مختصر تحریریں

معمولی بات…… غیر معمولی نتائج!

”معمولی باتیں بڑے غیر معمولی نتائج برآمد کرتی ہیں۔ کبھی کبھی ایک چھوٹی سی بات اتنی بڑی بات ہوتی ہے کہ اسے دانائی اور رعنائیئ خیال کی انتہا سمجھ لیا جاتا ہے۔ اگر چھوٹی بات کو چھوٹا نہ سمجھا جائے، تو کوئی بڑی بات بڑی نہ رہ جائے۔
چھوٹے کاموں کو بڑی احتیاط سے کرنے والا انسان کسی بڑے کام سے کبھی مرعوب نہیں ہوتا۔ چھوٹے انسانوں سے محبت کرنے والا، ان کا ادب کرنے والا، ان سے برابر کا سلوک کرنے والا، کسی بڑے سے بڑے شہنشاہ سے نہیں ڈرتا۔”معمولی انسان“ سے محبت کسی غیر معمولی انسان کا ڈر نکال دیتی ہے۔ ایک سجدہ حاصل ہو جائے تو ہزار سجدوں سے نجات حاصل ہو جاتی ہے۔
دنیا کے عظیم اور غیر معمولی واقعات کی بنیاد میں اکثر اوقات معمولی اتفاقات نظر آئیں گے۔ ایک انسان نے دوسرے کو دیکھا، معمولی سی بات تھی۔ ایسے اکثر ہوتا رہتا تھا، مگر اس دفعہ ایک انسان کو دوسرے کے چہرے میں کچھ اور ہی نظر آیا۔ معمولی سی بات ہے نظر کا ملنا، اور پھر دل کا دھڑکنا، اور پھر کائنات کا رنگ ونور میں ڈھل جانا۔ غرضیکہ بے شمار غیر معمولی واقعات پیدا ہو جاتے ہیں۔ فوجیں لڑ جاتی ہیں، تخت چھن جاتے ہیں، ملک برباد یاآباد ہو جاتے ہیں۔ آنکھیں کتنی ہی آنکھوں کو خون کے آنسو دے جاتی ہیں۔ کلوپیٹرا کی ناک قدیم مصری اور یونانی تہذیب میں بڑے غیر معمولی نتیجے برآمد کرتی رہی ہے۔
معمولی پرندے ہُدہُد کی اطلاع سے ایک غیر معمولی پیغمبر حضرت سلیمان ئ کے دربار میں کتنے ہی غیر معمولی واقعات پیدا ہو جاتے ہیں۔ ارداہ ہی عمل بن جاتا ہے۔ خواہش اور حاصل میں فاصلے مٹ جاتے ہیں۔ علم والے ایسے علم کا اظہار کرتے ہیں کہ دُور کا نظارہ اُڑتا ہوا پاس آ جاتا ہے۔ ہُد ہُد نے ہلچل مچا دی۔ معمولی نے غیر معمولی کی راہ دکھا دی“۔
حضرت واصف علی واصف ؒ کی کتاب ”قطرہ قطرہ قلزم“ سے اقتباس

Leave a Reply

Back to top button