تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

مونگ پھلی کا تیل خوبصورتی بڑھانے کا موثر ٹانک

اپنے مزاج کے اعتبار سے یہ پھلی گرم خشک ہے۔ لہٰذا100گرام مونگ پھلی میں غذائی اجزا کا تناسب حسب ذیل ہے: فاسفورس 350 ملی گرام، چکنائی1.40 فیصد، فولاد 8.2 ملی گرام، کیلشیم90 ملی گرام، وٹامن ای4.261 ملی گرام، لحمیات3.25فیصد، ریشے1.3فیصد، رطوبت0.3فیصد، کاربوہائیڈریٹس1.26فیصد اور معدنی اجزا4.2فیصد۔ کچھ مقدار میں وٹامن بی کمپلیکس بھی پایا جاتا ہے۔ 100 گرام مونگ پھلی میں حراروں کی تعداد567ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو تندرست رکھنے کی خاطر بے شمار پھل اور میوہ جات پیدا فرمائے۔ مونگ پھلی بھی ان میں سے ایک ہے۔ مونگ پھلی پاکستان میں کثرت سے کاشت کی جاتی ہے۔ مونگ پھلی کے پودے کی جڑوں میں یہ میوہ جال کی صورت میں پیدا ہوتا ہے۔ مونگ پھلی کی کاشت سالانہ بنیاد پر ہوتی ہے۔ ایک پھلی میں بالعموم ایک سے تین دانے ہوتے ہیں۔ بعض توانا اور بڑے ہوتے، بعض کمزور اور چھوٹے۔ زمین کے اندر یہ دانے دو ماہ میں پک کر تیار ہو جاتے ہیں۔ پکنے کی صورت میں اس کی بیلوں کو اکھاڑ لیا جاتا ہے۔ چار سے چھے ہفتوں کے دوران یہ مکمل طورپر خشک ہو جاتے ہیں۔مونگ پھلی کا آبائی وطن جنوبی امریکا ہے۔لیکن آجکل برصغیر پاک و ہند میں دنیا بھر کی مونگ پھلی کی پیداوار کا40فیصد حصہ پیدا ہوتا ہے۔اس کی پھلیاں زمین کے اندر پیدا ہوتی ہیں۔ پھر بھی اس کا شمار مغز اور بیج کے زمرے میں ہوتا ہے۔

مونگ پھلی کے استعمال کی تاریخ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے ایک ہزار سال پہلے آثار قدیمہ کے ماہرین نے پیرو کے ساحلی علاقوں کی کھدائی کی، تو انھیں وہاں مونگ پھلی کے بھی آثار ملے۔

سردیوں میں بھنی ہوئی مونگ پھلیاں کھانے کا بہت مزہ آتا ہے‘ پاکستان اور دیگر گرم ممالک میں بھی صرف موسم سرما میں مونگ پھلی کثرت سے کھائی جاتی ہے اور دیگر موسموں میں اس کا استعمال بہت ہی کم ہوتا ہے۔ اس کے برعکس مغربی ملکوں میں سال بھر مونگ پھلی کا زور رہتا ہے۔ وہاں کچی مونگ پھلی، بھنی ہوئی،تلی ہوئی، نمکین اور میٹھی مونگ پھلی بہت کھائی جاتی ہے اور بہت سی اشیاء بھی مونگ پھلی سے تیار کی جاتی ہیں اور یہ صبح و شام کھانے کے استعمال میں رہتی ہیں۔ مونگ پھلی چکنائی سے بھرپور ہوتی ہے، اسی وجہ سے اس کا تیل بھی نکالا جاتا ہے۔جسے زیادہ تر کھانوں میں ذائقے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ تیل جلد کی خوب صورتی بڑھانے کے لیے بہترین ٹانک ہے۔ اس کے استعمال سے جلد شگفتہ اور نرم و ملائم ہوجاتی ہے۔ چہرے کے مہاسوں اور پھنسیوں کے خلاف بہترین ہتھیار ہے۔ مونگ پھلی کے تیل میں لیموں کا رس ملاکر لگانے سے چہرہ تروتازہ رہتا ہے۔

مونگ پھلی کے غذائی اجزا:
اپنے مزاج کے اعتبار سے یہ پھلی گرم خشک ہے۔ لہٰذا100گرام مونگ پھلی میں غذائی اجزا کا تناسب حسب ذیل ہے:
فاسفورس 350 ملی گرام، چکنائی1.40 فیصد، فولاد 8.2 ملی گرام، کیلشیم90 ملی گرام، وٹامن ای4.261 ملی گرام، لحمیات3.25فیصد، ریشے1.3فیصد، رطوبت0.3فیصد، کاربوہائیڈریٹس1.26فیصد اور معدنی اجزا4.2فیصد۔ کچھ مقدار میں وٹامن بی کمپلیکس بھی پایا جاتا ہے۔ 100 گرام مونگ پھلی میں حراروں کی تعداد567ہوتی ہے۔

مونگ پھلی کا تیل ایک طاقتور اینٹی اوکسیڈنٹ کا کام کرتا ہے۔ اس میں رائبو فلاوین، نیاسین، تھیامین، پینٹوتھینک ایسڈ، پائری ڈاکسٹ شامل ہوتے ہیں۔ منرلز میں سے کاپر (CU)، آئرن(Fe)، پوٹاشیم (K)، کیلشیم (Ca)، میگنیشیم (Mg)، زنک(Zn) اور سیلینیم شامل ہیں۔ یہ سب منرلز بدرجہ اتم مقدار میں ملتے ہیں۔

ماہرین غذائیت کے مطابق ایک کلو گرام مونگ پھلی میں ایک کلوگرام گوشت کی نسبت زیادہ لحمیاتی اجزا پائے جاتے ہیں۔ جبکہ اتنی ہی مقدار میں انڈوں کے بالمقابل تقریباً اڑھائی گنا زیادہ پروٹین ملتی ہے۔ اسی طرح پنیر اور سویابین کے سوا دیگر کوئی بھی نباتات پروٹین کی مقدار کے سلسلے میں مونگ پھلی کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اس میں پائی جانے والی پروٹین متوازن ہوتی ہے۔

مونگ پھلی محض لذیز غذا ہی نہیں، یہ شفا بخش اثرات بھی رکھتی ہے۔

موٹاپا:
موٹاپا بنفسہ کوئی مرض نہیں، لیکن بہت زیادہ موٹاپے سے جسم کئی بیماریوں کو گھیر لیتی ہیں۔ مونگ پھلی کے استعمال سے موٹاپے میں کمی واقع ہوتی ہے۔ دوپہر کھانے سے کچھ دیر قبل مٹھی بھر مونگ پھلی (بھنی ہوئی) کھائیے ساتھ ہی بغیر چینی کے چائے یا کافی استعمال کیجیے۔ وزن میں رفتہ رفتہ کمی آ جائے گی۔ یہ نسخہ برتنے سے بھوک بھی لگتی ہے۔ نتیجتاً دیگر اغذیہ کے کم استعمال سے وزن بھی کم ہو جاتا ہے۔

1 2 3 4اگلا صفحہ

Leave a Reply

Back to top button