی کے خلاف فیصلہ آئے تو کہا جاتا ہے کہ حکومت عدلیہ پر اثر انداز ہو رہی ہے، ن لیگ کے خلاف فیصلہ آئے تو کہا جاتا ہے کہ ججز بغض نکال رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے خلاف فیصلہ آتا ہے، تو کہا جاتا ہے کہ یہ سابقہ ادوار کی باقیات ہیں!بھائی!اگر ایسے ہی ملک چلانا ہے تو تمام پارٹیاں، ادارے یا حکمران اپنا اپنا جج لے آئیں یا اپنی اپنی عدالت لگا لیں تو یقینا سب کی تسلی کے لیے کافی ہوگا۔
چلیں یہ بھی مان لیتے ہیں کہ کسی بھی عدالت کے فیصلے پر تنقید کرنا یا اس کے خلاف اپیل میں جانا ہر شہری کا آئینی حق ہے لیکن جب ہم عدالتی فیصلوں کے پیچھے سازشیں اور بدنیتی تلاش کریں گے تو کیسے ملک آگے چل سکتا ہے؟ اسی لیے اس بات پر مجھے ہمیشہ افسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں قانون ہمیشہ سے موم کی ناک رہی ہے، طاقتوروں کی مرضی ہے جس طرف چاہیں موڑ دیں۔یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک بڑے جرم میں تو کوئی پوچھے نہیں اور ٹریفک کا اشارہ توڑنے پر سخت سزا دے دی جائے۔ اب دستور شکنی کے ایک کیس کا فیصلہ ہوا ہے تو امید بندھی ہے کہ دیگر قانون شکن بھی نظام کے شکنجے میں آتے چلے جائیں گے۔ پرویز مشرف کے خلاف ہونے والے فیصلے پر بے شک عمل نہ ہو، یہ طے ہوجانا ہی بڑی بات ہے کہ انہوں نے دستور شکنی کی۔ ہماری تاریخ کی روشنی میں جنرل پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ کرنا کوئی آسان نہ تھا۔ اس کانٹوں بھرے راستے پر چلنے سے آصف علی زرداری نے انکار کیا،جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں دوہزار تیرہ کے الیکشن کے بعدنواز شریف نے بھی خفیہ طور پر جنرل مشرف کے احتساب سے توبہ کر لی تھی‘ نواز شریف نے جنرل مشرف کے خلاف دستور شکنی کا مقدمہ ایک سیاسی حربے کے طور پر قائم کیا تھا اور انہیں کچھ عر صہ اس کا فائدہ بھی ہوا۔لیکن اب جب فیصلہ آ ہی گیا ہے تو کیا ہم تفصیلی فیصلہ پڑھے بغیر بے تکے ردعمل دے سکتے ہیں؟ انگریزی کہاوت ہے کہ”جلدی اور بغیر سوچے سمجھے بھاگنے والا انسان منہ کے بل گرتا ہے“۔
خیر! ہمارا موضوع یہ نہیں کہ مشرف کے ساتھ اچھا ہوا یا برا۔ اس حوالے سے چند دن میں حقیقت بھی عیاں ہو جائے گی کہ یہ سب کیوں اور کیسے ہوا۔ مگر حیرانگی اس بات پر ہے کہ کہ اس ملک میں کوئی بھی عدلیہ کے فیصلے کو ماننے کے لیے تیار نہیں، ورنہ دنیا میں بہت سی مثالیں ہیں کہ جن سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جن قوموں نے قانون کا احترام کیا وہ امر ہوگئے ان میں آپ کے سامنے فرانس کی مثال ہے جہاں صدر زنسوئے ایمائل کو پھانسی کی سزا ہوئی، کہیں شور شرابہ نہیں ہوا، بلکہ وکلاء نے فیصلے کو ناصرف تسلیم کیا بلکہ اسے بہتر فیصلہ قرار دیا۔ اسی طرح ساؤتھ افریقہ (سابق سنٹرل افریقہ) کے صدر بوکاسا کو سخت سزا سنائی گئی، اُن کی پارٹی کو سخت اختلاف ہوا مگر مجال ہے کہ فیصلے کے خلاف کسی نے بات کی ہو۔ رومانیہ بھی صدر کوسیسکوکی مثال لے لیں جسے گولی مارنے کا حکم دے دیا گیا کیوں کو وہ جرم کا مرتکب ہوا تھا۔ لہٰذاکسی نے چوں چراں نہیں کی۔ اسی طرح ترکی کے صدر بیئر سیلل کو سزائے موت کا حکم دیا گیا، ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے لیے یہ فیصلہ خاصہ مشکل تھا مگر فیصلے کے خلاف کسی کو اپیل کرنے کی بھی جرأت نہیں ہوئی۔
لیکن یہاں سب کچھ اُلٹ ہے…… حکومت بھی اپنے دائرے میں نظر نہیں آرہی اور دیگر ادارے بھی پچ سے باہر نکلنے کر سٹروک کھیلنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اور خاص طور پر اس بات کی حیرانگی ہے کہ ایک ڈسپلن فورس کیسے ایک عدلیہ کے فیصلے پر اپنا ردعمل دکھا سکتی ہے؟ اگر آپ چاہتے ہیں کہ قانون کی پاسداری ہو، حکومت کی رٹ مضبوط ہوتو ایک دوسرے کی رٹ کا احترام کریں۔اوراگر آپ کے خیال میں ججز غلط ہیں تویقینا یہاں پر ججز کی تقرری کا نظام غلط ہوگا، کہ ایسے ججز کیوں لگائے جا رہے ہیں جو ہر فیصلہ ہی غلط صادر فرما رہے ہیں۔ کبھی مریم فیصلے پر رو رہی ہے، کبھی شہباز، کبھی نواز، کبھی خورشید شاہ، کبھی خواجہ برادران، کبھی جہانگیر ترین، کبھی علیم خان اور کبھی دوسرے سیاستدان۔
میرے خیال میں اس طرح کے کیسز میں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے والی شخصیات و معتبر ادارے اس پر ضرور روشنی ڈالیں کہ پاکستان میں اور بھی کیسز باقی ہیں جس میں انصاف نہیں ہوا۔ان میں سے ایک کیس 12 مئی 2007 کو 50 سے زیادہ افراد کو زندہ جلا دیا گیا یا گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔اس واقعے کو 12 سال اور 7 ماہ ہو گئے۔یہ 4601 دن بنتے ہیں۔لیکن ساڑھے چار ہزار دن گزرنے کے بعد بھی اس کیس میں ابھی تک بڑی پیش رفت نہ ہو سکی اور یہ کیس منطقی انجام کو نہ پہنچ سکا۔ایسے ہی ایک واقعہ 11 ستمبر 2012 کو پیش آیا۔جب کراچی کی بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں 260 مزدوروں کو آگ لگا کر زندہ جلا دیا گیا۔اس واقعے کو 7سال 3 ماہ بیت گئے۔ 260 خاندانوں سے جڑے ہزاروں افراد کرب میں مبتلا ہیں اور ان کے ساتھ دردمند دل رکھنے والے لاکھوں دیگر پاکستانی بھی جو ذمہ داروں کو سزائے موت ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ کیا ماڈل ٹاؤن میں 14افراد کو کسی نے قتل نہیں کیا؟ کیا 5 سال اور7 ماہ کسی کے قاتل کا تعین کرنے کے لیے ناکافی ہوتے ہیں؟ ایسے ہی 19جنوری 2019 ء کو ساہیوال کے قریب ایک واقعہ پیش آیا جس میں غلط فہمی کے بنیاد پر ایک خاندان کے مارے جانے کا اعتراف خود حکومت نے کیامگر کچھ عرصہ پہلے سانحہ ساہوال کے ملزمان کو عدالت نے بری کر دیا۔ نقیب اللہ قتل کیس اورسبزہ زار پولیس مقابلہ جیسے کتنے ہی کیسز ایسے ہیں جس میں مقتول کے والدین انصاف کی راہ دیکھتے دیکھتے قبروں میں جا سوئے۔ایک ایسے ملک میں جہاں ادارے مضبوط نہ ہوں، انصاف کے طلب گار اپنی تو کیا انصاف کے ایوانوں کی دہلیز سے بھی مایوس لوٹ جائیں، جہاں جعلی اکاؤنٹس کا سراغ مل جانے کے بعد بھی مک مکا فارمولے کے تحت خاموشی اختیار کر کے سالہا سال تک معاملے کو لٹکا دیا جائے۔
قصہ مختصر کہ اگر اداروں کو ٹھیک کرنا ہے تو ایک دوسرے کے گناہ گنوانے کے بجائے تعمیری حربے اپنائے جائیں، بادی النظر میں اگر عدالتیں ٹھیک کام نہیں کر رہیں تو کیا اقوام متحدہ سے کہہ دیا جائے کہ وہ چند ایک ججز بھیج دیں، یا عالمی عدالت سے کہا جائے کہ ہم لوگ ناہل ہیں، اپنے فیصلے خود نہیں کر سکتے نہ اپنے آپ کو انصاف دے سکتے ہیں لہٰذاایک کورٹ قائم کر دی جائے جس میں ججز بھی امپورٹ کر لیے جائیں۔ یقین مانیں اداروں پر کیچڑ اچھالنے سے دشمن ملک سارا سارا دن ”پاکستان“ کا مذاق بناتا ہے۔اور مشرف کے فیصلے کے بعد فورسز کے رد عمل کے جواب میں وہ یہاں تک کہہ چکا ہے کہ ”حالیہ دنوں میں وکلاء اور فورسز کے رویے میں بالکل فرق نظر نہیں آیا“، آگے آپ خود سوچ لیں!

Leave a Reply

Back to top button