خبریں

ملازمین کو ہفتے میں تین چھٹیاں دیں، کمپنی کا نفع بڑھائیں!

ویب‌ ڈیسک: کاروباری امور کے ماہرین نے کہا ہے کہ اگر ملازمین کو ہفتے میں تین چھٹیاں دی جائیں تو ان کے کام کے معیار اور کمپنی کے نفع میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر ملازمین کو ہفتے میں تین چھٹیاں دی جائیں یا ان کی دفتری اوقات کار گھٹا دئے جائیں تو ان کے کام کے معیار اور کمپنی کے نفع کی شرح میں پہلے سے کہیں زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا یہ دعویٰ اس وقت سچ ثابت ہوا جب مائیکرو سافٹ جاپان نے پہلی بار اپنے 2300 ملازمین کو ہفتے میں تین چھٹیاں دینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے ملازمین کو بنا تنخواہ کی کٹوتی کے ہفتے اور اتوار کے ساتھ ساتھ جمعہ کی بھی چھٹی دے دی اور پھر ان کے کام کے معیار کا معائنہ کیا۔
کمپنی کے حکام نے بتایا ہے کہ ملازمین کو ہفتے میں تین چھٹیاں دینے سے ان کی کارکرگی میں اس قدر اضافہ ہوا ہے کہ کمپنی کی پیداواری صلاحیت 40 فیصد سے زائد بڑھ گئی ہے۔ یہی نہیں بلکہ جب سے کمپنی نے ملازمین کو تین چھٹیاں دینی شروع کی ہیں، ملازمین کی چھٹیاں کرنے کی ماہانہ شرح میں بھی 25.4 فیصد کمی واقع ہو گئی ہے۔ اس اقدام سے ملازمین نے 59 فیصد کم صفحات کے پرنٹ لئے جبکہ کمپنی میں بجلی کی کھپت میں بھی 23.1 فیصد کمی آئی جس سے کمپنی کو کافی رقم کی بچت ہوئی۔
کمپنی کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ہفتے میں چار دن کام ہونے کی وجہ سے زیادہ تر میٹنگز کا دورانیہ مختصر کر دیا گیا یا پھر انہیں روبرو میٹنگ کی بجائے ورچوئل میٹنگ میں بدل دیا گیا۔ اس تبدیلی سے کمپنی کی کارکردگی میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا۔ ٹرائیل کے اختتام پر جب ملازمین سے ان کی صحت اور تین چھٹیوں کے حوالے سے سوالات کیے گئے تو 92 فیصد ملازمین کا کہنا تھا کہ وہ اپنی صحت کے حوالے سے اس عرصے میں بہت بہتر محسوس کرتے ہیں اور تین چھٹیاں ہونے پر وہ بہت خوش ہیں۔
یاد رہے کہ یہ تجربہ پہلی بار نہیں کیا گیا، 2018 میں نیوزی لینڈ میں بھی ایک کمپنی نے اپنے 240 ملازمین پر ہفتے میں 4 روز کام کرنے کا تجربہ کیا۔ اس کا نتیجہ بھی مثبت رہا اور ملازمین کا اسٹریس لیول 7 فیصد تک گھٹ گیا جس سے ان کی پیداوار میں بہتری آئی۔
اسی طرح ہارورڈ بزنس ریویو نے ایک تجربہ کے بعد اپنی رپورٹ میں کہا کہ افر دفتروں میں کام کرنے کا دورانیہ 8 گھنٹے سے گھٹا کر 6 گھنٹے کر دیا جائے تب بھی ملازمین کی کارکردگی میں خاطرخواہ اضافہ ہو جاتا ہے۔

Leave a Reply

Back to top button