سپیشل

ملیر: ماروی کے دیس سے کنکریٹ سٹی تک!…… مقبول خان

ماروی سندھی ادب کا تاریخی کردار ہے جو شاہ عبد الطیف بھٹائی ؒ کے شاہ جو رسالو کا ایک حصہ ہے۔ ماروی کے نام کے ساتھ ملیر کا ذکر بھی لازم و ملزوم ہے جہاں اس رومانی لوک داستان نے جنم لیا تھا۔ ملیر بلاشبہ ایک تاریخی مقام ہے، آج کا ملیر ماروی کے ملیر سے مختلف ہے۔ ماروی کا ملیر سادگی، خلوص، محبت، سچائی کا عکاس تھا۔ اس کی اپنی ایک ثقافت تھی، ایک پہچان تھی، جہاں پھلوں کے باغات اور مختلف اجناس کے کھیت ہوا کرتے تھے۔ جہاں سے پھل اور سبزیاں قدیم کراچی کے شہر کی مارکیٹوں میں اونٹوں پر لائی جاتی تھیں، لیکن قیام پاکستان کے بعد ملیر میں تیزی سے مہاجروں کی بستیاں قائم ہونا شروع ہو گئیں، جس کی وجہ سے ملیر کا کلچر، اس کے خدوخال میں بھی تبدیلی آنا شروع ہو گئی، اور دیکھتے ہی دیکھتے آج کا ملیر کراچی کے دیگر علاقوں کی طرح کنکریٹ سٹی بن گیا جہاں بلند بالا رہائشی اور تجارتی عمارتیں، تعلیمی ادارے، مارکیٹیں واقع ہیں۔
اب ملیر کو کراچی کے ایک ضلع کی حیثیت حاصل ہے، اس سے قبل انتظامی طور پر اسے ٹاؤن کا درجہ حاصل تھا، اب یہ ملی جلی ثقافت، طرز معاشرت، طرز سیاست کا آئینہ دار ہے۔ اس کے کچھ حصے پر اب بھی باغات اور کھیت واقع ہیں، لیکن یہ برائے نام ہیں، کبھی ملیر کے کھیتوں اور باغات میں سندھی اور اردو فلموں کی شوٹنگز ہوا کرتی تھیں لیکن اب یہ قصہ پارینہ ہو چکا ہے۔ ملیر میں اگر چہ ماضی کی درگاہیں اور مذہبی مقامات آج بھی موجود ہیں لیکن وہاں کا کلچر پہلے جیسا نہیں رہا۔
قیام پاکستان سے قبل ملیر بلوچوں کے گوٹھوں اور کنٹونمنٹ ایریا پر مشتمل تھا جس کی آبادی چند لاکھ نفوس پر مشتمل تھی لیکن اب ضلع ملیر کی آبادی کم و بیش 50 لاکھ ہو چکی ہوگی۔ یہ ضلع 22 یونین کونسلوں پر مشتمل ہے۔ ضلع ملیر اب پاکستان کی تمام زبانیں بولنے والے بڑی تعداد میں آباد ہیں، یہاں سندھی، بلوچی اور اُردو بولنے والوں کی بڑی تعداد آباد ہے جبکہ پنجابی، پشتو اور سرائیکی بولنے والوں کی تعداد بھی کئی لاکھ افراد پر مشتمل ہے، اسی طرح ملیر میں مسلمانوں کے مختلف فرقوں اور مذہبی مسالک اور مکاتیب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں، جن میں حنفی بریلوی، حنفی دیوبندی، اہلحدیث، شیعہ اور دیگر مسالک کے لوگ شامل ہیں۔ یہاں ان مسالک کی مساجد، مدرسے اور امام بارگاہیں ہیں۔ یہاں عیسائی اور ہندو بھی آباد اور ان کی عبادت گاہیں موجود ہیں۔ یہاں درجنوں سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے بھی قائم ہیں، جبکہ قدیم اور تاریخی تعلیمی ادارہ جامعہ ملیہ بھی ملیر سٹی میں واقع ہے۔
ضلع ملیر کو عام طور پر چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جس میں دیہی علاقوں پر مشتمل صدیوں پرانا ملیر، جو درجنوں قدیم گوٹھوں پر مشتمل ہے۔ دوسرا ملیر کینٹ جسے برطانوی دور حکومت میں آباد کیا گیا تھا، ملیر شہر قیام پاکستان کے بعد بھارت کے مختلف شہروں سے نقل مکانی کر کے آنے والے مہاجرین کی متعدد بستیوں پر مشتمل ہے۔ اسے ملیر سٹی بھی کہا جاتا ہے، جبکہ ملیر ہالٹ کے علاقے میں نئی اور متوسط طبقے کی آبادیاں ہیں۔ یہاں ہم سب سے پہلے دیہی ملیر کا ذکر کرتے ہیں۔
دیہی ملیر درجنوں قدیم گوٹھوں پر مشتمل ہے، جن کی مجموعی آبادی پانچ یا چھ لاکھ سے کم نہیں، اس دور جدید میں بھی ملیر کے مضافاتی علاقے میں واقع کئی گوٹھ بلدیاتی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔ دیہی آبادی میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لئے ڈسٹرکٹ کونسل قائم ہے جس کے چیئرمین سلمان عبداللہ مراد ہیں۔ ضلع ملیر میں ڈسٹرکٹ کونسل کے علاوہ بلدیہ ملیر بھی بلدیاتی سہولتوں کی فراہمی کی ذمہ دار ہے، جس کے چیئرمین جان محمد بلوچ ہیں۔ ان کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے، ملیر کے دیہی علاقے میں سیاسی طور پر لوگوں کی بڑی تعداد پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ ہے۔ ان علاقوں سے ہمیشہ پیپلز پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی منتخب ہوتے رہتے ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ 1970ء اور1977ء میں ہونے والے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کے عبدالحفیظ پیرزادہ مرحوم منتخب ہوئے تھے، یہاں سے پروفیسر شیر محمد بھی کئی بار منتخب ہو چکے ہیں۔ ان کا تعلق بھی پیپلز پارٹی سے رہا ہے۔ اس علاقے میں مسلم لیگ ن بھی سیاسی طور پر مؤثر جماعت رہی ہے، یہاں سے صوبائی اسمبلی کی ایک نشست پر پنجابی یا پشتو بولنے والے امیدوار بھی عام اور بلدیاتی انتخابات میں کامیاب ہوتے رہے ہیں، ہزارہ سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے امیدوار خواجہ محمد اسی علاقے سے دو یا تین مرتبہ رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوتے رہے ہیں۔
ضلع ملیر میں قیام پاکستان کے بعدآباد ہونے والے علاقوں میں، ملیر 15، سعود آباد، کھوکراپار، کوثر ٹاؤن، درخشاں سوسائٹی، رفاع عام سوسائٹی، الفلاح، شمسی ہاؤسنگ سوسائٹی، جعفر طیار سوسائٹی، محمدی ڈیرہ، محبت نگر، کالابورڈ، غریب آباد اور دیگر علاقے شامل ہیں، یہاں کی بیشتر آبادی اردو بولنے والوں پر مشتمل ہے، جبکہ یہاں پنجابی، پشتو اور سرائیکی بولنے والوں کی بھی بڑی تعداد آباد ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے قیام سے قبل یہ علاقہ سیاسی طور پر مذہبی جماعتوں بالخصوص جمعیت علماء پاکستان کے زیر اثر تھا جبکہ جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام کے ہزاروں حامی بھی یہاں آباد ہیں۔ 1970ء کے عام انتخانات میں یہاں سے جمعیت علماء پاکستان کے علامہ عبدالمصطفےٰ ازہری رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے لیکن ایم کیو ایم کے قیام کے بعد یہ سارا علاقہ ایم کیو ایم کے سحر میں گرفتار ہوگیا اور1987ء کے بلدیاتی انتخابات کے بعد جتنے بھی بلدیاتی اور عام انتخابات اب تک ہوئے ہیں، ایم کیو ایم ارکان قومی و صوبائی اسمبلی ہی یہاں سے منتخب ہوئے ہیں۔ جس کے اثرات آج بھی موجود ہیں۔
ملیر کینٹ
ملیر چھاؤنی بھی ضلع ملیر میں شامل ہے، یہ آرمی بیس ہونے کے ساتھ فوجی افسروں اور جوانوں کی رہائش گا ہ بھی ہے۔ یہاں فوج کے بعض دفاتر بھی قائم ہیں۔ ملیر چھاؤنی کا قیام بھی برطانوی دور حکومت میں ایک سو سے زائد سال قبل عمل میں آیا تھا۔ 1941ء میں یہاں جنگ عظیم دوم کے قیدیوں کو لایا گیا تھا۔ اور یہاں جنگی قیدیوں کے لئے کیمپ قائم کئے گئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد 1947ء میں اسے پاک فوج نے اپنے تصرف میں لے لیا اور اسے ملیر کنٹونمنٹ کا نام دیا۔ یہاں کنٹونمنٹ بازار قائم کیا گیا، اس کے ساتھ ڈیفنس آفیسرز ہاؤسنگ اسکیم ون اور ٹو قائم کی گئی، اس کے ساتھ پی اے ایف فیکون، عسکری فاؤ کے نام سے رہائشی اور تجارتی کمپلیس قائم کئے گئے۔اب یہ ضلع ملیر کا ایک بہترین رہائشی اور کمرشل ایریا کہلاتا ہے۔
ملیر کا انتظامی کنٹرول کنٹونمنٹ بورڈ ایکٹ مجریہ 1924ء کے تحت کنٹونمنٹ بورڈ ملیر کے پاس ہے، جو وزارت دفاع کے ماتحت ہے۔ اس کے صدر بریگیڈیئر نصرت ہیں، جبکہ میجر حامد خان کو ملٹری ممبر کے طور پر اس میں شامل کیا گیا ہے۔ جبکہ سویلین ممبر کے طور پر ڈاکٹر فاروق جدون نامزد ہیں۔ ملیر کینٹ کا مجموعی رقبہ 42کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ 2017ء کی مردم شماری کے مطابق ملیر کینٹ کی مجموعی آبادی ایک لاکھ 39 ہزار سے زائد ہے، یہاں کی بیشتر آبادی پاک فوج کے حاضر اور ریٹائرڈ افسران اور ملازمین پر مشتمل ہے، جبکہ یہاں سویلین اور سوک سروس کے سرکاری ملازمین بھی رہائش پذیر ہیں۔ اس علاقے میں نصف درجن سے زائد تعلیمی ادارے بھی قائم ہیں، جو معیاری تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، ان تعلیمی اداروں میں ملیر کینٹ کے رہائشیوں کے ساتھ قرب و جوار کے طلباء و طالبات بھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یہاں معیاری فوڈ سینٹرز اور شاپنگ سینٹرز بھی ہیں جو وہاں کے مکینوں کی ضروریات کی تکمیل میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
مذہبی مقامات
ملیر کے بیشتر لوگ مذہبی رجحانات کے حامل ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہاں مختلف مکاتیب فکر کے مسلمانوں کی عبادت گاہیں موجود ہیں۔ اس ضلع میں سیکڑوں مساجد کے ساتھ امام بارگاہیں بھی ہیں، یہاں روائتی تعلیمی اداروں کی طرح مختلف مذہبی مسالک کے مدرسے بھی بڑی تعداد میں قائم ہیں، جبکہ یہاں بزرگان دین کے آستانے اور درگاہیں بھی ہیں۔ ان درگاہوں میں بابا ولایت علی شاہ (ملیر سٹی)، بابا محبت شاہ وارثی (ملیر 15)، باون شاہ (عثمان گوٹھ ملیر) اور سید مقبول شاہ (ملیر ہالٹ) قابل ذکر ہیں۔ ان مزاروں پر ہر جمعرات ان بزرگوں کے ایام عرس پر ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مند حاضری دیتے ہیں۔ ضلع ملیر میں مختلف مذہبی مسالک کے مدارس بھی واقع ہیں، جہاں مقامی طلباء کے ساتھ بیرون شہر سے آئے ہوئے طلبا کی بڑی تعداد قیام و طعام کی سہولتوں کے ساتھ دینی علوم بھی حاصل کر رہی ہے۔ ان مدارس میں دارالعلوم جمعیت اسلام، دارالعلوم نعیمیہ ٹرسٹ میمن گوٹھ، مدرسہ فیضان رضا میمن گوٹھ، دارالعلوم حمادیہ رفاع عام سوسائٹی، مدرسہ نور نعیمی (خواتین)، میمن گوٹھ، مدرسہ انوارالمجددیہ نعیمی، ملیر سٹی غریب آباد، محمدی مدرسہ، پیر سرہندی گوٹھ، مدرسہ سیدنا ابی بن قاسم کیف شاہ، ملیر ہالٹ اور مدرسہ امامیہ نجف میمن گوٹھ وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ ملیر ضلع میں متعدد امام بارگاہیں بھی ہیں، جہاں مجالس عزا اور دوسرے مذہبی اعمال بھی بجا لائے جاتے ہیں، ان میں امام بارگاہ چہاردہ معصومین، امام بارگاہ زین العابدین، مسجد و امام بارگاہ جعفریہ، مسجد و امام بارگاہ امامیہ، مرکزی مسجد و امام بارگاہ مہدی آخر الزمان، امام بارگاہ ملیر کینٹ، امام بارگاہ ماڈل ٹاؤن، اور امام بارگاہ دربار حسینی کے علاوہ مختلف علاقوں میں چھوٹی بڑی امام بارگاہیں بھی ہیں۔
ملیر مندر
ملیر سٹی کے آسو گوٹھ میں واقع ملیر مندر کراچی کی ایک قدیم اور تاریخی و مذہبی مقام ہے اور پورے ضلع میں ملیر مندر کے نام سے مشہور ہے۔ اسے محکمہ ثقافت نے تاریخی ورثہ قرار دے رکھا ہے۔ اسے 105سال قبل 1914ء میں تعمیر کیا گیا تھا، اب یہاں پر مذہبی رسومات ادا نہیں کی جاتی ہیں، اس کے احاطے میں ایک سینی ٹوریم بھی قائم کیا گیا تھا۔ یہ مندر محکمہ ثقافت سندھ کے کنٹرول میں ہے، لیکن اس کی دیکھ بھال نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے یہ تاریخی مندر ایک کھنڈر کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اسی مندر کے احاطے میں واقع سینی ٹوریم پر گزشتہ دنوں لینڈ مافیا کے کارندوں نے قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی، وہ یہاں پر گودام بنانا چاہتے تھے۔ جسے مقامی لوگوں نے علاقے کے منتخب نمائندوں کے تعاون سے ناکام بنا دیا، یہ مندر اس وقت سندھ حکومت کی ملکیت میں ہے، اس لئے صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی دیکھ بھال اور اس کے تحفظ کی ذمہ داری پوری کرے۔ ملیر مندر کے قرب و جوار میں رہنے والے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ہم اس تاریخی عمارت کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور اگر یہاں کوئی بھی غیر قانونی اقدام کی کوشش کرتا ہے تو ہم فوری طور پر متعلقہ حکام اور منتخب نمائندوں کو آگاہ کر دیتے ہیں۔
اگرچہ آج کا ملیر ماضی کے ماروی کے ملیر سے کافی مختلف ہے لیکن جب بھی ملیر کا ذکر آتا ہے، تاریخی رومانی کردار عمر ماروی کا تذکرہ ضرور کیا جاتاہے، جس طرح ماضی کا ملیر تاریخی صفحات میں مشہور ہے، اسی طرح آج کا ملیر سیاسی، سماجی اور مذہبی حوالے سے خاص شہرت رکھتا ہے۔

Leave a Reply

Back to top button