Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it   Click to listen highlighted text! Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it
Uncategorized

میرشکیل الرحمان، انصارعباسی، عامرغوری اور سابق چیف جج گلگت بلتستان کو شوکار نوٹس جاری

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق جج رانا شمیم کے الزامات کے کیس میں میرشکیل الرحمان، انصارعباسی، عامرغوری اور سابق چیف جج گلگت بلتستان کو شوکار نوٹس جاری کر دیا ۔
یاد رہے کہ جنگ خبار کی رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا ایم شمیم نے دعویٰ کیا ہے کہ’وہ اس واقعہ کے گواہ ہیں جب اُس وقت کے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ہائی کورٹ کے ایک جج کو حکم دیا تھا کہ 2018ء کے عام انتخابات سے قبل نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت پر رہا نہ کیا جائے۔
سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریٹائرڈ جسٹس رانا شمیم کے بیان کو بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی قرار دیا ہے۔ ثاقب نثار نے جنگ اخبار کی خبر کو بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیا۔نواز شریف اور مریم نواز کے متعلق گلگت بلتستان کے سابق چیف جج کے انکشافات پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے نوٹس لیا ہے۔
عدالتی حکمنامے کے مطابق خبرزیر التوا کیس سے متعلق ہے، عدالت سے باہر کسی قسم کا ٹرائل عدالتی کارروائی پر اثرانداز ہونے کے مترادف ہے، فریقین بتائیں کہ کیوں نہ ان کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سات روز میں فریقین سے تحریری طور پر جواب طلب کر لیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت 26 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔ دس دن بعد تمام فریقین ذاتی حثییت میں دوبار عدالت کے روبرو پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔
سابق جج گلگت بلتستان رانا شمیم عدالت میں پیش نہیں ہوسکے۔ رانا شمیم کے بیٹے کا کہنا ہے کہ والد رات اسلام آباد پہنچے، ان کی طبعیت ٹھیک نہیں۔
چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا اگر مجھے اپنے ججز پر اعتماد نہ ہوتا تو یہ توہین عدالت کی کارروائی نہ کرتا،اس عدالت نے کہا کہ ججز کا احتساب ہونا چاہیے اور ان پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے۔اگر لوگوں کا اعتماد عدالت پر ختم ہو جائے تو افراتفری پھیلتی ہے، آپ نے یہ کیا کیاہے؟
چیف جسٹس اطہر من اللہ کامیرشکیل سے مکالمے میں چیف جسٹس نے کہا آپ ایک لیڈنگ میڈیا آرگنائزیشن کے مالک ہیں۔ اگر کوئی اپنا بیان حلفی نوٹرائز کراتا ہے تو آپ اسکو اخبار کی لیڈ بنا دیں گے؟
کیا عدالت میں کوئی شخص میرے ججز پر الزام عائد کر سکتا ہے کہ وہ کسی سے ہدایات لیتے ہیں۔ کیا آپ نے پوچھا کہ یہ بیان حلفی برطانیہ میں نوٹرائز ہوا؟
انصار عباسی سے مکالمے میں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ انویسٹی گیٹو صحافی ہیں اور میں آپکا احترام کرتا ہوں۔ احتساب عدالت نے 6 جولائی کو نواز شریف اور مریم نواز کو سزا سنائی تھی۔ 16جولائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی۔
چیف جسٹس نے کہا میں اور جسٹس عامر فاروق اس وقت چھٹیوں پر ملک سے باہر تھے۔ جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اپیلوں پر سماعت کی تھی۔
دونوں ججز ملک بھر کے قابل احترام ججز ہیں۔ آپ ہائیکورٹ سے پوچھ لیتے کہ کونسا بینچ اس وقت کیس کی سماعت کر رہا تھا۔
آپ نے خواجہ حارث سے پوچھا کہ کیا کیس الیکشن سے پہلے سماعت کیلئے مقرر کرنے کی درخواست کی تھی، خواجہ حارث پیشہ ور وکیل ہیں انہیں معلوم تھا کہ یہ طریقہ کار نہیں ہوتا۔
کسی وکیل سے پوچھ لیں، ایک دن اپیل دائر ہو اور سزا معطل ہو جائے یہ نہیں ہوتا۔ ایک سال کیلئے ڈویژن بینچ تھے جنہوں نے اس ہائیکورٹ کو چلایا۔
چیف جسٹس نے کہا جج کے نام کی جگہ خالی چھوڑ کر آپ نے ساری ہائیکورٹ پر الزام عائد کر دیا۔ اس ہائیکورٹ سے لوگوں کا اعتماد اٹھانے کیلئے سازشیں شروع ہو گئیں۔
انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس ایک چیف جسٹس کے سامنے ایسی بات کرے اور وہ 3سال خاموش رہے۔ اچانک سے ایک پراسرار حلف نامہ آ جائے اور ایک بڑے اخبار میں شائع ہو جائے۔
انصار عباسی نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے استدعا کی کہ کیا میں کچھ کہہ سکتا ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا آپ اب کیا کہیں گے، جو نقصان کرنا تھا وہ آپ کر چکے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ رانا شمیم عدالت میں پیش ہوئے ہیں؟ وکیل نے بتایا کہ رانا شمیم کے بھائی کا انتقال ہوا ہے، انہیں پیش ہونے کیلئے وقت دیا جائے۔
وکیل رانا شمیم نے بتایا کہ ان کے موکل امریکہ میں ایک کانفرنس میں شریک ہونے کیلئے گئے تھے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اہم ترین عہدہ رکھنے والا شخص 3 سال بعد ایسا بیان حلفی کیسے دے سکتا ہے؟ افواہیں ہیں کہ وہ بیان حلفی جعلی ہے۔ اگر وہ جعلی ہوتا ہے تو پھر شائع کرنے والے کے خلاف کیا کارروائی ہو گی؟
اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ رانا شمیم کے بھائی کا 6 نومبر کو انتقال ہوا۔ یہ پورے جوڈیشل سسٹم اور بالخصوص ہائیکورٹ پر الزام عائد کیا گیا۔ یہ کوئی عام معاملہ نہیں اسکے بہت سنجیدہ نتائج ہوں گے۔
چیف جسٹس نے انصار عباسی سے سوال کیا کہ جس بینچ نے سماعت کی وہ کس نے بنوایا تھا؟ میں آپکو لکھواتا ہوں کہ اس کیس کی سماعتیں کتنی ہوئیں۔
عدالت نے ان اپیلوں پر روزانہ کی بنیاد پر بھی سماعت کی، اسکی بھی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ہائیکورٹ کا کوئی جج کسی کو اپنے گھر یا چیمبر میں آنے کی اجازت دے تو میں ذمہ دار ہوں گا۔
نقصان تو ہوچکا ہے۔ جس بیان حلفی پر ابہام ہے جو کہیں کسی جوڈیشل فارم پر پیش ہوا تحقیقات کیے بنا اسٹوری کردی۔
انصار عباسی کا کہنا تھا کہ میں نے کسی جج کا نام نہیں لیا۔ میرے خلاف آپ کارروائی عمل میں لائیں مگر الزمات کی انکوائری کروائیں۔
عدالت نے میر شکیل اور عامرغوری سے سوال کیا کہ آپ کی بھی ذ مہ داری تھی ایسی اسٹوری کیسے چھپی؟مجھے بتائیں کہ آپ کی کوئی ایڈیٹوریل پالیسی نہیں ہے؟
اس کیس کے سلسلے میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے نہ تو انھوں نے اس وقت کے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک سے ملاقات کی اور نہ ہی انہوں نے نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت نہ دینے کے سلسلے میں کسی کو ہدایات دی تھیں، جب وہ خود پاکستان کے چیف جسٹس تھے تو انھیں سابق وزیر اعظم کو جیل میں رکھنے سے متعلق کسی جج سے ملاقات کرنے یا ہدایات دینے کی کیا ضرورت تھی۔ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اس لیے وہ اس بیان پر چارہ جوئی کرکے رانا شمیم کے اس بیان کو اہمیت نہیں دینا چاہتے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم، میر شکیل الرحمان، عامر غوری اور انصار عباسی کو شوکاز نوٹس جاری کردیئے۔

Leave a Reply

Back to top button
Click to listen highlighted text!