تازہ ترینخبریںپاکستان سےکاروبار

ملک میں ڈیجیٹل بینکنگ کے نئے دور کا آغاز

اس فریم ورک کا اصل مقصد کم قیمت ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کی فراہمی سے مالیاتی شراکت میں اضافہ کرنا ہے اور یہ پاکستان میں ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کو فروغ دینے کے لیے اسٹیٹ بینک کی کوششوں کا حصہ ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مکمل طور پر ڈیجیٹل بینکوں کے لائسنس کے اجرا کا فریم ورک متعارف کروا دیا گیا، یہ ڈیجیٹل بینک صارفین کو ایک عام بینک کی طرح ہر قسم کی بینکنگ سہولت فراہم کریں گے اور صارفین کو بینک کی کسی شاخ میں جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

ڈان اخبار کی خبر کے مطابق اسٹیٹ بینک نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ’بین الاقوامی تجربے سے سیکھتے ہوئے ڈیجیٹل بینکوں کے لیے لائسنسنگ اور ریگولیٹری فریم ورک متعارف کروا کے اسٹیٹ بینک پاکستان میں بینکنگ کے نئے دور کے آغاز کے لیے راہ ہموار کررہا ہے‘۔

اس فریم ورک کا اصل مقصد کم قیمت ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کی فراہمی سے مالیاتی شراکت میں اضافہ کرنا ہے اور یہ پاکستان میں ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کو فروغ دینے کے لیے اسٹیٹ بینک کی کوششوں کا حصہ ہے۔

اس فریم ورک میں مختلف مراحل کے دوران لائسنسنگ کی ضروریات، ممکنہ اسپانسر اور قابل اجازت استعمال کے معاملات کے بارے میں رہنمائی شامل ہے، اس فریم ورک میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لائنسنس کے لیے درخواست دینے والوں سے بہتر ٹیکنالوجی، ڈیٹا منیجمنٹ کی حکمت عملی اور طریقہ کار اور ڈیجیٹل گورننس کے حوالے سے کیا امیدیں رکھی گئی ہیں۔

اس فریم ورک کے مطابق ڈیجیٹل بینکوں کو پاکستان میں اپنے دفاتر، انتظامیہ، عملے اور دیگر کاموں کے لیے ایک جگہ حاصل کرنی ہوگی، یہ دفتر اسٹیٹ بینک اور دیگر ریگولیٹرز سے ان کے رابطے کا مقام بھی ہوگی۔

بین الاقوامی معیار کے مطابق اسٹیٹ بینک نے ابتدائی طور پر 5 ڈیجیٹل بینک لائسنس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اسٹیٹ بینک ایسے کرداروں کو راغب کرنا چاہتا ہے جو ایک مضبوط ٹیکنالوجیکل انفراسٹرکچر رکھتے ہوں اور اس حوالے سے مہارت کے بھی حامل ہوں۔

اس فریم ورک کے تحت اسٹیٹ بینک دو طرح کے ڈیجیٹل بینک لائسنس جاری کرے گا، ان میں ڈیجیٹل ریٹیل بینک (ڈی آر بی) اور ڈیجیٹل فُل بینک (ڈی ایف بی) شامل ہیں۔

ڈی آر بی صرف ریٹیل صارفین کو خدمات فراہم کریں گے جبکہ ڈی ایف بی ریٹیل صارفین کے ساتھ ساتھ کاروباری اداروں کو بھی خدمات فراہم کر سکیں گے۔

ڈی آر بی اور ڈی ایف بی لائسنس روایتی اور اسلامی بینکاری دونوں کے لیے حاصل کیے جاسکتے ہیں جبکہ روایتی بینکاری کے لائسنس لینے والے بھی موجودہ طریقہ کار کے مطابق اسلامی ونڈو کے ذریعے اسلامی بینکاری کی سہولت فراہم کرسکیں گے۔

ڈیجیٹل بینک روایتی بینکوں کے برعکس کم سرمائے سے کے متقاضی ہوں گے اور اس سے ٹیکنالوجی کی بنیاد پر کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

ڈی آر بی کے لیے پہلے مرحلے میں ایک ارب 50 کروڑ روپے کا ابتدائی سرمایہ درکار ہوگا جبکہ اگلے 3 برسوں کے دوران اسے 4 ارب تک لے جانا ہوگا، اسٹیٹ بینک کو امید ہے کہ اس سال کچھ بینک آپریشنل ہوجائیں گے اور یہ بینک ملک میں مالیاتی نظام میں توسیع میں اہم کردار ادا کریں گے۔

اس حوالے سے درخواستیں 31 مارچ 2022ء تک وصول کی جائیں گی اور درخواست گزار اپنی درخواستیں ضروری دستاویزات کے ساتھ digitalbanksapplications@sbp.org.pk پر جمع کرواسکیں گے۔

Leave a Reply

Back to top button