منتخب کالم

معاملہ توسیع کا…… عطاالرحمٰن

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی اگلے تین برس تک توسیع کے مسئلے نے جو تین دن تک پورے ملک اور بیرونی دنیا کے پاکستانی مبصرین کو اپنی گرفت میں لیے رکھا…وزیراعظم عمران خان اور ان کی لیگل ٹیم کی اس حساس ترین مسئلے پر نااہلی جس برے طریقے سے واشگاف ہوئی، اس نے پاکستان میں سول ملٹری تعلقات کو جو کبھی مستحکم نہیں رہے… اس طریقے سے موضوع بحث بنا دیا کہ ہمارے نہایت درجہ محب وطن اور عظیم سٹریٹجک سوچ رکھنے والے جرنیلوں کو اپنے لاڈلے سے اس کی توقع تھی نہ قوم یہ خواہش رکھتی تھی کہ اس کی بہادر اور ملک کی سلامتی کے لیے مر مٹنے والی بری فوج کے سپہ سالار کا منصب اس نوعیت کی قانونی کھینچا تانی کا سبب بنے… بہر صورت اب جو سارا معاملہ چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کے اس مختصر حکم نامے پر منتج ہوا ہے کہ حکومت اگلے چھ ماہ کے اندر پارلیمنٹ میں قانون سازی کر کے ہمیشہ کے لیے طے کر دے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کتنے برس کو محیط ہو گی، اسے مزید توسیع دی جا سکتی ہے یا نہیں اور شرائط ملازمت جن کے بارے میں آئین اور آرمی ایکٹ دونوں خاموش ہیں کیا ہوں گی…
اس تمام قضیے کا سب سے مثبت پہلو یہ ہے کہ معاملہ منتخب پارلیمنٹ کے پاس آ گیا ہے، اسی نے آئین کی دفعہ 243 کی روشنی میں طے کرنا ہے موجودہ یا آنے والا کوئی بھی وزیراعظم وقت کے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع دے سکتا ہے یا نہیں… اب یہ حکومت اور پارلیمنٹ کے اندر بھرپور نمائندگی رکھنے والی حزب اختلاف کی جماعتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس قضیے کو اس طرح نمٹائیں دوبارہ سر نہ اٹھا سکے… ہمارے وزیراعظم بہادر نے جس بھونڈے طریقے سے آرمی چیف کو توسیع دینے کا قدم اُٹھایا اور انتہائی ناقص درجے کی قانونی زبان و بیان پر مشتمل نوٹیفکیشن جاری کیا پھر سپریم کورٹ کی جانب سے توجہ دلانے کے بعد اسی طرح کی حماقت کو دو تین دفعہ دہرایا… اس امر پر بھارتی میڈیا نے جو ہماری بدھ اُڑائی ہے اور باقی دنیا کی نظروں میں بھی عمران خان اور ان کی ٹیم کے طرز حکمرانی کو جس مضحکہ خیز انداز میں تفنن طبع کا موضوع بنایا ہے اس کی شاید خان بہادر کے سیاسی مخالفین کو بھی توقع نہ تھی… معلوم نہیں کیا خوف طاری تھا کہ موصوف نے جو کام 29 نومبر سے دو چار روز پہلے کرنا تھا اس کا اعلان 19 اگست کو کر دیا… وہ اپنی وفاداری کے بارے میں کس کو مطمئن کرنا چاہتے تھے اور اگر ایسا کرنا ضروری ہو گیا تھا تو اپنی انا اور تکبر کے خول سے نکل کر دوچار چوٹی کے ماہرین قانون سے مشاورت کر لیتے دوسری رائے لے لیتے… یوں پوری دنیا میں اپنی نا اہلی کا اس طرح ڈھنڈورا نہ پٹواتے مگر اب جو ہو گیا سو ہو گیا… گیند پارلیمنٹ کی کورٹ میں ہے… کھیل کا آغاز بہر صورت وزیراعظم عمران خان کی پارلیمانی ٹیم نے کرنا ہے… اور یہ ایسا کھیل ہو گا جس میں مقابلے کی ٹیم کو ہرانے کی بجائے اس کے ساتھ سمجھوتہ کرنے اور آئندہ کے کھیل کے لیے اصول طے کرنے کا انتہائی سوجھ بوجھ والا کارنامہ سر انجام دینا ہو گا…
بنیادی سوال یہ ہے کیا ہم واقعی جنرل قمر جاوید باوجوہ یا آئندہ آنے والے کسی بھی آرمی چیف کے لیے توسیع کی گنجائش رکھنا چاہتے ہیں یا نہیں… ظاہر ہے جنگ ہو رہی ہو… دشمن کے ساتھ گولہ باری اور ہوائی بمباری کا مقابلہ جاری ہو تو ناگزیر حالات میں توسیع ضروری ہو سکتی ہے… لیکن اس اصول کا اطلاق ہر موقع اور ہر آرمی چیف پر نہیں ہو سکتا… ملکی سلامتی کو درپیش خطرات تو ہر دم موجود رہتے ہیں… مگر ان سے نبرد آزما ہونا جیسا کہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے بطور ادارہ پوری فوج کی ذمہ داری ہے نہ کہ شخص واحد کی… آخر 90 کی دہائی کے آغاز کے سالوں میں جنرل آصف نواز جنجوعہ اچانک عارضہ قلب کا شکار ہو کر اس دنیا سے چلے گئے تھے…آرمی چیف کا عہدہ یکدم خالی ہو گیا… حالات تو اس وقت بھی نازک ترین تھے مگر جنرل عبدالوحید کاکڑ کو اُن کی جگہ پر نامزد کر دیا گیا جو کسی طور کم درجہ کے سپہ سالار نہیں تھے اور اپنی ریٹائرمنٹ تک بطریق احسن اس منصب کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوتے رہے ان کی توسیع کا سوال بھی اٹھا… وزیراعظم بینظیر بھٹو کی رائے حق میں تھی لیکن قائد حزب اختلاف میاں نواز شریف نے مخالفت کر دی ان کی جگہ نئے سپہ سالار نے لے لی…یہ موقع ہے ہماری پارلیمنٹ بھی آرئین کے آرٹیکل 243 کی روشنی میں اور آرمی ایکٹ کی دفعہ 255 کو نئی الفاظ اور اظہار کا پراہن دیتے ہوئے طے کر دے کہ مسئلہ افواج کے کسی بھی سربراہ کی مدت ملازمت اس کی ریٹائرمنٹ کے دن تک برقرار رہے گی… خواہ اس میں ایک یا دو ماہ کا عرصہ باقی ہو یا چند سالوں کا … جیسا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹوں کے چیف جسٹسز کا معاملہ ہے… طے شدہ طریقۂ کار کے تحت بنچ کا سینئر ترین فرد خود بخود اس منصب پر فائز ہو جاتا ہے اور اپنی ریٹائرمنٹ کے وقت فرائض منصبی ادا کرتا ہے… کوئی توسیع نہیں ہوتی… نہ یہ امر کسی کے لیے درد سر کا باعث بنتا ہے…
آج ملک کا ہر شہری جانتا ہے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی بروقت ریٹائرمنٹ کے بعد جو جلد ہونے والی ہے کون ان کی جگہ لے گا اور پھر نئے آنے والے کا جانشین کون ہو گا اور یہاں تک کہ اس کا جانشین!… اس اصول کا اطلاق مسلح افواج کے سربراہان پر کیوں نہیں ہو سکتا جیسا کہ دنیا بھر کے مسلمہ جمہوری ممالک کا دستور ہے… یہی وجہ ہے امریکہ، برطانیہ یہاں تک کہ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں اس طرح کا کبھی کوئی تنازع پیدا نہیں ہوا… ان تمام ممالک کے اندر سینئر ترین فرد نے اپنے پیشرو کی جگہ لینی ہوتی ہے خواہ اس کی ریٹائرمنٹ میں دو دن کا عرصہ باقی ہو… ہمیں یہ اصول اپنا لینے میں کونسا امر مانع ہے… ہمسایہ اور دشمن ملک بھارت کا دفاعی ڈھانچہ ہمارے مقابلے میں پانچ گنا سے زیادہ بڑا ہے… جنگیں اس ملک نے بھی بہت لڑی ہیں… 1962ء میں چین کے مقابلے میں شکست فاش ہوئی تھی… 1971ء میں اس نے مشرقی پاکستان کے اندر عوامی بغاوت کو فروغ دے کر فوجی کامیابی حاصل کی … اس کے علاوہ بھی بھارتی فوج کو کئی مہمات کا سامنا رہتا ہے… پاکستان کے ساتھ شرارت کرنے سے باز نہیں آتا… اسی وجہ سے ہماری فوج کو بھی ہمہ وقت مستعد اور چوکنا رہنا پڑتا ہے لیکن نرم گرم حالات بھارتی فوج کے کسی بھی سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی وجہ جواز نہیں بنے… آخر ہمارے لیے یہ مسئلہ کیوں اس حد تک غیر معمولی اہمیت کا حامل بن جاتا ہے… اور پورے ملک کی سیاست میں ہچل مچا کر رکھ دیتا ہے… اب جو پاکستان کی پارلیمنٹ کو موقع ملا ہے تو اسے دنیا بھر کے مسلمہ جمہوری اصولوں کی روشنی میں یہ امر طے کر دینا چاہیے کہ اعلیٰ عدالتوں کے چیف جسٹسز کی مانند مسلح افواج کے سربراہان بھی سنیارٹی کی بنیاد پر نامز ہوں گے اور اپنی ریٹائرمنٹ کی عمر کے اختتام کے بعد عہدے سے فارغ ہو جائیں گے…ان کی جگہ اگلی سب سے سینئر شخصیت لے لے گی… کیونکہ معاملہ اکیلے جنرل قمر جاوید باجوہ کا نہیں ہر آنے والے آرمی چیف کا ہے اور اس کا تعلق نظم مملکت کو ہمیشہ کے لیے مستحکم اور دفاع کو مضبوط رکھنے سے ہے… لہٰذا پارلیمنٹ کو یہ فریضہ پائیدار آئینی بنیادوں پر طے کرنا چاہیے نہ کہ وقتی اور ہنگامی طور پر یا محض ایک شخص کی خاطر…
حق یہ ہے اگر ملک فیروز خان نون کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان کو توسیع نہ دیتے ان کی جگہ نیا سپہ سالار آ جاتا… تو شاید 8 اکتوبر 1958ء کو ملکی تاریخ کا پہلا مارشل لاء نہ لگتا… یہ ایسا کام تھا جس میں آنے والے 60/65 سال کی پاکستان کی تاریخ کو تاراج کر کے رکھ دیا… اور توسیع لینے کا ایسا چسکا پڑ گیا تو تین چار کے سوا ہر آنے والے آرمی چیف کے سر پر یہ سودا سوار رہا کہ اس کی مدت میں اضافے پر اضافہ ہونا چاہیے… اس کی خاطر ملک و قوم کو باور کرانے کی کوشش کی جاتی رہی… اگر یہ اقدام نہ کیا گیا تو پاکستان کی سلامتی کو ایسے خطرات لاحق ہو جائیں گے کہ سنبھلنا ممکن نہ رہے گا…حالانکہ یہ سب کچھ فریب تھا… ایوب خان ناگزیر تھا نہ کوئی اور… ملک کا اصل اثاثہ اس کی عظیم، بہار مسلح افواج ہیں نہ کہ ایک یا دو اشخاص خواہ امور حرب میں کتنی مہارت رکھتے ہوں… فوج کے عظیم درجے کے دفاعی ادارے کو ہمیشہ ملکی سیاست سے بالا اور آئین مملکت کا پابند رہنا چاہیے… ہمارے ملک میں جو سیاسی مداخلت ہوتی رہی ہے اور آج تک کسی نہ کسی درجے چلی آ رہی ہے اس کا ایک اہم سبب سپہ سالار کے منصب کو توسیع دینے کی روایت سے رہا ہے … اگر یہ روایت جڑیں نہ پکڑتی بلکہ ایوب خان کو سرے سے توسیع نہ دی جاتی تو پاکستان کے دفاعی نظام کی شریانوں میں تازہ اور صحت مند خون دوڑتا رہتا اور فوج جیسے عظیم ادارے کا اندرونی نظام بھی کسی انجماد کا شکار نہ ہوتا کیونکہ اگر چوٹی کا منصب دار اپنی نشست پر براجمان رہے تو اس کے اثرات نیچے تک جاتے ہیں… حقدار اور اہل لوگوں کو ترقیاں نہیں ملتیں… وہ اپنی صلاحیتوں اور دفاعی تربیت کو بہتر استعمال میں نہیں لا پاتے…
اسلامی روایت تو یہ رہی ہے کہ ہمارے درخشاں ترین دور خلافت میں خلیفہ ثانی عمر بن خطابؓ نے عین حالت جنگ میں خالدؓ بن ولید جیسے عظیم سپہ سالار کو منصب چھوڑ دینے کا حکم دے دیا تھا… اس مرد مجاہد نے جسے پیغمبر اسلام حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کی تلوار کے خطاب سے سرفراز فرمایا تھا… بلا چوں و چراں مسلمانوں کے منتخب خلیفہ کا حکم بجا لانے میں دیر نہ کی… آج کی مہذب دنیا کا بھی یہ دستور ہے کہ ان کا بڑے سے بڑا سورما وقت پر ریٹائر ہو کر رخت سفر باندھتا ہے اور گھر کو روانہ ہو جاتا ہے… ہمیں بھی ان صحت مند مثالوں اور روایات کو قانون کی شکل میں ڈھال دینے میں کسی جھجک سے کام نہیں لینا چاہیے کہ اسی میں ملک و مملکت کا مفاد اور اس کے مؤثر دفاع کا راز مضمر ہے…

Leave a Reply

Back to top button