مختصر تحریریں

مکھی کی پیاس بھجائی، بخشش ہو گئی!

خان بہادر خدا داد خان اپنی کتاب تاریخ لب سندھ میں لکھتے ہیں کہ ایک بار خسرو خان چرکس اپنی چھت پر کھڑے ادھر ادھر دیکھ رہے تھے، اچانک ان کی نظر ایک عورت پر پڑی جو نہا رہی تھی۔ پہلے انہوں نے ارادہ کیا کہ اپنی آنکھیں نکال دے مگر علماء کرام نے ایسا کرنے سے منع کر دیا اور صلاح دی کہ ایسی عمارت تعمیر کراؤ جو عوام کے لیے فائدہ مند ہو۔ اس طرح آپ کے گناہ کا کفارہ ہو جائے گا۔
خسروخان چرکس نے پھر لاتعداد عمارتیں تعمیر کروائیں۔ تاریخ لب سندھ ہی کی ایک اور روایت مطابق وفات کے بعد کسی درویش نے خسرو چرکس کو خواب میں دیکھا اور پوچھا، نیک کاموں کا کیسا بدلہ ملا؟ کہا، جو نیک کام کیے وہ دُنیا میں ہی رہ گئے۔ مجھے یہاں کام نہ آ سکے، سوائے ایک نیکی کے۔ ایک بار میں لکھنے کے عمل میں مشغول تھا کہ ایک مکھی قلم پر آکر بیٹھی اور قلم سے سیاہی چوسنے لگی۔ میں نے قلم کو اس وقت تک روکے رکھا جب تک مکھی اُٹھ نہ گئی۔ میں نے اس پیاسی مکھی کی پیاس بھجائی، اسی ادا پر میری بخشش ہو گئی۔ بے شک اللہ پاک کریم ہے، وہ چھوٹی سے چھوٹی نیکی پر بھی بہت سے گناہ بخش دیتا ہے۔
محمد صفدر ٹھٹوی

Leave a Reply

Back to top button