روشنی

معجزاتِ سرورِ کونین ؐ…… رانا اعجاز حسین

خاتم النبین حضرت محمد ؐ کی ذات اقدس جامع المعجزات ہے، پہلے انبیاء علیہم السلام کو جو معجزے عطاء کئے گئے وہ سب آپ ؐ کے وجود مبارک میں جمع ہوئے۔ یہاں تک کہ آپ ؐ کا بال بال معجزہ قرار پایا۔ سرورکونین حضرت محمد ؐ کے معجزات میں کئی جمادات، نباتات اور حیوانات سے متعلق ہیں: کنکریاں آپ ؐ کے ہاتھ میں تسبیح کرتیں، شجروحجر آپ ؐ پر سلام بھیجتے اور سجدہ کرتے، ہرنیاں آپ ؐ کو ضامن تسلیم کرتیں اور اونٹ آپ ؐ سے افسانہ غم بیان کرتے۔
احادیث وسیرت مبارکہ کی کتب میں ایسے متعدد خوش نصیب درختوں کا ذکر بھی ملتا ہے جنہوں نے آپ ؐ کی تعظیم وتکریم کی اور مقام نبوت کو پہچانا۔ کئی درخت آپ ؐ کی پکار پر زمین کو چیرتے ہوئے دربار رسالت ؐ میں حاضر ہوئے اور اقرار نبوت کی سعادت حاصل کی۔ تمام انبیاء علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ نے عملی معجزات عطا فرمائے، لیکن سرور کائنات ؐ کو ہزاروں کی تعداد عملی معجزوں کے ساتھ ساتھ ایک بہت بڑا علمی معجزہ قرآن پاک بھی عطا فرمایا۔ زندہ اور ہمیشہ باقی رہنے والا یہ عظیم الشان معجزہ ہے جو اپنی معجزانہ حیثیت اور شان کے ساتھ آج بھی امت کے پاس جوں کا توں موجود ہے۔
لفظ معجزہ عجز سے نکلا جس کا معنی یہ ہے کہ کوئی ایسی چیز جس سے عقل عاجز آ جائے، کوئی ایسا واقعہ جو معمول سے بالکل منفرد ہو، جو انسان کو حیرت میں مبتلاکر دے، بلاشبہ انبیاء ؑ کا معجزہ قدرت الٰہی کا کرشمہ ہوتا ہے۔
ایک دفعہ مکہ کی ویران گھاٹی میں نبی اکرم ؐ کا، رکانہ بن عبد یزید (جو کہ قریش کا ایک بہت طاقتور پہلوان تھا اور قریش میں اس سے بڑا کوئی پہلوان نہ تھا) سے سامنا ہو گیا۔ آپ ؐ نے اسے اسلام کی دعوت دی۔ اس نے مطالبہ کیا کہ اگر آپ ؐ مجھے کشتی میں ہرا دیں تو میں اسلام قبول کر لوں گا۔ آپ ؐ نے اسے ایک دفعہ نہیں بلکہ دو دفعہ کشتی میں پچھاڑ دیا۔ اس نے نبی اکرم ؐ سے کہا کہ یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ آپ ؐ نے مجھے پچھاڑ دیا۔ نبی اکرم ؐ نے فرمایا کہ میں تمہارے سامنے اس سے بھی عجیب وغریب چیز پیش کروں گا مگر شرط یہ ہے کہ تم اللہ سے ڈرو، اپنی روش بدلو اور میری پیروی اختیار کرو۔ اس نے پوچھا کہ آپ ؐ کیا دکھانا چاہتے ہیں؟ نبی اکرم ؐ نے فرمایا کہ میں اس درخت کو اپنے پاس بلاؤں گا، اس نے کہا کہ بلائیں۔ آپ ؐ نے درخت کو حکم دیا اور وہ درخت اپنی جگہ سے چل کر نبی اکرم ؐ کے پاس آیا۔ اس کے بعد آپ ؐ نے اسے حکم دیا کہ واپس جاؤ تو وہ واپس اپنی جگہ چلا گیا۔ اسی طرح عکاشہ بن محصن ؓ معرکہ بدر میں بڑی بے جگری سے لڑ رہے تھے کہ ان کی تلوار لڑتے لڑتے ٹوٹ گئی، وہ نبی اکرم ؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی اکرمؐ نے انہیں ایک کھجور کی چھڑی عطا فرمائی اور فرمایا ”عکاشہ جا دشمنوں سے لڑ“ حضرت عکاشہ ؓ نے وہ لکڑی پکڑ کر جھٹکا دیا تو وہ ایک لمبی تلوار بن گئی جس کی دہار تیز اور چمک دار تھی اور اس میں مضبوطی تھی، حضرت عکاشہ ؓ نے یہ تلوار بدر کے میدان میں خوب استعمال کی، اس تلوار کا نام العون تھا۔ حضرت عکاشہ ؓ کے پاس یہ تلوار ایک مدت تک رہی اور وہ اس کے جوہر جہاد میں دکھاتے رہے۔
اسی طرح حضرت قتادہ بن نعمان ؓ میدان احد میں بڑی بے جگری سے لڑے اور اپنی شجاعت کے جوہر دکھائے، میدان احد میں حضرت قتادہ بن نعمان ؓ کی آنکھ زخمی ہو گئی اور اس کی پتلی نکل کر ان کے گال پر لٹکنے لگی، حضرت قتادہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ؐ نے اپنے دست مبارک سے وہ پتلی واپس آنکھ میں رکھ دی تو وہ آنکھ بالکل ٹھیک ہو گئی۔ یہ آنکھ دوسری آنکھ سے بھی زیادہ تیز نگاہ اور بہتر تھی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ میں عقبہ بن ابی معیطر کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔ ایک دفعہ نبی اکرم ؐ کا وہاں سے گزر ہوا، آپ ؐ نے مجھ سے پوچھا کہ ”اے لڑکے کیا تیرے پاس دودھ ہے؟“ میں نے عرض کیا کہ ہاں دودھ ہے مگر وہ کسی کی امانت ہے میں دینے کا مجاز نہیں ہوں۔ نبی اکرم ؐ نے فرمایا اچھا تمہارے پاس کوئی ایسی بکری ہے جو کبھی حاملہ نہ ہوئی ہو اور نہ شیردار ہو، میں نے عرض کیا کہ ہاں ایسی بکری تو ہے پھر میں نے وہ بکری پیش خدمت کر دی۔ نبی اکرم ؐ نے اس کے تھنوں پر ہاتھ پھیرا، تھوڑی دیر سہلاتے رہے، اس کے تھنوں میں دودھ اتر آیا۔ آپ ؐ نے ایک برتن میں دودھ بھر کر وہ خود بھی پیا اور حضرت ابوبکر ؓ کو بھی پلایا، اس کے بعد بکری کے تھن پھر پہلے جیسے ہو گئے۔
فتح خیبر کے بعد جب نبی اکرم ؐ کچھ اطمنان سے بیٹھے تو ایک یہودیہ زینب بن الحارث نے نبی اکرم ؐ کے قتل کی ناپاک سازش کی اور ایک بکری کا گوشت زہر آلود کر کے نبی اکرم ؐ کی خدمت میں ہدیہ کیا۔ اس عورت نے گوشت بھیجنے سے پہلے معلوم کیا کہ نبی اکرم ؐ کو کون سے حصے کا گوشت زیادہ مرغوب ہے، بتایا گیا کہ دستی کا گوشت زیادہ مرغوب ہے تو اس نے دستی کو بہت زیادہ مسموم کیا اور اس کے بعد وہ گوشت اچھی طرح بھون کر نبی اکرم ؐ کی خدمت میں ہدیہ کر دیا۔ آپ ؐ نے دستی کا گوشت اٹھایا، آپ ؐ نے ایک نوالہ منہ میں تو لیا مگر اسے نگلا نہیں بلکہ اسے واپس اُگل دیا اور فرمایا کہ اس بکری کی ہڈی مجھے خبر دے رہی ہے کہ اسے زہر آلود کیا گیا ہے۔ اس عورت کو بلایا گیا اس نے اقرار کیا کہ اس نے ایسا ہی کیا تھا۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ اس نے ایسا کیوں کیا تو اس نے جواب دیا کہ ”آپ ؐ نے میری قوم کے ساتھ جو معاملہ کیا وہ آپ ؐ کے سامنے ہے، میرا ارادہ تھا کہ آپ ؐ اگر عام بادشاہوں کی طرح ہوں گے تو اس زہر سے نعوذ باللہ ہلاک ہو جائیں گے اور میں راحت پاؤں گی اور اگر آپ ؐ واقعی نبی ہیں تو اللہ آپ ؐ کو اس کی خبر دے گا“۔
غزوہ احزاب جسے جنگ خندق بھی کہتے ہیں، اس جنگ سے قبل جب خندق کھودی جا رہی تھی تو ایک بہت بڑا اور سخت پتھر حائل ہو گیا، بہت زور لگایا گیا لیکن نہ ٹوٹا۔ تب آپ ؐ کو اطلاع کی گئی، آپ ؐ تشریف لائے اور کدال سے ایک ضرب لگائی، چنگاریاں نکلیں اور آپ ؐ نے فرمایا روم فتح ہو گیا، پھر دوسری ضرب لگائی، چنگاریاں نکلیں اور آپ ؐ نے فرمایا ایران فتح ہو گیا پھر تیسری ضرب لگائی اور چنگاریاں نکلیں اور آپ ؐ نے فرمایا خدا کی قسم بحرین کے سرخ محلات میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ بعد میں آنے والے دنوں میں روم اور ایران تو بہت جلد فتح ہو گئے، صرف قسطنطنیہ کا شہر باقی رہ گیا۔ اس شہر کو فتح کرنے کے لیے اور نبی علیہ السلام کی پیشین گوئی پوری کرنے کے لیے کم و بیش چودہ بادشاہوں نے لشکر کشی کی اور آٹھ سو سال بعد قسطنطنیہ کا یہ شہر بھی اسلام کے زیر نگیں آ گیا اور سچے نبی ؐ کی پیشین گوئی پوری ہو گئی۔ اسی طرح غزوہ خندق کے موقع پر جب سب نے پیٹ پر پتھر باندھ رکھے تھے تو ایک صحابی ؓ اپنے گھر گئے اور بکری کا بچہ ذبح کیا اور ساتھ ہی گھر والوں کو میسر آٹے سے روٹیاں پکانے کا کہہ کر آپ ؐ کے پاس حاضر ہوئے اور کان مبارک میں عرض کی کہ سات آٹھ افراد کا کھانا تیار ہے تشریف لے آئیے، آپ ؐ ساٹھ ستر افراد کے ساتھ تشریف لائے۔ اس صحابی ؓ کے چہرے پر پریشانی کے آثار ہویدا دیکھ کر آپ ؐ نے ارشاد فرمایا تھالی ہٹائے بغیر سالن نکالتے رہو اور اوپر سے رومال ہٹائے بغیر روٹیاں نکالتے رہو، اسی طرح اس سات آٹھ افراد کے کھانے کو ساٹھ ستر افراد نے سیر ہو کر تناول کیا اور مہمانوں کے چلے جانے پر پہلے جتنا کھانا تھا اتنا پھر بھی باقی دھرا تھا۔
جانوروں کی زبان سمجھ لینا بھی آپ ؐ کا ایک معجزہ تھا، جب کچھ لوگ شرف ملاقات کے لئے حاضر خدمت ہوئے تو ان کے اونٹ نے اپنا سر لمبا کر کے قدمین شریفین پر رکھ دیا اور اپنی زبان میں ڈکارا، آپ ؐ نے فرمایا یہ مجھ سے شکایت کر رہا ہے کہ تم اس سے کام بہت لیتے ہو، کھانے کو کم دیتے ہو اور تشدد بھی کرتے ہو۔ وہ لوگ کم و بیش دو ماہ بعد اس اونٹ کو پھر لائے اور آپ ؐ کی خدمت میں پیش کر کے عرض کی اس دوران ہم نے اس سے کوئی کام نہیں لیا اور صرف کھلایا پلایا ہے، آپ ؐ اس کی صحت دیکھ لیں اور اجازت ہو تو ہم اس سے کام لینا شروع کر دیں۔ اس طرح ایک صحابی ؓ نے رسول اکرم ؐ کے لیے لکڑی کا منبر بنا کر مسجد نبوی میں رکھ دیا۔ آپؐ خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے اس پر رونق افروز ہوئے تو خشک درخت کا بنا ہوا وہ ستون، جس سے ٹیک لگا کر آپ ؐ اس منبر سے پہلے خطبہ ارشاد فرماتے تھے، وہ بلک بلک کر رونے لگا۔ آنحضرت ؐ نے جب اس ستون کی بے قراری ملاحظہ فرمائی تو خطبہ مؤخر فرما کر اس ستون کے پاس آئے اور اسے سینے سے لپٹا لیا۔ پھر صحابہ کرام ؓ سے فرمایا ”یہ میری جدائی میں گریہ کناں ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اگر میں اسے سینے سے لپٹا کر دلاسا نہ دیتا تو یہ قیامت تک اسی طرح میری جدائی کے غم میں روتا رہتا۔“ حضور اکرم ؐ نے لکڑی کے اس تنے سے پوچھا ”کیا تو پسند کرتا ہے کہ میں تجھے واپس اسی باغ میں اُگا دوں جہاں سے تجھے کاٹا گیا ہے، وہاں تجھے ہرا بھرا کر دیا جائے، یہاں تک کہ قیامت تک مشرق و مغرب سے آنے والے اللہ کے دوست حجاج کرام تیرا پھل کھائیں؟“ جواب میں اس نے عرض کیا ”اے پیکر رحمت میں تو آپ ؐ کی لمحاتی جدائی برداشت نہ کر سکا، قیامت تک کی تنہائی کیسے برداشت کروں گا؟“ آپ ؐ نے پوچھا ”کیا تو یہ چاہتا ہے کہ میں تجھے جنت میں سرسبزوشاداب درخت بنا کر اُگا دوں اور تو جنت کی بہاروں کے مزے لوٹے؟“ تو اس ستون حنانہ نے یہ انعام قبول کر لیا۔ چنانچہ اسے منبراقدس کے قریب زمین میں دفن کر دیا گیا۔ تدفین کے بعد حضور ؐ نے فرمایا ”اس نے دارفنا پر داربقاء کو ترجیح دی ہے۔“ (بخاری شریف)
حضرت ابو ہریرہ ؓ نے سرورکائنات ؐ کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ ابوہریرہ ؓ کی ماں کیلئے ہدایت کی دعا فرمائیں، آپؐ نے دعا فرمائی، حضرت ابوہریرہ ؓ گھر تشریف لے گئے تو حضرت ابوہریرہ ؓ کی والدہ اسلام لانے کیلئے غسل کر رہی تھی، غسل کے بعد کلمہ پڑھا اور مسلمان ہو گئیں۔ سرورکائنات ؐ جمعہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، ایک صحابی ؓ نے عرض کیا مال ہلاک ہوگیا ہے، اہل وعیال بھوکے ہیں، بارش کیلئے دُعا فرمائیں۔ اس وقت بادل بالکل نہ تھا، آپ ؐ نے دونوں ہاتھ مبارک بلند کر کے دعا فرمائی۔ ابھی آپ ؐؐ نے دعا سے ہاتھ نیچے نہیں فرمائے تھے پہاڑ کی طرح بادل آگئے اور آپ ؐ ابھی منبر سے نیچے نہ آئے تھے کہ بارش شروع ہو گئی اور آٹھ دن مسلسل برستی رہی۔ حتیٰ کہ دوسرے جمعہ آپ ؐ کی دُعا سے ہی بارش رکی۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں چند کھجوریں رسول کریم ؐ کی خدمت اقدس میں لایا اور برکت کی دعا کیلئے عرض کی، آپ ؐ نے ان کو اپنے ہاتھ میں لیکر دعا فرمائی اور فرمایا کہ ان کو برتن میں ڈال لینا جب ضرورت ہو تو ہاتھ ڈال کر نکالتے رہنا، برتن الٹا کر کے خالی نہ کرنا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ان کھجوروں میں بہت برکت ہوئی یہاں تک کہ حضرت عثمانؓ کی شہادت کے دن یہ برتن گر کر گم ہو گیا مگر کھجوریں ختم نہ ہوئی۔
ایک مرتبہ دوران سفر ایک دیہاتی کو سرور کائنات ؐ نے اسلام کی دعوت دی تو اس نے عرض کیا کہ اس کلمہ کی کون گواہی دیتا ہے؟ آپ ؐ نے فرمایا یہ کیکر کا درخت اس کلمہ کی گواہی دینے کیلئے ہے، پھر آپ ؐ نے اس درخت کو بلایا تو اس کیکر کے درخت نے حاضر ہو کر تین بار کلمہ پڑھا۔ اسی طرح ایک دیہاتی نے سرور کائنات ؐ کی خدمت میں عرض کیا کہ کس دلیل سے آپ ؐ کی نبوت کو سچ جانوں، آپ ؐ نے کھجور کے ایک خوشہ کو نیچے بلایا اور تو وہ نیچے اتر آیا اور آپ ؐ کی نبوت کی گواہی دی تو اس کے بعد آپ ؐ نے فرمایا واپس چلا جا، تو وہ خوشہ کھجور اپنی جگہ واپس چلا گیا۔
خاتم النبین ؐ کے بے شمار معجزات ہیں تمام معجزات کو ان سطور میں بیان کرنا ممکن نہیں، واقعہ معراج ایک بہت بڑا معجزہ ہے جو کہ خود ایک علیحدہ باب ہے۔ بارگاہ الٰہی میں دُعا ہے کہ اللہ ربّ العزت ہمیں اپنے احکامات اور نبی اکرم ؐ کی کامل اتباع اختیار کرنے والا، اور نبی کریم ؐ کا سچا عاشق بنائے۔ آمین

Leave a Reply

Back to top button