تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

مگرناشپاتی (ایواکاڈو) آئل: نہ صرف بیماریوں سے بچائے، صحت بھی لائے

ایواکاڈو ایک ایسا پھل ہے جس میں قدرت نے انسان کیلئے بے شمار فوائد رکھے ہیں۔ اس میں وٹامن سی اور وٹامن بی6 کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے۔ اس میں بیہنائل الکحل، ڈوڈیسینوئک ایسڈ اور ہیپٹا کوسین بھی پائے جاتے ہیں، جو مختلف بیماریوں سے بچاؤ میں معاون ثابت ہوتے ہی۔ علاوہ ازیں ایواکاڈو میں اولک کمپاؤنڈ بھی موجود ہوتا ہے جو چھاتی کے سرطان سے بچاتا ہے۔

بلڈ پریشر کنٹرول کرے، ذہنی دباؤ سے بچائے
اس کا استعمال بڑھتے وزن کو کنٹرول کرتا ہے۔ ہسٹیریا، ذہنی دباؤ اور بلڈ پریشر جیسے امراض میں مفید ثابت ہوتا ہے۔ایوا کاڈو پوٹاشیم سے بھرپور ہوتا ہے جو بلڈپریشر کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس میں کیلے سے بھی زیادہ پوٹاشیم پایا جاتا ہے جو دوران خون کو مسلسل اعتدال میں رکھتا ہے۔

بالوں کی نشوونما میں معاون
ایواکاڈو آئل بالوں کی نشوونما کیلئے بھی بہترین ٹانک ہے۔ اگر آپ زیتون کے تیل میں ایواکاڈو، جوجوبا آئل، وٹامن ای اور لیونڈر آئل کو شامل کر کے سر کا مساج کریں تو یہ سر کی جلد مناسب مقدار میں نمی فراہم کر کے خشکی کو دور کرتے ہیں۔ یہ صحت مند بالوں کی نشونما کے لیے بے حد اہم ہے۔

مسوڑوں کی بیماریاں روکنے میں مدد گار
ایواکاڈو آئل مسوڑوں کے امراض سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ مسوڑوں کے امراض سوزش، مسوڑوں سے خون بہنا، بو کی بو آنا اور دانتوں کے گرد ہڈیوں اور ٹشووں کی خرابی جیسے وغیرہ شامل ہیں۔ یہ وہ امراض ہیں جو بگڑ جائیں تو دانتوں کی کمی کا سبب بن سکتے ہیں۔ایک تحقیق کیکے مطابق ایواکاوڈو اور سویابین آئل ایک IL1B (19 ٹرسٹڈ سورس) نامی پروٹین کو روک سکتا ہے جو مسوڑوں کی سوجن کا باعث بنتا اورہڈیوں کے نقصان کا اصل محرک ہوتا ہے۔

ہڈیاں مضبوط بنائے!
ایواکاڈو میں پائے جانے والے اجزاء ہڈیوں کو مضبوط بناتے ہیں۔ وہ خواتین جو ہڈیوں کے بھر بھرے ہونے کے مرض میں مبتلا ہوں انھیں آدھا کپ ایوا کاڈو کا استعمال کرنا چاہئے، زچگی کے دوران اور بعد میں خواتین کے جوڑوں میں درد ہو یا بڑے آپریشن کے بعد خون،کیلشیم اور میگنیشیم کی کمی ہو،ایوا کاڈ وکے استعمال سے اس کمی کو فوری طور پر پورا کیا جا سکتا ہے اس میں موجود میگنیشیم قوت مدافعت کو بڑھاتا ہے لہذا وہ خواتین جو دودھ پلاتی ہوں اور کمر کے درد کا شکار ہوں،یا پھر حمل کے دوران یا زچگی کے بعد مستقل بیمار رہتی ہوں انھیں اس کا استعمال کرنا چاہئے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

پچھلا صفحہ 1 2

Leave a Reply

Back to top button