سیاحت

سفرنامہ: میروں کے دیس میں: قسط 1 بلاوے کی گھنٹیاں…… عرفان ریاض

پیٹر بخسل نے کہا تھا کہ انسان چاہے کیسی ہی زندگی کیوں نہ بسر کرے، عیش و عشرت کی یا غربت کی، میڈرڈ میں بارسلونا میں …… یا کسی اور جگہ بالآخر روز روز کا معمول ایک جیسا ہوتا ہے اور انسان کا دل اچاٹ ہونے لگتا ہے۔ ایک سا دن، ایک سی رات اور ایک سی زندگی سے طبیعت اکتا جاتی ہے۔ اطمینان مفقود ہو جاتا ہے۔ کیونکہ یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ سکون کا متلاشی ہوتے ہوئے بھی ایک خاص وقت میں سوت کی انٹی کی طرح ایک ہی مدار پر چکر کاٹتی زندگی سے فرار چاہتا ہے، کچھ نئے اور انوکھے تجربات کی لذت سے آشنا ہونا چاہتا ہے۔ اس آشنائی کیلئے وہ آوارہ گرد بنتا ہے۔ خانہ بدوشوں کا سوانگ بھرتا ہے، اجنبی دیسوں کا سفر کرتا ہے۔ آرزوؤں اور تمناؤں کے انبار کو اسی دنیا میں چھوڑ کر جہا ں لوگ زندگی کے کنویں میں خواہش کے ڈول ڈالے منتظر رہتے ہیں، وہ ذات کے کرب سے خوفزدہ ہو کر ذات کی بازیافت کیلئے گھر سے بے گھر ہوتا ہے…… جنت نظیر وادیوں کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔
یہ مبالغہ نہیں، حقیقت ہے کہ اس دنیا میں اب بھی ایسے خطے موجود ہیں، جن پر جنت کا گماں ہی نہیں ہوتا بلکہ ان کو بلا شک و شبہ جنت ارضی قرر دیا جا سکتا ہے، ان میں ایک کشش سی ہوتی ہے ان کیلئے جو اسے محسوس کرتے ہیں، یہ بلاتے ہیں ”ہمارے پاس آؤ“ اور بندہ بے خود ہو کر ان کی آواز پر لبیک کہتا ہے، ان کی طرف کھنچا چلا جاتا ہے۔ یہ بلاوا کسی بھی وقت آسکتا ہے۔ بس انسان کو منتظر رہنا چاہئے اور منتظر وہی رہتے ہیں جنہیں بلاوا آنا ہو اور بلاوے کی گھنٹیاں ان کیلئے بجتی ہیں جن کے دماغوں میں آوارگی کا جنون ہوتا ہے، سیاحت کی دیوانگی ہوتی ہے، جن کے بدن انجانے تجربوں کے لمس کیلئے بے قرار رہتے ہیں۔
یہی وہ دنیائیں ہیں جو بقول مستنصر حسین تارڑ ”مالک نے صرف خانہ بدوشوں کیلئے بنائی ہیں آوارہ گردوں کیلئے تخلیق کی ہیں“ یہ دنیائیں ان کی ہیں جن میں ان تک پہنچنے کی سکت ہوتی ہے، جو ان کیلئے زمانوں کا سفر کرتے ہیں، ایسی دنیاؤں میں سے ایک وادی ہنزہ ہے۔
جہاں قراقرم اور ہندوکش گلے ملتے ہیں،
جہاں سیاہ پہاڑ سفید ردائیں اوڑھتے ہیں۔
جو پہاڑی دیوتاؤں کی سرزمین ہے۔
جو برفوں کا دیس ہے۔
جہاں طلسم ہوشربا ہے۔
جہاں راکاپوشی اپنی چمکتی برفوں اور جھلملاتی چاندنیوں کے ساتھ سیاحوں کی منتظر رہتی ہے۔
جس کے درخت، جس کی چوٹیوں اور جس کی ہر چیز میں ایک عظمت، ایک وقار، ایک دبنگ پایا جاتا ہے اور سارا وقت انسان ایک ان دیکھی عظمت سے مرعوب رہتا ہے۔
جو جمال خداوندی اور جلال خداوندی کا حسین امتزاج ہے۔ جہاں پاکستان، افغانستان، روس، ترکستان اور چینی ترکستان کی سرحدیں ملتی ہیں۔
جہاں خوبانیوں کے شگوفے کھلتے ہیں۔
جہاں گداگر نہیں ہوتے۔
جہاں ہاسی گوا محو خواب ہے۔
جہاں فطرت بے حجاب نظر آتی ہے اور منظر بے نقاب دکھائی دیتے ہیں۔
جو بلا شبہ برف پوش چٹانوں کا ایمفی تھیٹر ہے۔
جہاں ایسے منظر ہیں جن کو دیکھتے آدمی تھکتا نہیں۔ اس کی ہوس ختم نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک بار دیکھا دوسری بار دیکھنے کی ہوس میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
جو تصور سے کہیں حسین ہے۔
جہاں بلتت کا سحر انگیز فیئری ٹیل قلعہ ہے۔
وادی ہنزہ…… خدا کی بنائی ہوئی جنت ارضی، جس کے دروازے ہر اس شخص کیلئے وا ہیں جو یہاں آنے کی ہمت رکھتا ہے۔ اپنی جان جوکھوں میں ڈالنے کی جرأت رکھتا ہے۔ چند سال قبل ”ڈونلڈ کنگ“ کا مضمون "Hunza Valley”نظر سے گزرا۔ ایک عجیب کشش تھی۔ اس نام میں اک سحر تھا جس نے اسیر کر لیا۔ مستنصر حسین تارڑ کی ”ہنزہ داستان“ نے سونے پر سہاگہ کا کام کرتے ہوئے اس جنت ارضی کو دیکھنے کی خواہش کو کئی آتشہ کر دیا۔
ہنزہ…… ایک خواب تھا جو چند برس قبل ہماری آنکھوں میں اترا تھا اور جب بلاوے کی گھنٹیاں بجیں تو ہم اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کیلئے نکلے۔ بقول عمران بھائی جو نہ صرف اس سفر میں میرے ہمرکاب تھے بلکہ وہ ہی اس کے روح رواں بھی تھے، ہنزہ ان خواہشوں میں سے ایک ہے جو ٹھہرے پانیوں کی طرح انسان کے اندر ٹھہر جاتی ہیں۔ گاہے بگاہے ان میں ارتعاش ہوتا رہتا ہے اور کبھی یہ ارتعاش اتنا شدید ہو جاتا ہے کہ انسان متحرک ہو جاتا ہے اور ہم بھی متحرک ہو چکے تھے۔ (جاری ہے)

Leave a Reply

Back to top button