تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

مکئی غذا بھی اور دل کی دوا بھی

غذائیت سے بھرپورمکئی میں نشاستہ، ریشہ، حیاتین، فولیٹ اور معدنیات بہت مقدار میں ہوتے ہیں۔ میٹھی زرد مکئی کے ایک کپ (164 گرام) میں 177 حرارے، 41 گرام نشاستہ، 5.4 گرام لحمیات، 2.1 گرام چکنائی، 4.6گرام ریشہ، روزانہ کی ضرورت کا 17 فیصد وٹامن سی، 24 فیصد تھیامین (وٹامن بی 1)، 19 فیصد فولیٹ (وٹامن بی9)، 11 فیصد میگنیشیم اور 10 فیصد پوٹاشیم ہوتا ہے۔ جبکہ اس کے تیل کی بات کی جائے تو اس میں فیٹی ایسڈز کی وجہ سے لیولولک ایسڈ، ٹائسیلگلیسرول، اینٹی آکسیڈنٹ، فیٹوسٹیرول، ٹوسٹرول جیسے مرکبات پائے جاتے ہیں جو صرف کھانے کے ذائقہ کو برقرار رکھنے میں مدد نہیں دیتے بلکہ صحت کے لئے بھی بہت اہم ہے۔

مکئی ایک اہم اجناس میں شمار ہوتی ہے۔اس کی کاشت پوری دنیا میں کی جاتی ہے۔مکئی کی اہم دو اقسام ہیں:زرد اور سفید۔مکئی کا ذائقہ نہایت عمدہ ہوتا ہے،جب کی زرد مکئی غذائیت کے اعتبار سے اچھی ہوتی ہے۔زرد رنگ کی مکئی میں بیٹا کیروٹین پائی جاتی ہے۔بیٹاکیروٹین نہ صرف جسم میں حیاتین الف (وٹامن اے) تیار کرنے میں مدد دیتی ہے،بلکہ اس کے ہضم وجذب میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔بیٹاکیروٹین آنکھوں کی صحت کے لیے بھی بہت فائدہ مند ہے۔

مکئی میں کاربن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے،اسی لیے یہ تیزی سے اْگتی ہے اور اس کی پیداوار زیادہ ہوتی ہے۔مکئی ہمارے ملک میں بہت شوق سے کھائی جاتی ہے۔اس کے نرم اور میٹھے بْھٹے بھْون کر یا اْبال کر کھائے جاتے ہیں۔لوگ گرم بھْٹے پر نمک یا لیموں چھڑک کر کھاتے ہیں۔اس کے دانے بہت مزے دار ہوتے ہیں۔بچے اس سے تیارکردہ پاپ کارن بہت پسند کرتے ہیں۔بعض لوگ سادہ بھْٹا کھاتے ہیں۔

مکئی سے آٹا بھی بنایا جاتا ہے۔آٹے سے مختلف قسم کی اشیا بنائی جاتی ہیں۔کوہستانی علاقوں میں اس کی روٹی بنا کر ساگ کے ساتھ کھائی جاتی ہے۔مکئی کی روٹی غذائیت سے بھرپور ہوتی ہے۔مکئی سے دلیا بھی بنایا جاتا ہے۔مکئی دنیا بھر میں غلے کی حیثیت سے جانی جاتی ہے۔

مکئی میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
غذائیت سے بھرپورمکئی میں نشاستہ، ریشہ، حیاتین، فولیٹ اور معدنیات بہت مقدار میں ہوتے ہیں۔ میٹھی زرد مکئی کے ایک کپ (164 گرام) میں 177 حرارے، 41 گرام نشاستہ، 5.4 گرام لحمیات، 2.1 گرام چکنائی، 4.6گرام ریشہ، روزانہ کی ضرورت کا 17 فیصد وٹامن سی، 24 فیصد تھیامین (وٹامن بی 1)، 19 فیصد فولیٹ (وٹامن بی9)، 11 فیصد میگنیشیم اور 10 فیصد پوٹاشیم ہوتا ہے۔ جبکہ اس کے تیل کی بات کی جائے تو اس میں فیٹی ایسڈز کی وجہ سے لیولولک ایسڈ، ٹائسیلگلیسرول، اینٹی آکسیڈنٹ، فیٹوسٹیرول، ٹوسٹرول جیسے مرکبات پائے جاتے ہیں جو صرف کھانے کے ذائقہ کو برقرار رکھنے میں مدد نہیں دیتے بلکہ صحت کے لئے بھی بہت اہم ہے۔

مکئی کی تاریخ:
مکئی کااصل وطن جنوبی امریکا ہے۔مکئی نشاستہ دار سبزی اور اناج ہے۔ صدیوں سے اسے دنیا بھر میں کھایا جا رہا ہے۔ یہ گھاس کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔یہ ریشے، حیاتین اور معدنیات کا بھرپور ذریعہ ہے۔ مکئی کی عمر 9000 برس ہے۔ مقامی امریکی اسے اگاتے تھے اور یہ خوراک کا بنیادی ذریعہ تھی۔ عام طور پر مکئی زرد رنگ کی ہوتی ہے لیکن یہ سفید، سرخ، جامنی اور نیلے رنگ میں بھی پائی جاتی ہے۔ اسے مختلف طریقوں سے پکایا جاتا ہے اور مختلف طرح کے کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے جانوروں کی خوراک بھی بنایا جاتا ہے۔ دورِ جدید میں اس سے ایندھن بھی تیار کیا جاتا ہے۔ مکئی کی کل امریکی پیداوار کا 40 فیصد ایندھن بنانے کے کام آتا ہے، جبکہ دنیا میں مجموعی طور پر 60 سے 70 فیصد مکئی جانوروں کی خوراک بنتی ہے۔

مکئی کا صحت بخش تیل
مکئی کا تیل (Corn Oil)مکئی کے بیجوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔اس میں ایسی چکناہٹ ہوتی ہے، جو کولیسٹرول کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔یہ تیل دوسرے تیلوں سے تھوڑا مہنگا ہوتا ہے۔یہ قلب کے لیے مفید ہے۔صارفین کے لیے اسے بوتلوں اور ڈبوں میں محفوظ کر دیا جاتا ہے۔ماہرینِ صحت کے مطابق زیتون کے تیل کے بعد مکئی کا تیل دوسرے تیلوں کے مقابلے میں زیادہ صحت بخش پایا گیا ہے۔مکئی کھانے سے خون میں کولیسٹرول کی سطح کم ہوجاتی ہے۔

نشاستہ سے بھرپور خوراک:
خوراک میں نشاستہ کی زیادہ مقدار قولون کینسر‘ کولیسٹرول اور آئی بی ایس کے خطرات کم کرنے کا موجب بنتی ہے۔ تحقیقی ماہرین کے مطابق جو لوگ مکئی کا استعمال کرتے ہیں ان میں بلڈشوگر‘ انسولین کی مقدار مناسب حد تک کنٹرول کی جاسکتی ہے۔ اس حوالے سے ماہرین نے دو ایسے گروپس میں شامل افراد کا موازنہ کیا جو ٹائپ ٹو ذیابیطس میں مبتلا تھے۔ ایک گروپ نے فائبر (نشاستہ) پر مشتمل غذا کا استعمال کیا جبکہ دوسرے گروپ نے کم نشاستہ والی غذا استعمال کی گئی۔ پہلے گروپ میں صحت کی جانب سے مثبت نتائج ظاہر ہوئے کیونکہ ان افراد نے چوبیس گرام تک فائبر روزانہ استعمال کیا جبکہ دوسرے گروپ میں کولیسٹرول اور بلڈشوگر کی شکایات بدستور جاری رہیں۔مکئی کو پاپ کارن‘ سوپ‘ سلاد اور سالن وغیرہ میں پکایا جاتا ہے اور ایک طرح سے اس کو گرمیوں میں باربی کیو کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مکئی کے بھٹے اور سٹے بچوں میں مقبول عام ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پھلوں اور سبزیوں میں اگر مکئی کو زیادہ ترجیح دی جائے تو زیادہ مفید ہے۔

1 2 3 4اگلا صفحہ

Leave a Reply

Back to top button