تراجم

مکتب برائے حیوانات…… محمد اسلم وڑائچ

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ تمام جانوروں نے اکٹھے ہو کر”نئی دُنیا“ کے مسائل کا سامنا کرنے کے لیے ایک مجلس مشاورت قائم کی۔ کافی سوچ بچار کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ حیوانات کے لیے ایک سکول قائم کیا جائے۔ اس سکول کا نصاب دوڑنے، بلندیوں پر چڑھنے، اُڑنے اور تیرنے جیسی سرگرمیوں پر مشتمل تھا۔ انتظامی سہولت کی خاطر فیصلہ کیا گیا کہ تمام طلبہ کو یہ چاروں مضامین لینا پڑیں گے۔
بطخ تیراکی میں سب سے بہترین تھی بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اپنے انسٹرکٹر سے بھی بہتر تھی لیکن اُڑنے کے پرچے میں وہ بڑی مشکل سے پاس ہوئی جبکہ دوڑ کے مضمون میں اس کے نمبر بہت ہی خراب تھے۔ چونکہ دوڑ میں وہ بہت سست تھی اس لیے اسے مزید ٹیوشن کے لیے سکول کے بعد بھی رُکنا پڑتا تھا اور دوڑ کی پریکٹس کی خاطر وہ تیراکی پر خاطرخواہ توجہ نہ دے سکی۔
یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہا جب تک کہ اس کے پاؤں کی اُنگلیوں کے درمیان کا پردہ بُری طرح پھٹ نہ گیا۔ اب تیراکی میں وہ ایک اوسط درجے کی طالبہ تھی چونک اوسط درجہ اس مدرسے میں قابل قبول تھا، اس لیے بطخ کے علاوہ اور کسی کو اس بارے میں کوئی پریشانی نہیں تھی۔
خرگوش پوری جماعت میں دوڑ میں سب سے آگے تھا لیکن تیراکی کے نام سے ہی اس کی جان جاتی تھی کیونکہ اس مضمون میں اسے اپنی فطرت کے خلاف کام کرنا پڑتا تھا۔
گلہری درختوں وغیرہ پر چڑھنے میں سب سے آگے تھی لیکن پرواز کی کلاس میں اُسے مشکلات کا سامنا تھا کیونکہ اُس کے انسٹرکٹر نے اس پر پابندی لگا دی تھی کہ وہ درخت کے اُوپر سے نیچے نہیں آ سکتی بلکہ اُسے زمین سے اُڑ کر درخت پر پہنچنا ہے۔
عقاب ایسا طالب علم تھا جو سب سے زیادہ مسائل پیدا کر رہا تھا، اسے سختی سے نظم وضبط کی پابندی کا سامنا تھا۔ درخت پر چڑھنے کے مقابلے میں اس نے ساری جماعت کو مات دے دی لیکن اس کا اصرار تھا کہ اس مقابلے میں اسے اپنے فطری طریقے سے کام کرنے دیا جائے، چونکہ اس کی یہ خواہش نصاب کی ہدایات سے ہٹ کر تھی اس لیے اس کی درخواست کو مسترد کر دیاگیا۔
تعلیمی سال کے اختتام پر جب نتائج سامنے آئے تو ایک ابنارمل (eel) بام مچھلی جو تیراکی میں مشاق، دوڑ میں قدرے ٹھیک اور تھوڑا بہت اڑنے کے علاوہ درخت پر بھی چڑھ سکتی تھی، اس کے اوسط نمبر باقی سب سے بہتر تھے، اس لیے اسے گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔
پرپری نسل کے کتوں نے اس سکول میں داخلہ نہیں لیا اور تعلیمی ٹیکسز کے خلاف مقدمہ کر دیا کیونکہ سکول انتظامیہ پنجوں سے زمین کھودنے اور زمین میں گھروندے بنانے کو نصاب میں شامل کرنے پر تیار نہیں تھی۔ انہوں نے ان فنوں میں مہارت حاصل کرنے کے لیے اپنے بچوں کو ایک بجو (Badger) کی شاگردی میں دے دیا۔ امریکی گلہری(ground hog)، چوہے اور سانپ وغیرہ بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ ان سب نے مل کر ایک شاندار پرائیویٹ سکول کا آغاز کر دیا۔ کیا اس حکایت کے اندر ہمارے لیے کوئی اخلاقی سبق بھی ہے؟
نوٹ: جیک کین فیلڈ کی کتاب”Chicken Soup for the Soul“ سے کہانی The Animal School کا ترجمہ از قلم محمد اسلم وڑائچ

Leave a Reply

Back to top button