HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » دین و مذہب » معراج مصطفےٰ ﷺ، جس نے تسخیرِ کائنات کے مقفّل دروازوں کو کھولنے کی اِبتداءکی

معراج مصطفےٰ ﷺ، جس نے تسخیرِ کائنات کے مقفّل دروازوں کو کھولنے کی اِبتداءکی

پڑھنے کا وقت: 14 منٹ

معراج کمالِ معجزاتِ مصطفی ﷺ
جس نے تسخیرِ کائنات کے مقفّل دروازوں کو کھولنے کی اِبتداءکی

ڈاکٹرمحمد طاہرالقادری
اِس کائناتِ ارض و سماءمیں عجائبات کی ایک دُنیا آباد ہے۔ ہر لمحہ پھیلتی ہوئی یہ کائنات جو اربوں، کھربوں کہکشائوں پر مشتمل ہے، وُسعت پذیری کے عمل سے گزرنے کے ساتھ ساتھ داخلی اور خارجی حوالوں سے بھی تغیر پذیر ہے۔ گویا ہر لمحہ تغیرّات کا لمحہ ہے، ہر ساعت نت نئے اِنکشافات کی ساعت ہے۔ اِس کائناتِ رنگ و بو میں خالقِ کائنات کے فرستادہ رسولانِ مکرّم اور اَنبیائے محتشم کے دستِ حق پرست پر قدرتِ خداوندی سے رُونما ہونے والے ماورائے عقل واقعات کو ”معجزہ“ کہتے ہیں۔ معجزے کی کاملاً مادّی توجیہہ کسی طور بھی ممکن نہیں۔ اس کا تعلق اِیمان، اِیقان اور وِجدان سے ہوتا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی سبک سیر ترقی کے باعث جدید تر سائنسی اِنکشافات قدم قدم پر حیران کن حقائق پر سے پردہ اُٹھا رہے ہیں کہ اِنسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور تصویرِ حیرت بن کر اپنے دامنِ شعور کی تنگی کے اِحساس کا ماتم کرنے لگتی ہے۔

اگرچہ سائنس کائنات کے اَن گنت راز ہائے سربستہ سے بھی پردہ اُٹھاتی دِکھائی دیتی ہے لیکن اِس کے باوجود وہ اِن معجزانہ حقائق کی مادّی توجیہات پیش کرنے سے یکسر عاجز ہے جو خالقِ ارض و سماءنے اپنے اَنبیائے محتشم کے دستِ حق پرست پر صادِر فرمائے۔ عقل اُنہیں تسلیم کرے یا نہ کرے یا خود بھی اِشکالات کا شِکار ہو یا ذہنِ اِنسانی کو بھی غبارِ تشکیک سے آلودہ کرے، حقائق بہرحال حقائق ہیں، اُن کے اِنکار سے اُن کی نفی لازِم نہیں آتی۔ معجزہ کسی مادّی تعبیر و تفہیم یا توجیہہ و توثیق کا محتاج نہیں، مقصود صرف اِس اَمر کی نشاندہی ہے کہ جن حقائق کا اِنکشاف حضور رحمتِ عالمﷺ نے آج سے چودہ سو سال قبل وحی اِلٰہی اور علمِ نبوت کی بنیاد پر کیا تھا، آج سائنس اپنے اِرتقائی سفر کے اَن گنت مراحل طے کرنے کے بعد اُن حقائق کی اپنی سی جزوی تعبیر و توجیہہ کرنے کے قابل ہوئی ہے۔ یقینا اِس بات کا اِمکان موجود ہے کہ سائنس آگے چل کر اپنے موجودہ نظریات سے رُجوع کر لے یا اُن میں ترمیم و اِضافہ کو ضروری گردانے، لیکن ہمارے لئے تاجدارِ کائناتﷺ کی زبانِ اَقدس سے نکلا ہوا ہر حرف، حرفِ آخر ہے اور یہی ہماری اِیمانیات کا بنیادی پتھر ہے۔

قاضی عیاض مالکیؒ :
”یہ بات بخوبی جان لینی چاہئے کہ جو کچھ انبیاءعلیھم السلام اپنے ساتھ لے کر آتے ہیں اُسے ہم نے معجزے کا نام اِس لئے دیا ہے کہ مخلوق اُس کی مِثل لانے سے عاجز ہوتی ہے“۔(الشفائ،۱:۹۴۳)

اِمام خازنؒ :
معجزہ کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
معجزہ اللہ کے نبی اور رسول کی طرف سے (جملہ اِنسانوں کے لئے) ایک چیلنج ہوتا ہے اور باری تعالیٰ کے اِس فرمان کا آئینہ دار ہوتا ہے کہ:
”میرے بندے نے سچ کہا، پس تم اُس کی (کامل) اِطاعت اور پیروی کرو“۔ اِس لئے کہ نبی و رسول کا معجزہ جو کچھ اُس نے فرمایا ہوتا ہے اُس کی حقّانیت اور صداقت پر دلیلِ ناطق ہوتا ہے اُسے (عرفاً و شرعاً) معجزہ کا نام اِس لئے دیا گیا ہے کہ اُس کی مِثل (نظیر) لانے سے مخلوقِ اِنسانی عاجز ہوتی ہے۔(تفسیر الخازن،۲:۴۲۱)

معارج النبوة:
معجزہ اللہ سبحانہ¾ و تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کا اُس کے برگزیدہ نبی کے دستِ مبارک پر اِظہار ہے تاکہ وہ اپنی اُمت اور اہلِ زمانہ کو اُس کی مِثل لانے سے عاجز کر دے۔(معارج النبوة،۴:۷۷۳)

ابو شکور سالمیؒ:
معجزہ کی تعریف یہ ہے کہ سوال اور دعویٰ کے بعد (اللہ کے رسول اور نبی کے ہاتھ پر) کوئی ایسی خارقِ عادت چیز ظاہر ہو جو ہر حیثیت سے مُحال نہ ہو اور لوگ باوجود کوشش اور تدبیر کے اُس قسم کے معاملات میں پوری فہم و بصیرت رکھتے ہوئے بھی اُس کے مقابلے سے عاجز ہوں۔

(کتاب التمہید فی بیان التوحید از ابو شکور: ۱۷)
مندرجہ بالا تعریفات سے یہ بات اظہر مِن الشمس ہو جاتی ہے کہ
٭ معجزہ مِن جانبِ اللہ ہوتا ہے لیکن اُس کا صدُور اللہ کے برگزیدہ نبی اور رسول کے ذرِیعہ ہوتا ہے۔
٭ معجزہ مروّجہ قوانینِ فطرت اور عالمِ اَسباب کے برعکس ہوتا ہے۔
٭ معجزہ نبی اور رسول کا ذاتی نہیں بلکہ عطائی فعل ہے اور یہ عطا اللہ ربّ العزّت کی طرف سے ہوتی ہے۔
٭ معجزے کا ظہور چونکہ رحمانی اور اُلوہی قوّت سے ہوتا ہے اِس لئے عقلِ اِنسانی اُس کے سامنے ماند پڑ جاتی ہے اور تصویرِ حیرت بن کر سرِتسلیم خم کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ وہ اس کی حقیقت کا اِدراک نہیں کر سکتی۔

عہدِجدید کا مسلمان غبارِ تشکیک میں گم ہے اور اُسے معجزاتِ نبوی اور کمالاتِ مصطفویﷺ سے بخوبی آگاہ کرنے کے لئے اُس کے ساتھ جدید سائنسی تناظر میں بات کرنا ضروری ہے۔ اگر مسلمان دانشور اِس سلسلے میں محنت کریں تو نہ صرف یہ کہ نوجوان نسل کا اِیمان غارت ہونے سے بچایا جا سکتا ہے بلکہ غیرمسلموں کو بھی عظمتِ مصطفیﷺ سے رُوشناس کراتے ہوئے دَعوت و تبلیغِ دین کا فریضہ بطریقِ اَحسن ادا کیا جا سکتا ہے۔ ذیل میں ہم سرورِاَنبیائﷺ کے معجزہ معراج کا جدید سائنسی حوالوں سے بالاختصار ذِکر کریں گے تاکہ عقل کے غلام اور مادّی سوچ رکھنے والے محققین بھی ربوبیت باری تعالیٰ کو دِل و جان سے تسلیم کر کے بارگاہِ خداوندی میں سربسجود ہونے کا اِعزاز حاصل کریں گے۔

عالمِ بشریت کی زد میں
معراج کمالِ معجزاتِ مصطفی ﷺ ہے۔ یہ وہ عظیم خارقِ عادت واقعہ ہے جس نے تسخیرِ کائنات کے مقفّل دروازوں کو کھولنے کی اِبتداءکی۔ اِنسان نے آگے چل کر تحقیق و جستجو کے بند کواڑوں پر دستک دی اور خلاءمیں پیچیدہ راستوں کی تلاش کا فریضہ سراِنجام دیا۔ رات کے مختصر سے وقفے میں جب اللہ ربّ العزّت حضور رحمتِ عالمﷺ کو مسجدِ حرام سے نہ صرف مسجدِ اَقصیٰ تک بلکہ جملہ سماوِی کائنات (Cosmos) کی بے اَنت وُسعتوں کے اُس پار ”قَابَ قَو´سَیینِ“ اور ”او´ اد´نٰی“ کے مقاماتِ بلند تک لے گیا اور آپ مدّتوں وہاں قیام کے بعد اُسی قلیل مدّتی زمینی ساعت میں اِس زمین پر دوبارہ جلوہ اَفروز بھی ہو گئے۔

جواب دیجئے