تجزیہ

موسم کی طرح بلوچستان کی سیاسی فضا بھی سرد…… محمد کاظم

بلوچستان حکومت سے ناراضگی کے تناظر میں تحریک انصاف کے اراکین نے وزیر اعظم عمران خان سے گزشتہ ہفتے جو ملاقات کی اس کا کوئی نتیجہ تاحال سامنے نہیں آیا اور نہ ہی اس کے بعد پارٹی کی جانب سے تنقید سے لیس کوئی تند و تیز بیانات سامنے آئے ہیں۔ بلوچستان حکومت میں تحریک انصاف دوسری بڑی جماعت ہے۔ تحریک انصاف کو بلوچستان کابینہ میں جو اہم وزارت دی گئی تھی وہ صحت کی تھی جو کہ تحریک انصاف کے وزیر نصیب اللہ مری سے واپس لے لی گئی۔ یہ کہا جا رہا تھا کہ صحت کا محکمہ ان سے واپس لینے کے بعد ان کو کوئی اور محکمہ دیا جائے گا لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہوا بلکہ چند روز بعد ان کو کابینہ سے بھی فارغ کر دیا گیا۔ اس پر تحریک انصاف کی جانب سے ناراضگی کا اظہار کیا گیا تھا اور اسی تناظر میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات بھی کی گئی تھی۔ یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ اس ملاقات کے بعد تحریک انصاف کے اراکین جارحانہ رویہ اختیار کریں گے لیکن تاحال ایسا نہیں ہو سکا۔
بعض سیاسی مبصرین کی یہ رائے ہے کہ تحریک انصاف کو وفاق میں بلوچستان حکومت میں شامل سب سے بڑی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کی حمایت کی اشد ضرورت ہے جس کے باعث بلوچستان میں پارٹی کی ناراضگی کے باوجود تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کی جانب سے اعلانیہ طور پر کسی منفی رد عمل کا اظہار نہیں کیا گیا۔ اسی طرح بلوچستان عوامی پارٹی کی جانب سے بھی کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا گیا کیونکہ جس طرح وفاق میں تحریک انصاف کو بلوچستان عوامی پارٹی کی ضرورت ہے اسی طرح بلوچستان میں تحریک انصاف کی حمایت کے بغیر بلوچستان عوامی پارٹی کی حکومت بھی مشکلات سے دوچار ہوسکتی ہے۔
کوئٹہ میں سردی میں اضافے کے ساتھ ساتھ سیاسی ماحول پر جمود کا اثر بھی گہرا ہوتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے سیاسی سرگرمیاں بہت زیادہ نظر نہیں آرہی ہیں تاہم گزشتہ ہفتے بلوچستان اسمبلی میں متعدد ایشوز زیر بحث آئے جن میں سے ایک طلباء یونینز کی بحالی سے متعلق قرارداد کا تھا۔ یہ قرارداد بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے رکن اسمبلی ثناء بلوچ کی جانب سے لائی گئی تھی جس میں یہ کہا گیا تھا کہ طلباء اور طالبات کسی بھی ترقی پذیر اور ترقی یافتہ معاشرے کی سیاسی، سماجی، تعلیمی اور معاشی ترقی اور مستقبل کی ذمہ داریوں کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتے ہیں اور وہ یہ کردار طلباء یونینز کے ذریعے نبھا سکتے ہیں، اس لیے طلباء یونینز کی بحالی ضروری ہے۔
قرارداد پر بحث مباحثہ کے دوران ثناء بلوچ اور بعض دیگر اراکین کی یہ رائے تھی کہ ملک میں اس وقت متوسط طبقے سے اسمبلیوں میں جو نمائندگی ہے وہ طلباء سیاست اور یونینز کی وجہ سے ہے۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ اس وقت بلوچستان اسمبلی میں جتنے بھی لوگوں کا تعلق متوسط اور عام طبقات سے ہے اس میں طلباء سیاست کا کردار انتہائی اہم ہے۔ بحث مباحثے کے بعد بلوچستان اسمبلی نے طلباء یونینز کی بحالی کی قرارداد کو منظور کرتے ہوئے وفاقی اور بلوچستان حکومت دونوں سے مطالبہ کیا کہ طلباء یونینز کو بحال کیا جائے اور اس سلسلے میں ضروری قانون سازی کی جائے۔ اس سے قبل سند اسمبلی نے بھی ایسی ہی قرارداد منظور کی تھی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ وفاقی حکومت دو اسمبلیوں سے منظور ہونے والی قراردادوں کو کوئی اہمیت دے گی یا نہیں تاہم دیگر صوبوں کی طرح بلوچستان میں زیادہ تراہم سیاسی جماعتیں یہ چاہتی ہیں کہ طلباء یونینز کو بحال کیا جائے۔ بالخصوص قوم پرست جماعتیں طلباء یونینز اور طلباء سیاست کی بھرپور حامی ہیں کیونکہ ان جماعتوں کی قیادت پر جو لوگ فائز ہیں ان میں سے زیادہ تر طلباء سیاست کی وجہ سے ان عہدوں پر فائز ہوئے ہیں۔
طلباء یونینز کی بحالی کی قرارداد کے علاوہ اسمبلی کے اجلاس میں بلوچستان حکومت کو حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے مختلف حوالوں سے شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ ان میں سے ایک مسئلہ جس پر حکومت کو زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا وہ جیپ ریلیوں پر ہو نے والے بڑے اخراجات ہیں جس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف مالی سال 2017-18ء میں جیپ ریلیوں پر 6 کروڑ روپے سے زائد کے اخراجات کئے گئے جبکہ حزب اختلاف کے رکن ثناء بلوچ کا کہنا تھا کہ گزشتہ 6 سال کے دوران جیپ ریلیوں پر 20 سے 25 کروڑ روپے کے اخراجات ہوئے ہیں۔
یہ جیپ ریلیاں بلوچستان کی موجودہ حکومت کی جانب سے شروع نہیں کی گئی تھیں بلکہ ان کا سلسلہ سات آٹھ سال قبل شروع ہوا تھا جس کا مقصد بلوچستان کا ایک مثبت امیج سامنے لانا تھا جس کی وجہ سے مالی مشکلات کے باوجود بلوچستان حکومت کی جانب سے ان کے انعقاد کے لیے وسائل فراہم کئے جاتے رہے۔ تاہم ماضی کی حکومتوں کے مقابلے میں بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال کو ان میں زیادہ دلچسپی ہے کیونکہ وہ خود بھی ان میں ڈرائیونگ کرتے رہے ہیں۔ یہ جیپ ریلیاں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں منعقد کی گئیں تاہم حزب اختلاف کی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی کے اراکین کی یہ رائے تھی کہ ایسے صوبے میں جہاں لوگوں کو علاج معالجے کی سہولیات میسر نہیں، لاکھوں بچے سکولوں سے باہر ہیں اور جو سرکاری سکول ہیں ان میں بنیادی سہولیات تک نہیں وہاں کسی کھیل پر ایسے شاہانہ اخراجات کا کیا جواز بن سکتا ہے۔

Leave a Reply

Back to top button