تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

میتھی دانہ : جگر کو زہریلے مادوں سے صاف کرے

وہ افراد جنہیں دل کے دورے کا خطرہ ہو، اگر وہ صحت بخش غذا کے ساتھ میتھی دانے کا استعمال جاری رکھیں تو ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑی حد تک ٹل جاتا ہے اور خدانخواستہ اگر کبھی دل کا دورہ پڑ بھی گیا تو اس سے دل کو پہنچنے والا نقصان کم سے کم رہے گا۔

صدیوں سے بطور غذا اور دیگر فوائد حاصل کرنے کے لیے استعمال ہونے والا میتھی دانہ صرف کھانے کا ذائقہ بڑھانے کے لیے ہی کام نہیں آتا بلکہ مجموعی صحت کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔

ماہرین طب کے مطابق میتھی دانہ کے باقاعدگی سے استعمال کے نتیجے میں کئی موسمی بیماریوں سے نجات بچا جا سکتا ہے۔ میتھی دانے اور میتھی سبزی میں قدرتی طور پر اینٹی الرجی خصوصیات پائی جاتی ہیں، چنانچہ نزلہ، زکام، بے تحاشہ چھینکیں آنا، اور ڈسٹ الرجی کے شکار افراد اور سانس سے متاثرہ لوگوں کے لیے یہ انتہائی مفید دوا ہے۔

بعض ماہرین طب کہتے ہیں کہ اگر لوگ میتھی کے فوائد سے آشنا ہو جائیں تو سونے کے دام کے برابر اس کی قیمت دے کرلوگ اس کو خریدنے لگیں۔ اس میں وٹامن اے،وٹامن بی،وٹامن سی، فولاد، فاسفورس اور کیلشیم کے علاوہ دیگر مفید مرکبات پائے جاتے ہیں۔

میتھی کو دل کی صحت کے حوالے سے بہترین قرار دیا جاتا ہے۔ وہ افراد جنہیں دل کے دورے کا خطرہ ہو، اگر وہ صحت بخش غذا کے ساتھ میتھی دانے کا استعمال جاری رکھیں تو ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑی حد تک ٹل جاتا ہے اور خدانخواستہ اگر کبھی دل کا دورہ پڑ بھی گیا تو اس سے دل کو پہنچنے والا نقصان کم سے کم رہے گا۔

میتھی دانہ کا تیل کینسر کے مریضوں کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ یہ تیل ایسے اجزاء پر مشتمل ہوتا ہے، جو کینسر کے خلیوں کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے کینسر کے مریضوں کے لیے یہ تیل بہترین ہے اور قدرتی ہونے کے وجہ سے اس کے مضر اثرات بھی نہیں ہوتے۔

میتھی دانہ جسم میں موجود برے کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے کے حوالے سے بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

جگر ہمارے جسم میں پائے جانے والے زہریلے مادوں کی صفائی کا کام کرتا ہے۔ بہت زیادہ غیر صحت بخش غذاؤں کے استعمال کی وجہ سے ہمارا جگر دباؤ کا شکار ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے اسے شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن میتھی دانہ جگر کو زہریلے مادوں کی صفائی کے حوالے سے مدد فراہم کرتا ہے۔

متعدد تحقیقات نے یہ بات ثابت کی ہے کہ روزانہ میتھی دانہ کے استعمال سے جسم میں موجود چربی کو کم کیا جاسکتا ہے۔ میتھی دانہ 2 سے 6 ہفتے تک روزانہ تین مرتبہ300 ملی گرام کھانے سے بہترین نتائج حاصل ہوسکتے ہیں۔

میتھی نہ صرف پیٹ کے کیڑے مارتی ہے، بلکہ ہاضمہ کو بھی درست رکھتی ہے اور بلغمی مزاج رکھنے والوں کو بہت فائدہ پہنچاتی ہے۔ قبض کی صورت میں میتھی کے بیج کا سفوف گڑ میں ملا کر صبح اور شام 5 گرام کھایا جائے تو آنتوں کی کارکردگی بحال ہوجاتی ہے اور قبض بھی ختم ہوجاتی ہے
چہرے پر کیلوں اور مہاسوں کا خاتمہ کرنے کے لیے 4 کپ پانی میں 4 کھانے کے چمچے میتھی دانہ شامل کرکے رات بھر کے لیے رکھ دیں، صبح اس پانی کو چھان کر 15 منٹ تک اُبالنے کے بعد ٹھنڈا کرلیں، یہ پانی روزانہ دن میں 2 مرتبہ چہرے کی جلد پر لگانے سے کیل مہاسے ان شاء اللہ ختم ہوجائیں گے۔

شوگرکے علاج میں میتھی کو انتہائی مؤثر پایا گیا ہے۔شوگر کے مرض میں میتھی دانہ کا استعمال جسم میں شوگر کی سطح کو متوازن رکھنے کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتا ہے اور انسولین کی مزاحمت کو کم کرتا ہے۔

ایک چائے کا چمچ میتھی دانہ ایک کپ پانی میں شامل کر کے پینے سے ہارمونز کی بے ترتیبی درست ہوجاتی ہے۔ اس چائے کو دن میں دو سے تین مرتبہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہارمونز کی ترتیب کے لیے یہ چائے جادوئی دوائی کی طرح کام کرتی ہے۔

اگر آپ مسلسل پریشان ہیں اور آپ کو بہت زیادہ ذہنی تناؤ رہتا ہے تو اس نسخے پر عمل کر کے آپ اپنا سٹریس لیول کم کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے میتھی دانہ، لیموں کا رس، شہد، تلسی کے چند پتے اور ایک دار چینی کا ٹکڑا ایک کپ پانی میں اُبال کر ٹھنڈا کرکے پی لیں۔

ایک چٹکی میتھی دانہ ایک گلاس نیم گرم پانی کے ساتھ پینے سے ماہواری کے درد سے نجات مل سکتی ہے۔ ایام مخصوصہ سے دو یا تین دن پہلے بھی
اگر اس نسخہ پر عمل کیا جائے تو periods کی وجہ سے ہونے والی دوسری پریشانیوں سے بھی چھٹکارا مل سکتا ہے۔

تین کھانے کے چمچ میتھی دانہ دو کپ پانی میں اُبالیں اتنا اُبالیں کہ پانی آدھ رہ جائے۔ اب میتھی دانہ کا پیسٹ بنا لیں اور اس پیسٹ کو اپنے بلیک ہیڈز اور کھلے مساموں پر لگا لیں۔ اسے خشک ہونے دیں پھر چہرے پر سکرب کر کے اُتار لیں۔ پہلی دفعہ کے استعمال سے آپ واضح فرق محسوس کریں گے اور روزانہ کے استعمال سے بلیک ہیڈز ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائیں گے۔

میتھی دانہ کے پانی کو بالوں کی جڑوں میں لگالیں اور پوری رات لگا رہنے دیں۔ صبح نیم گرم پانی سے دھو لیں۔ اس سے بالوں کی جڑیں مضبوط ہونے کے علاوہ بال گھنے ہوجاتے ہیں۔

میتھی دانہ دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے بہت مفید ہے۔ اس کے علاوہ ڈیلیوری کے بعد ہونے والی کمزوری میں بھی میتھی دانے کے استعمال سے بہت افاقہ ہوتا ہے۔ یہ ہڈیوں کو مضبوط کرتا ہے۔

جن لوگوں کو بادی کا مرض ہو یعنی کھانے کے بعد انکے ہاتھ، پاؤں سن ہونے لگتے ہوں یا مسوڑھے پھول جاتے ہوں۔ ان کو عمومی طور پر اس کا استعمال رکھنا چاہئے۔ چاول، دہی، خمیری روٹی، آلو وغیرہ نقصان دیتے ہیں تو کچے یا پکے میتھی کے بیج ضرور استعمال کریں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Leave a Reply

Back to top button