کتابیں

میرا شہر لاہور…… میم سین بٹ

لاہور پاکستان کے تمام شہروں میں اس لحاظ سے منفرد شہر ہے کہ اس پر اردو، پنجابی، فارسی اور انگریزی میں تقریباََ پانچ درجن کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں سے چار درجن سے زائد کتابیں ہم نہ صرف پڑھ چکے ہیں بلکہ ان پر کالم میں تبصرہ بھی کر چکے ہیں۔ لاہور شہر پر سب سے بہترین کتاب یونس ادیب نے لکھی تھی جو اندرون شہرکی خالص مقامی ثقافت کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ اس میں اندرون شہر کے تھڑا کلچر پر خوب روشنی ڈالی گئی ہے، یونس ادیب صحافی تھے اور کتاب”میرا شہر لاہور“ لکھنے سے پہلے مختلف اخبارات وجرائد اور ریڈیو کیلئے لاہور شہر پر فیچرز اور مضامین بھی لکھتے رہے، ساغر صدیقی سے ان کا قریبی تعلق رہا تھا۔ ساغرصدیقی پر یونس ادیب نے تین کتابیں لکھی تھیں۔ ان کی کتاب”میرا شہر لاہور“ پہلی بار تقریباََ ربع صدی قبل شائع ہوئی تھی اور ہم نے زمانہ طالب علمی کے دوران ہی پڑھ لی تھی۔ یونس ادیب کی وفات کے بعد ان کی یہ کتاب نایاب ہو گئی گزشتہ دنوں فیس بک پر عالمگیر خان نے ہمیں ”میرا شہر لاہور“ پڑھنے کا مشورہ دیا تو ہم نے بتایا کہ”ایک بار پڑھ چکے ہیں۔ دوسری بار پڑھنے کی ہوس ہے“جس پر ممتاز راشد لاہوری نے آگاہ کیا کہ فرخ سہیل گوئندی نے اپنے اشاعتی ادارے کے تحت ”میرا شہر لاہور“ کا دوسرا ایڈیشن چھاپ دیا ہے۔ ہم اگلے ہی روز جمہوری پبلی کیشنز کے دفتر سے یونس ادیب کی یہ کتاب خرید لائے اور چھٹیوں میں دوبارہ پڑھنے کیلئے بیگ میں رکھ کر فیصل آباد لے گئے۔
یونس ادیب اندرون شہر حویلی کابلی مل کوچہ درزیاں کے رہنے والے تھے۔ ان کے خاندان سے تعلق رکھنے والے بیشتر افراد ملبوسات کی سلائی کڑھائی کا کام کرتے تھے ویسے ان کا تعلق راجپوت بھٹی گھرانے سے تھا۔ انگریزوں کے خلاف مزاحمت پر ان کے بزرگوں کوگاؤں چھوڑ کر لاہور شہر آنا پڑا تھا۔ کوچہ درزیاں میں فلمی ہدیات کار ایم جے رانا کے علاوہ رحیم بخش پہلوان سلطانی والا کا شاگرد نجہ پہلوان رینی والا بھی یونس ادیب کے محلے دار تھے۔ لالہ راج پہلوان پری پیکر اور علیم پہلوان بھی ان کے والدکی دکان پر آیا کرتے تھے۔ یونس ادیب کو ان کے والد میاں چراغ دین کسرت کیلئے شاہی مسجد کے پہلو میں واقع یوسف پہلوان اور شاہی قلعہ کے جنوب میں واقع خلیفہ عبداللہ کے اکھاڑوں میں لے جاتے رہے تھے۔ وہ اپنے والد کے ساتھ منٹو پارک کے شاہی دنگل بھی دیکھنے جایا کرتے تھے۔ انہوں نے امام بخش پہلوان کی گونگے پہلوان کے ساتھ مشہور کشتی بھی دیکھی تھی جس کا فیصلہ نہ ہو سکا اور بالآخر لڑائی مارکٹائی شروع ہوگئی۔ تماشائیوں نے بپھر کر شامیانے اکھاڑ دیئے اور کرسیاں توڑ پھوڑ ڈالی تھیں۔
فصیلوں کے اندر آباد پرانے شہر کے گلی کوچوں کی زندگی پر یونس ادیب بڑی خوبصورتی سے روشنی ڈالتے ہیں۔ اندرون شہر کی صبح مکند لال کے بادامی باغ والے کارخانے سے آنے والی گھگھو کی آواز سے شروع ہوتی تھی پھر مساجد سے اذانون اور مندروں سے گھنٹیوں کی آوازیں بلند ہوتے ہی موریوں میں پانی بہنے لگتا،گلیوں میں پانی کا چھڑکاؤ کرنے والے بہشتی آجاتے، قلچے کے تندوروں میں آگ بھڑک اٹھتی اور دودھ دہی کی دکانیں کھل جاتیں۔ صبح کی سیر کرنے والے لوگ گھروں سے نکل کر فصیلوں سے باہر واقع منٹو پارک، حضوری باغ، شیرانوالہ دروازہ اور مستی دروازہ کی باغیچیوں کا رخ کرتے تھے، پہلوانی کے شوقین اکھاڑوں میں پہنچ جاتے اور ریلوے لوکو ورکشاپ میں کام کرنے والے لوگ ٹفن باکس اٹھائے بارہ دروازوں سے باہر نکل جاتے، یونس ادیب قاری کو مزید بتاتے ہیں کہ بیرون شہر قدیم دروازوں کے سامنے باغ ہوتا تھا جس میں پھلدار درخت بھی ہوتے تھے۔ باغ کے درمیان میں پانی کی نہر بہتی تھی۔ یہ نہر اکبری دروازے کے باغ سے شروع ہوتی اور شاہ عالمی، لوہاری، بھاٹی اور ٹکسالی دروازے کے باغ سے گزرکر بڈھے دریا کی طرف چلی جاتی تھی۔ اندرون شہر کے باسی گرمیوں، سردیوں میں زیادہ وقت بیرون باغ میں گزارتے تھے جہاں مذہبی وسیاسی جلسے اور مشاعرے بھی ہوتے تھے!“
اندرون شہر کے مکین یونس ادیب کے بچپن، لڑکپن اور جوانی کے زمانے میں مستی دروازے کے راستے منٹو پارک (اب گریٹر اقبال پارک) میں آجاتے تھے اور شام کو شاہی قلعے کے سامنے سے گزرکر حضوری باغ سے ہوتے ہوئے روشنائی دروازے سے داخل ہو کر”بغداد کی گلیوں“ میں غائب ہو جاتے تھے، منٹو پارک کے میدان میں لاہوریئے سارا دن پتنگیں اڑاتے،گلی ڈنڈا اورکرکٹ کھیلتے، ورزش کرتے اور شاہی اکھاڑے میں دنگل دیکھتے تھے، وہاں نہانے کیلئے کنویں بھی ہوتے تھے۔ یونس ادیب نے کتاب کا آغاز ہی بازار حسن کے ذکر سے کیا ہے۔ اندرون شہر پانی والا تالاب کے پرائمری سکول کے بعد جب وہ سید مٹھا بازار کی حویلی دھیان سنگھ میں قائم دیال سنگھ ہائی سکول میں داخل ہو ئے تو ان کا ہیرا منڈی سے قریبی تعلق پیدا ہوگیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں! لاہورکی دہلیز پر…… میم سین بٹ
وہ فنکارگھرانوں سے تعلق رکھنے والے ہم جماعتوں کے ساتھ شاہی محلے میں گھومتے پھرتے، بیساکھی، ہولی، دسہرہ، دیوالی پر ہیرا منڈی میں ہندوؤں اور سکھوں کا رش ہوتا تھا۔ یونس ادیب کمسن طالبعلم کے طور پر نشے میں دھت لوگوں کو حیرت سے دیکھا کرتے تھے پھر انہوں نے ہیرا منڈی کے ناولٹی سینما میں فلمیں دیکھنا شروع کر دی تھیں۔ بعدازاں انہوں نے محلہ ستھاں کے رہائشی ہندو ہم جماعت سدرشن لال کے ساتھ بھاٹی چوک میں واقع کراؤن سینما میں بھی فلم دیکھنے کیلئے جانا شروع کر دیا تھا جس سے ان کی حیرت دور ہو گئی تھی۔
اے حمید کی یونس ادیب کے ساتھ گہری دوستی رہی تھی۔ آزادی کے فوری بعد دونوں نوجوان دوست لوہاری دروازے کے باہر واقع سکول کی چھوٹی سی گول عمارت میں ہونے والے ادبی تنظیم کے اجلاسوں میں اکٹھے شریک ہوتے رہے تھے۔ انارکلی، میکلوڈ روڈ اور مال روڈ پر گھومتے پھرتے بھی دونوں دوستوں کی اکثر ملاقات ہو جاتی تھی۔ ان دونوں میں کبھی رنجش پیدا نہ ہوئی تھی۔ اے حمیدکتاب پر رائے دیتے ہوئے یونس ادیب کو لاہور کا تیرھواں دروازہ قرار دیتے ہیں اور”زندگی پر جارحانہ ہاتھ ڈالنے والا شخص“ کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ زندگی کی باگیں ہاتھ میں لے کر اس منہ زورگھوڑے کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا بڑے دل گردے کاکام ہے اور یونس ادیب یہ کام آج بھی روزاوّل سے ایسی ہی خوش اسلوبی سے کر رہا ہے، لاہور نے یونس ادیب کو اپنا دل دیدیا ہے، لاہور اس کے ساتھ سانس لیتا ہے اور اس کا دل یونس ادیب کے ساتھ دھڑکتا ہے لاہور پرکتاب لکھ کر یونس ادیب نے میری زندگی کی ایک خوبصورت خواہش کو پورا کیا ہے میں اس کا شکریہ ادا کرتا ہوں! اے حمید نے بعدازاں خود بھی لاہور پر اردو اور پنجابی میں چار کتابیں لکھی تھیں جن کے نام”لاہور لاہور اے“، ”لاہور کی یادیں“ اور ”لاہور کی باتیں“ وغیرہ ہیں۔
اشفاق احمد نے یونس ادیب کی کتاب کا دیباچہ تحریر کیا جنہوں نے کتاب ایک ہی نشست میں پڑھ ڈالی تھی اور اسے کمال کی کتاب قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا تھا کہ یونس ادیب کی تحریر ہاتھ پکڑکر ساتھ ساتھ گھماتی ہے۔ سہیل احمد خان کہتے ہیں کہ یونس ادیب نے لاہور شہر کو حواس کے ذریعے اپنے اندر اتار لیا ہے۔ الطاف احمد قریشی لکھتے ہیں کہ یونس ادیب لاہور شہرکا دوست ہے وہ اب بھی اس شہر کی گلیوں میں گھومتا ہے اور ان سے مکالمہ کرتا ہے اس کتاب نے اسی مکالمے سے جنم لیا ہے، ناشر فرخ سہیل گوئندی لکھتے ہیں کہ یونس ادیب کی کتاب ”میرا شہر لاہور“ اس شہر کے ایسے سپوت کی تحریر ہے جسے لاہور کے داروغے محمد علی نے لاہور کے دروازے کھلنے اور بند ہونے کی داستانیں سنائیں اور پھر یہی داستانیں میں نے یونس ادیب سے سنیں، قدیم لاہور کی تلاش کیلئے یہ اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے! ڈاکٹر یونس جاوید لکھتے ہیں کہ بابا یونس ادیب لاہور کا چودھواں دروازہ ہے جس سے گزرے بغیر کوئی بھی شخص اصلی اور نرول لاہور کی شبیہہ دیکھ سکتا ہے نہ داستان قسم کے محلوں کے ورق الٹ سکتا ہے۔ سلیم شاہد نے بھی درست لکھا ہے کہ لاہور نے یونس ادیب کو یونس ادیب بنایا اور یونس ادیب نے لاہور کا سراپا لکھ کر اس قرض کو اتار دیا۔
لاہور شہرکے قدیمی تہوار بسنت پر بھی کتاب میں تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے مگر پنجاب حکومت نے دھاتی ڈور سے راہ گیروں کی گردنیں کٹنے سے بچانے کیلئے چند برسوں سے بسنت منانا قابل دست اندازی پولیس جرم قرار دے رکھا ہے۔ لاہوریئے بسنت کا قدیمی تہوار منانے سے نجانے کب تک محروم رہیں گے؟ یونس ادیب ساندہ منتقل ہونے کے بعد سال میں ایک دو مرتبہ اندرون شہر آبائی محلے کا چکر لگاتے تو انہیں گلیاں اور بازار تنگ تنگ سے لگتے ان کے ذہن میں گزرے ہوئے دور کی فلم چلنے لگتی انہیں جیرا سائیں اور کیدار ناتھ سیاہ پوش نظر آتے نہ فیجی حکیم اپنی دکان پر بیٹھے دکھائی دیتے، استاد چنن دین کی دکان کے تھڑے پر استاد عشق لہر کی مخصوص جگہ پرکون آئسکریم کی مشین لگ گئی۔ خدا بخش دھوبی کے ماہی منڈے کی بھی صرف یاد ہی باقی رہ گئی، ممتاز نائی اور پھوجا نائی بھی منظر سے غائب ہو گئے ان کیلئے اندرون شہر کے سارے چہرے ہی اجنبی ہو گئے، پتا نہیں رومی ٹوپیوں والے بابے کہاں چلے گئے تھے؟ یونس ادیب نے درست ہی کہا تھا کہ فصیل کے اندر پرانی کہانیاں دفن ہو چکی ہیں اورنئی کہانیاں جنم لے رہی ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button