سیاحت

مکلی کے قدیم کنویں

صفدر ٹھٹوی

صفدر ٹھٹوی
مکلی کے دو دیہات میں عقیدت مند مختلف دنوں میں رونق بھری محفلیں سجاتے ہیں لیکن ہجوم کے باوجود ہر سو خاموشی راج کرتی محسوس ہوتی ہے۔ مکلی کے آثار میں گھومتے لوگوں سے باتیں کر کے پتہ چلتا ہے کہ دنیا بھر کے سیاح یہاں آتے ہیں جو کاریگروں کے ہنر کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔
مکلی کے آثا میں مزاروں، مقبروں، مساجد کے علاوہ غاروں، چلہ گاؤں، کنوؤں اور دیگر مقامات کی داستانوں کی دلچسپ معلومات ملتی ہیں۔ یہاں موجود کنوؤں کا احوال بھی تاریخ کی کتابوں میں درج ہے، مکلی کے معروف و مشہور بزرگ حضرت عبداللہ شاہ کے نام سے بھی کنواں منسوب ہے۔ ”تحفۃ الطاھرین“ میں ان کا احوال درج ہے کہ سید عبداللہ، حضرت غوث الثقلین کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ کامل ولی گزرے ہیں۔ آپ مرزا شاہ بیگ ارغون کے وقت میں گجرات سے ٹھٹہ آئے۔آپ مکلی میں عبادت میں مشغول رہتے تھے۔ جس جگہ آپ عبادت کرتے رتھے اسی جگہ آپ کا وصال ہوا۔ ٹھٹہ کے کامل بزرگ سید علی ثانی نے آپ کا مزار ظاہر کیا۔ آپ کا وصال 988 ھ میں ہوا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ دسویں ہجری کے بزرگ تھے۔ ”تحفۃ الکرام“ میں بھی آپ کے مزار اور مسجد کا احوال درج ہے۔

مکلی کی قدیم جامع مسجد

جامع مسجد غوثیہ مکلی کی قدیم مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ مسجد کے دروازے پر درج عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی تعمیر 1093ھ میں ہوئی۔ درگاہ شریف کا کنواں مغلوں کے دور حکومت میں بنایا گیا۔ کنویں کی تعمیر کو 360 سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے۔ یہ کنواں صدر دروازے کے سامنے والے روڈ پر واقع ہے۔ میر علی شیر قانع نے ”مکلی نامہ“ میں بھی اس کنویں کا ذکر کیا ہے۔ لکھتے ہیں کہ مشہور ہے کہ خسرو خان نے یہ درگاہ بنوائی تھی مگر یہ مستند تحقیق نہیں ہے۔
مکلی کا قدیم کراماتی کنواں حضرت بہاؤالدین گودڑیہ کا کنواں کہلاتا ہے۔ آپ کا اسم گرامی بہاؤالدین ہے لیکن آپ گودڑیہ فقیر کے لقب سے مشہور ہیں۔ علامہ محمد طفیل احمد نقشبندی اپنی کتاب ”تحفۃ الزائرین“ میں لکھتے ہیں کہ جب بھنبھور میں زلزلہ آیا تو کھتری قوم کے لوگ مکلی پر آکر رہنے لگے۔ یہاں پانی نہ تھا تو پانی کے لئے ایک کنواں کھدوایا گیا۔ کنویں سے پانی حاصل نہ ہوا تو کھتری قوم کے لوگ مایوس ہو گئے۔ وہاں سے ایک بزرگ کا گزر ہوا۔ لوگوں کو مایوسی کے عالم میں دیکھ کر ان سے احوال دریافت کیا۔ لوگوں نے پانی کی کمی اور کنویں کے بارے میں بتایا۔ بزرگ نے اللہ پاک کے حضور دُعا مانگی اور اس کنویں سے پانی جاری ہو گیا۔ اس واقع کے بعد سے یہ کنواں اس بزرگ کے نام سے گدرڑیہ کنواں کے نام سے مشہور ہو گیا۔

”تحفۃ الطاھرین“ کے مصنف شیخ محمد اعظم بن محمد شفیع ٹھٹوی لکھتے ہیں کہ یہ بزرگ حضرت مخدوم نوح ہالائی کے بڑے مرید تھے۔ آپ اکثر وقت سید علی ثانی کے صحبت میں گزارتے۔ مقامی لوگوں کے مطابق گودڑیہ کے کنویں کا پانی شفا دیتا ہے۔ خارش کے مریض اللہ پاک کے حضور دعا مانگ کر اس کنویں کے پانی سے غسل کریں تو وہ صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ یہ کنواں اب بھی موجود ہے اور ضرورت مند اس سے پانی حاصل کرتے ہیں۔

مکلی کا ایک قدیم کنواں

مکلی قبرستان کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوں تو چند قدم پر المعروف چوروں کا کنواں موجود ہے۔ اسے مقامی لوگ چوروں کے کنویں کے نام سے پکارتے ہیں۔ مگر اس نام سے تاریخ کی صفحات میں کوئی کنواں موجود نہیں۔ یہ کنواں اپنی بناوٹ کی وجہ سے دیکھنے والوں کو متوجہ کر لیتا ہے۔ کنواں سخت پہاڑی نما چٹان پر انتہائی مشقت سے بنایا گیا ہے۔ کنویں میں اترنے کے لئے پہاڑی کو تراش کر سیڑھیاں بنائی گئی ہیں۔ سیڑھیاں ختم ہوتے ہی چاروں جانب پہاڑ کو کاٹ کر اندر کی جانب کمرہ نما تعمیر ہے۔ یہاں سے مزید نیچے کنواں کھودا گیا ہے۔ اس کنویں کی بناوٹ کے بارے میں لکھنا مشکل ہے کیونکہ اسے دیکھ کر ہی انسان حیران رہ جاتا ہے۔

چوروں کے نام سے معروف اس کنوایں کے بارے میں ابو سراج محمد طفیل احمد ٹھٹوی اپنی دو کتابوں ”تحفۃ الزائرین“ اور ”جدید مکلی نامہ“ میں لکھتے ہیں۔ یہ کنواں ٹھٹہ کی معروف بزرگ ہستی حضرت کریم شاہ بخاریؒ المعروف بخاری بابا سے منسوب ہے۔ آپ دسویں ہجری میں مرزا عیسی خان ترخان کے دور حکومت کے بزرگ ہیں۔ شریعت و طریقت کے کامل ولی تھے۔ آپ نے درس و تدریس کے لئے ایک مدرسہ بھی قائم کیا تھا۔ ترخان خاندان نے پانی حاصل کرنے کی خاطر اس کنویں کی کھودائی کی کروائی۔ 273 فٹ کھودائی کے باوجود پانی ظاہر نہ ہوا۔ ترخان حکمران نے اس کے بارے میں آپ سے رجوع کیا۔ آپ کنویں کا جائزہ لے کر ایک رسی کی مدد سے کنویں میں نیچے اتر گئے اور جیسے جیسے آپ اوپر آتے گئے اللہ کی قدرت سے پانی ظاہر ہوتا گیا۔ آپ کی اس کرامت کو دیکھ کر باہر موجود لوگ اور ترخان حکمران حیرت میں مبتلا ہو گیا۔ اس کے بعد سے یہ کنواں بخاری بابا کے کرامتی کنویں کے نام سے جانا جاتا ہے۔کنویں کے قریب آپ کی چلہ گاہ بھی تھی۔ جہاں بیٹھ کر آپ عبادات کیا کرتے تھے۔ چند قدم کے فاصلے پر ہی آپ کا مزار اور ساتھ ہی قدیم چھوٹی مسجد کے آثار بھی موجود ہیں۔
حوالاجات
1: مکلی نامہ ترجمہ پیر حسام الدین راشدی
2: تحفۃ الزائرین از مفتی محمد طفیل ٹھٹوی
3: تحفۃ الطاھرین از شیخ محمد اعظم بن محمد شفیع ٹھٹوی
4: جدید مکلی نامہ از مفتی محمد طفیل ٹھٹوی

Leave a Reply

Back to top button