سیاحت

مقبرہ نورجہاں: مدد کیلئے پکارتا تہذیبی ورثہ…… محمد عارف حنیف

شاید مغل ملکہ نور جہاں کو اپنے مقبرے سے ہونے والے سلوک کا علم پہلے سے ہی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک زمانے تک نورجہاں کی خود تحریر کردہ لوح بھی یہاں نصب تھی جو ہمیں پران نوئل کی یادداشتوں میں یوں ملتی ہے۔
در مزار ما غریبا نے چراغ نے گلے
نے پر پروانہ سوزد نے صدائے بلبلے
مقبرے کی عمارت میں موجودہ تہہ خانوں کے باعث زمینی منزل کے چاروں جانب روشن دانوں کے لئے سفید جالیاں نصب کی گئی تھیں جو کہ اب چونے کی ہیں۔ مقبرے کی مشرقی جانب چبوترے کے ساتھ نیچے تہہ خانے کو جانے کا راستہ ہے جس پر ایک لوہے کا دروازہ ہے اور عوام الناس کے لئے بند ہے، اس دروازے سے نیچے اترنے کے لئے کچھ سیڑھیاں ہیں، دائیں جانب ایک سرنگ کا راستہ ہے جو بند کر دیا گیا ہے۔ اس سے آگے ایک محرابی گزرگاہ ہے جس سے انسان کو سر جھکا کر گزرنا پڑتا ہے۔

یہاں پر کسی بھی قسم کی برقی آلات کی سہولت موجود نہیں۔ خصوصی اجازت سے اندر جانے والے لوگ اپنے ساتھ موم بتیاں یا الیکٹرک ٹارچ لے کر جاتے ہیں۔ اندر لوہے کی زنجیر کے اندر دونوں قبور کے نشان ہیں، نہ کوئی آرائش، نہ کوئی زیبائش…… بس ایک خاموشی اور چاروں طرف تاریکی ہے۔ اندر جانے والے لوگ جب تاریخ ایشیا کی طاقتور ملکہ کے مقبرے کی حالت دیکھتے ہیں تو وہ کئی لمحوں تک رنج و الم کی کیفیت میں مبتلا رہتے ہیں۔

مقبرے کی بیرونی دیواروں میں کہیں کہیں کاشی کاری کے نمونہ جات دیکھنے کو ملتے ہیں، مقبرے کے مشرقی احاطے میں اردگرد کے گھروں کے لوگ کوڑا کرکٹ پھینکتے تھے، سرشام مقبرے میں نشہ باز لوگ اکٹھے ہو جاتے تھے اور شمال کی جانب ٹوٹے جنگلوں کے ساتھ پھلوں کے ٹھیلے دکھائی دیتے تھے۔ اب محکمہ آثار قدیمہ کی کوششوں سے خطیر فنڈز کے اجراء کے بعد مقبرے کو اصل حالت میں لانے کے لئے تزئین و آرائش کا کام تیزی سے جاری ہے۔ عمارت کی مغربی جانب محکمہ آثار قدیمہ کا ایک دفتر بھی موجود ہے جہاں سیر کرنے کے لئے آنے والے لوگوں کو ٹکٹ جاری کیا جاتا ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ کے افسروں کے سخت اقدامات کے بعد شام ہوتے ہی مقبرے کو ہر خاص عام کے لئے بند کر دیا جاتا ہے تاکہ عمارت کو نشئیوں اور جرائم پیشہ افراد سے محفوظ بنایا جا سکے۔

کئی صدیاں قبل اس عظیم خاتون نے خواتین کے حقوق کے لئے بہت سے عملی کام کئے تھے، یہ مقبرہ آج بھی سرکار کی مزید توجہ کا منتظر ہے، اس کا مضبوط ڈھانچہ، محرابی دروازے، روشیں اور باغ کے لئے ایک وسیع رقبہ اس بات کا متقاضی ہے کہ ماضی کی اس عظیم یادگار کو سنبھالا جائے۔ اگر اس کی حفاظت نہ کی گئی تو آنے والی نسلیں ہمیں سکھا شاہی اور انگریز سرکار کے عہدے سے بھی زیادہ بدتر سمجھیں گی۔

Leave a Reply

Back to top button