سیاحت

میروں کے دیس میں: قسط 11 ہومیوپیتھک ڈاکٹر کی مہمان نوازی اور ہم

جس ہوٹل میں ہمارا قیام تھا۔ اس سے ذرا پہلے سکائی ویز ہوٹل کی U شکل کی عمارت کے نیچے پی آئی اے والوں کا بکنگ آفس تھا۔ جس کے ساتھ الشفاء ہومیوکلینک تھا۔ عمران بھائی اور میں کلینک کے اندر چلے گئے۔ ایک خوش شکل اور خوش مزاج ڈاکٹر ہمارا منتظر تھا۔ جس کے چہرے پر سجی مسکراہٹ اس کا ٹریڈ مارک معلوم ہوتی تھی۔
ڈاکٹر اقبال اس کلینک کے روح رواں تھے۔ ان سے تفصیلی تعارف ہوا۔
کند ہم جنس باہم جنس پرواز
کبوتر با کبوتر، باز با باز
کے مصداق ہومیوپیتھ ہونے کے ناطے عمران بھائی کی رگ ہومیوپیتھی پھڑکی اور پھر اس موضوع پر خوب تبادلہ خیال ہوا۔
یہ بھی پڑھیں! میروں کے دیس میں: قسط 10 بدھا کی چٹان اور طلسم ہوشربا…… عرفان ریاض
ڈاکٹر اقبال نے روایتی مہمان نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمیں اچھے انداز سے Serve کیا۔ ڈاکٹر نے ہمیں بتایا کہ ان کے والد گلگت کے مقامی ہسپتال میں ایلوپیتھک ڈاکٹر تھے۔ پریکٹس کے دوران انہیں ہومیوپیتھی یعنی ”علاج بالمثل“ سے دلچسپی پیدا ہوئی۔ انہوں نے باقاعدہ ڈی ایچ ایم ایس کی ڈگری حاصل کی اور گلگت کے پہلے ہومیو ڈاکٹر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ یوں اس پورے علاقے میں ہومیوپیتھی کو روشناس کروانے اور اس کی ترویج و ترقی کا سہرا بھی ڈاکٹر اقبال کے والد کے سر بندھتا ہے۔ جنہوں نے ہسپتال سے ریٹائرمنٹ کے بعد یہاں پہلا باقاعدہ ہومیوکلینک بنایا۔ ہومیوپیتھی سے ان کے شغف کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے دونوں بڑے بیٹے بھی ہومیو ڈاکٹرز ہیں۔
ڈاکٹر اقبال نے اپنے بارے میں بتایا کہ انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے ڈپلومہ حاصل کیا اور ہاؤس جاب وہیں مکمل کرنے کے بعد پریکٹس کے لئے گلگت واپس آ گئے جبکہ ان کے بڑے بھائی سکردو میں پریکٹس کرتے ہیں (اگلے روز وہیں کلینک پر ان سے بھی ملاقات ہوگئی)۔ کلینک میں لگی تصاویر، شیلڈز اور اسناد سے اندازہ ہوتا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کو ہومیوپیتھی سے متعلقہ کانفرنسوں اور سیمیناروں میں شرکت کا بھی کافی شوق ہے۔ انہی کی زبانی معلوم ہوا کہ انہیں اس سیمینار میں شرکت کے لئے لاہور جانا ہے۔ لیکن گزشتہ چند روز سے خراب مو سم کی وجہ سے فلائٹ مسلسل لیٹ ہو رہی تھی اور بائی روڈ جانے سے وہ بھی گریزاں تھے۔ ہمارے بیٹھے ہی انہوں نے پی آئی اے کے آفس فون کیا لیکن فلائٹ کنفرم نہ ہونے کی وجہ سے انہیں نیٹکو میں اپنے لئے بکنگ کروانا پڑی۔ ڈاکٹر اقبال سے اجازت لے کر ہم باہر آئے تو قریب ہی واقع ٹی ڈی سی پی کے آفس میں گھس گئے، وہاں سے کچھ انفارمیشن اور بروشرز لے کر کمرے میں واپس آ گئے۔

Leave a Reply

Back to top button