تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

ملٹھی آئل کے کرشماتی فوائد، بھگائے کھانسی اور کرے گلہ صاف

ملٹھی میں زرد قلمی سفوف، وٹامنز، نشاستہ، فاسفورک، سلفیورک اور میلک ایسڈ، ترشے،کیلشیم اور میگنیشیم کے نمک اور گلاسیرایزین شامل ہیں۔

ملٹھی کا پودا مٹر کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ انگریزی میں اسےLiquorice Sweet Wood اور اُردو میں ملٹھی کہتے ہیں۔ ملٹھی عرب، چین، ترکستان اور افغانستان میں عام پائی جاتی ہے۔ پاکستان میں صوبہ بلوچستان اور چترال کے علاقے میں قدرتی طورپر بہترین ملٹھی پائی جاتی ہے۔ عراق، سپین، یونان،چین اور اٹلی میں اس کی کاشت بڑے پیمانے پر تجارت کیلئے کی جاتی ہے۔ سپین میں ملٹھی کو پہلی بار تیرہویں صدی عیسوی میں کاشت کیا گیا تھا جبکہ برطانیہ میں اس کی کاشت سولہویں صدی میں شروع ہوئی تھی۔ قدیم زمانے ہی سے ملٹھی کی جڑ کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ روم کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ چوتھی صدی میں ملٹھی کو بطور دوا استعمال کیا جاتا تھا۔ اس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اس کی جڑ پیاس کو ختم کرنے میں جادوئی تاثیر رکھتی ہے۔ اس کی جڑ چوسنے کے بعد انسان بغیر پانی کے بارہ دن تک زندہ رہ سکتا ہے۔

کیمیائی اجزاء
ملٹھی میں زرد قلمی سفوف، وٹامنز، نشاستہ، فاسفورک، سلفیورک اور میلک ایسڈ، ترشے،کیلشیم اور میگنیشیم کے نمک اور گلاسیرایزین شامل ہیں۔

ملٹھی آئل کے فوائد
جیسا کہ آغازمیں بیان کیا جا چکا ہے کہ ملٹھی زمانہ قدیم سے بے شمار فوائد کی حامل رہی ہے، اسی طرح اس کے روغن میں بھی کئی ایسے اجزاء پائے جاتے ہیں جو مختلف امراض سے نجات دلا کر انسان کو تندرست رکھنے کا سبب بنتے ہیں۔ آئیے! ان فوائد میں سے یہاں چند ایک کا ذکر کرتے ہیں۔

معدے کے امراض میں افاقہ دے
آج بھی یورپ میں السر کے علاج کے لیے ملٹھی اور اس کا تیل استعمال کیا جاتا ہے۔ جدید تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ معدے کے زخمی خلیوں کو ٹھیک کرنے میں ملٹھی مدد دیتی ہے۔

دافع کینسر ہے
امریکی ڈاکٹر جیمس ڈیوک کے مطابق ملٹھی میں معدے اور آنتوں کے زخم ٹھیک کرنے کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ سرطان دور کرنے کی بھی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ امریکہ کے سرطان پر تحقیقی ادارے نے بھی ملٹھی کو اپنی تحقیق میں شامل کر رکھا ہے۔ اب تک کی تحقیق کے مطابق اس کا اہم جز ٹرائی رٹر پناڈز (Reritependids) سرطان کا مفید علاج ثابت ہو سکتا ہے۔ کیونکہ یہ جسم میں پروسٹاگلینڈین کی تیاری کا سلسلہ روک دیتا ہے۔ پروسٹاگلینڈین ہارمون جیسے Fatty Acid ہوتا ہے جو سرطانی خلیات بننے کا عمل تیز کر دیتا ہے۔ ملٹھی کا یہ جز جسم پر سرطان کا سبب بننے والے اجزا کا حملہ روک سکتا ہے۔

1 2اگلا صفحہ

Leave a Reply

Back to top button