مختصر تحریریں

مہاراجہ اشوک کا ساتواں فرمان

جب وہ میدان میں داخل ہوئے تو وہاں صرف فرمان کھڑا چٹان کو دیکھ رہا تھا۔ ڈاکٹر کلیم کی نظر جوں ہی چٹان پر پڑی اس کے پورے بدن میں سر خوشی کی لہر پھیل گئی۔ انہیں لگا جیسے انہوں نے کوئی نیا امریکہ دریافت کر لیا ہے۔ عزیز خان نے ان کی طرف دیکھا تو انہوں نے اپنی خوشی چھپانے کے لیے فوراً اپنے چہرے پر سنجیدگی طاری کر لی۔ وہ کافی دیر چٹان کو بغور دیکھتے رہے اور عبارت پڑھنے کی کوشش کرتے رہے۔ عزیز خان اور فرمان نے دیکھا کہ ان کی نظریں بار بار اوپر نیچے حرکت کر رہی تھیں۔ پھر میدان میں ان کی پر اسرار آواز گونجنے لگی۔
”یہ مقدس فرمان مہاراجہ اشوک کے حکم سے جاری کیا گیا ہے۔
مہاراجہ کی خواہش ہے کہ ہر جگہ ہر طبقے کے لوگ اطاعت گزار ہیں۔ کیوں کہ ہر کوئی چاہتا ہے کہ وہ اپنے حواس پر قابو رکھے اور اس کا ذہن پاک صاف رہے۔ البتہ مردوں کو اپنی خواہشات اور پسند پر قابو نہیں رہتا۔
کچھ لوگ احکامات پر پورا پورا عمل کریں گے ارو کچھ جزوی طور پر۔ حتیٰ کہ کسی ایسے شخص کے نزدیک بھی جو مکمل طور پر آزادہ روی کا قائل ہو، اپنے حواس کو قابو رکھنا، ذہن کی پاکیزگی، احسان مندی اور وفاداری ہمیشہ قابل تعریف رہی ہیں“۔
ڈاکٹر کلیم نے چٹان پر نظریں جماتے ہوئے نامعلوم زبان میں کندہ عبارت کا ترجمہ انہیں سنایا: اور ساتھ ہی انہیں یہ بھی بتایا کہ یہ عبارت خروشتی رسم الخط میں ہے۔ جو ساتویں صدی عیسوی تک اس علاقے میں مروج رہا۔ بعد میں اس کی جگہ دیوناگری نے لے لی۔
”یہ مہاراجہ اشوک کا ساتواں فرمان ہے۔ اس نے اپنے دور حکومت میں کئی فرمان کنندہ کرائے۔ جن میں سے چودہ فرمان مانسہرہ میں بریڑی کے مقام پر دریافت ہو چکے ہیں۔ یقینا ایسے فرمان یہاں اور چٹانوں پر بھی موجود ہوں گے“۔
ڈاکٹر کلیم نے سنجیدگی کی اداکاری کرتے ہوئے کہا۔ لیکن اس کے باوجود ان کی آواز میں مسرت لہریے لے رہی تھی۔ جسے خود ان کے علاوہ صرف چٹان نے محسوس کیا۔ جو ان کے قدموں سے تقریباً بیس فٹ نیچے ایک کھائی میں جائے نماز کی طرح بچھی ہوئی تھی۔
عزیز خان اور فرمان نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ ان کے چہرے پر پریشانی جب کہ آنکھوں میں حیرت تھی۔ اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے اور ڈاکٹر کلیم کی تصدیق کے باوجود انہیں یقین نہیں آ رہا تھا۔
سورج مغربی سمت واقع کوہ مل کے پہاڑوں پر غروب ہو رہا تھا اور ان تینوں کے سائے ان کی پشت پر واقع وسیع میدان کے مغربی سرے کو چھو رہے تھے۔
ڈاکٹر کلیم نے کاندھے سے لٹکائے ہوئے بیگ میں سے اپنا کیمرہ نکالا اور تصویریں کھینچنے لگے۔ انہوں نے مختلف زاویوں سے چٹان کی دو درجن سے زائد تصاویر اتاریں۔ پھر ڈیجیٹل سکرین پر ایک ایک تصویر کو بغور دیکھنے لگے۔ ہر تصور کو دیکھتے ہوئے ان کے اندر سرشاری کی ایک لہر ابھرتی، جسے وہ بڑی مشکل سے چہرے تک آنے سے بچاتے۔ تمام تصاویر دیکھنے کے بعد انہوں نے کیمرے کو احتیاط سے بیگ میں رکھا اور ان دونوں کے ساتھ بستی کی طرف اترنے لگے۔
ابھی وہ بستی میں داخل بھی نہیں ہو پائے تھے کہ ان کے سائے گھنے اندھیرے میں کہیں گم ہو چکے تھے۔
اختر رضا سلیمی کے ناول ”جاگے ہیں خواب میں“ سے اقتباس

Leave a Reply

Back to top button