تجزیہسیاسیات

میانمار کے سفیر کی دفترخارجہ طلبی، احتجاج ریکارڈ

پاکستان کی سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے میانمار کے سفیر یو ون مائینٹ کو دفتر خارجہ طلب کر کے روہنگیا مسلمانوں پر جاری ظلم و بربریت کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرا دیا۔

دفترخارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پاکستان نے میانمار کی ریاست رخائن میں جاری روہنگیا مسلمانوں پو ہونے والے ظلم کے خلاف شدید احتجاج کیا۔

سیکریٹری خارجہ نے میانمار کے سفیر سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری ظلم و بربریت کو ختم کرنے کے حوالے سے مناسب اقدامات کا مطالبہ کردیا۔

اعلامیے کے مطابق سیکریٹری خارجہ نے میانمار کے سفیر سے ریاست رخائن میں روہنگیا مسلمانوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے، حقوق کا تحفظ اور انھیں بلا امتیاز اور بغیر کسی خوف کے نقل و حمل کی اجازت دینے کا بھی مطالبہ کیا۔

پاکستانی وزارت خارجہ نے میانمار کے سفیر سے مطالبہ کیا کہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری ظلم کی تحقیقات کرائی جائے اور ان کی خون ریزی میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

رخائن میں جاری تنازع کے پائیدار حل کے لیے اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کے کمیشن کی سفارشات کو فوری طور پر عمل درآمد پر زور دیا گیا۔

خیال رہے کہ اس کمیش کی سفارشات میں میانمار کی ریاست رخائن میں فوری طور پر جاری شورش کو ختم کرنے کے لیے اقدامات، امن بحال رکھنے، رضا کارانہ مصالحت، غیر جانبدارانہ طور پر متاثرہ لوگوں تک رسائی اور شہریت کے مسائل کے حل پر مشتمل تجاویز بھی شامل ہیں۔

میانمار کے سفیر یو ون مائینٹ نے سیکریٹری خارجہ کو یقین دہانی کرائی کہ وہ میانمار حکومت تک پاکستانی حکومت اور پاکستانی عوام کے تحفظات پہنچائیں گے۔

خیال رہے کہ میانمار کی ریاست رخائن میں فوجی بیس پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا تھا۔

میانمار کی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک 400 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں اکثریت روہنگیا مسلمانوں کی ہے۔

میانمار کی سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں نے ان پر حملے کیے تاہم روہنگیا مسلمان اس کی ترید کر رہے ہیں۔

روہنگیا مسلمان میانمار کی فوج کے مظالم سے بچنے کے لیے پڑوسی ملک بنگلہ دیش کی جانب ہجرت کر رہے ہیں۔

بنگلہ دیش میں موجود اقوامِ متحدہ کے نمائندے نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ اب تک میانمار سے 3 لاکھ مسلمان گذشتہ ایک ماہ میں بنگلہ دیش آچکے ہیں۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ بنگلہ دیش پہنچنے والے افراد نے بتایا کہ ان لوگوں کو میانمار میں بربریت کا نشانہ بنایا گیا جبکہ میانمار فوج نے ان کی خواتین کو ریپ کا بھی نشانہ بنایا۔

بدھ مت اکثریت کے حامل اس ملک کی فورسز کی نہتے مسلمانوں پر جاری مظالم کے خلاف پوری دنیا کی جانب سے شدید ردِ عمل سامنے آرہا ہے اور بین الاقوامی فورم پر میانمار کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا جارہا ہے۔

Leave a Reply

Back to top button